Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

سپر ال نینو سے دنیا میں ریکارڈ گرمی کا خدشہ، 2026 اور 2027 گرم ترین سال بن سکتے ہیں

سپر ال نینو سے دنیا میں ریکارڈ گرمی کا خدشہ، 2026 اور 2027 گرم ترین سال بن سکتے ہیں

بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھنے اور ال نینو کے طاقتور ہونے سے دنیا بھر میں شدید گرمی کے نئے ریکارڈ قائم ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے یورپی موسمیاتی نگرانی کے ادارے کوپرنیکس کے سربراہ کارلو بوونٹیمپو کے مطابق موجودہ صورت حال کے باعث 2026 بھی دنیا کا گرم ترین سال بن سکتا ہے، جبکہ ماہرین کے نزدیک 2027 میں اس سے بھی زیادہ گرمی ریکارڈ ہونے کا امکان ہے
ال نینو کیا ہے؟
ال نینو بحرالکاہل کے استوائی حصے میں رونما ہونے والا قدرتی موسمی عمل ہے، جس میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے بڑھ جاتا ہے اس تبدیلی سے ہواؤں، بارشوں اور دنیا کے مختلف خطوں کے موسم پر اثر پڑتا ہے بعض علاقوں میں شدید گرمی اور خشک سالی بڑھ سکتی ہے، جبکہ دوسرے علاقوں میں غیر معمولی بارشوں اور سیلاب کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے
یہ عمل عموماً ہر 2 سے 7 برس کے درمیان سامنے آتا ہے اور تقریباً 9 سے 12 ماہ جاری رہ سکتا ہے تاہم موجودہ ال نینو اس لیے زیادہ تشویش کا باعث ہے کہ یہ پہلے ہی غیر معمولی شدت اختیار کر رہا ہے اور ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انسانی سرگرمیوں کے باعث عالمی درجہ حرارت پہلے ہی بڑھ چکا ہے
یورپی ادارے کوپرنیکس کے مطابق بحرالکاہل کے اس حصے میں، جسے نینو 3.4 کہا جاتا ہے اور جہاں ال نینو کی شدت پر نظر رکھی جاتی ہے، ستمبر میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت 29.70 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ یہ اس خطے میں ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطح تھی اور 1982 سے 1983، 1997 سے 1998 اور 2015 سے 2016 کے طاقتور ال نینو ادوار کی بلند ترین سطحوں سے بھی زیادہ تھی
عالمی سمندروں کی سطح کا اوسط درجہ حرارت بھی ستمبر میں 21.05 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو ستمبر 2023 کے 20.92 ڈگری کے سابقہ ریکارڈ سے زیادہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سمندروں میں گرمی کی مقدار مسلسل بڑھ رہی ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ ال نینو کے باعث بحرالکاہل میں جمع ہونے والی گرمی فضا میں منتقل ہوگی، جس سے عالمی درجہ حرارت مزید بڑھ سکتا ہے عام طور پر ال نینو کا اثر اس کے عروج کے بعد آنے والے سال میں بھی نمایاں رہتا ہے، اسی لیے 2027 کے گرم ترین سال بننے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں
تاہم سائنس دانوں نے واضح کیا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ موجودہ ال نینو تاریخ کا سب سے طاقتور واقعہ ثابت ہوگا مختلف موسمیاتی ادارے اس کی شدت جانچنے کے لیے الگ الگ پیمانے استعمال کرتے ہیں موسمیاتی تبدیلی کے باعث سمندروں کا بنیادی درجہ حرارت پہلے ہی بلند ہونے سے پرانے اور نئے واقعات کا براہ راست موازنہ بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے
عالمی موسمیاتی تنظیم کے 8 اکتوبر کے جائزے کے مطابق بحرالکاہل میں ال نینو کی شدت میں مزید اضافے کا امکان ہے اور اکتوبر سے دسمبر 2026 کے دوران سمندر کے درجہ حرارت میں معمول سے تقریباً 3.7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ کا فرق متوقع ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ سطح دستیاب ریکارڈ میں غیر معمولی ہوگی
اس موسمی عمل کے اثرات دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہو سکتے ہیں بعض علاقوں میں خشک سالی سے فصلوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے، پانی کی قلت بڑھ سکتی ہے اور جنگلات میں آگ لگنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے دوسرے علاقوں میں شدید بارشیں، سیلاب اور طوفانی موسم زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں
جنوبی ایشیا، بشمول پاکستان اور بھارت، میں بارشوں کے معمول میں تبدیلی زرعی پیداوار اور پانی کی دستیابی کو متاثر کر سکتی ہے اگر بارشیں کم ہوں تو کسانوں کو فصلوں کے لیے آبپاشی پر زیادہ انحصار کرنا پڑے گا، جبکہ شدید گرمی سے فصلوں، مویشیوں اور انسانی صحت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے تاہم کسی مخصوص علاقے میں بارشوں یا گرمی کی حتمی صورت حال کا انحصار مقامی موسمی حالات پر بھی ہوگا
پاکستان میں پہلے ہی گرمی کی لہروں، پانی کی کمی اور سیلاب جیسے مسائل کا سامنا کیا جا چکا ہے جیکب آباد اور سندھ کے دیگر گرم علاقوں میں شدید گرمی معمولات زندگی، محنت کشوں کی صحت اور بجلی کی طلب کو متاثر کرتی ہے اگر عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو کم آمدنی والے خاندانوں، کھلے آسمان تلے کام کرنے والے افراد اور پانی کی قلت سے متاثرہ علاقوں کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں
ماہرین کے مطابق ال نینو قدرتی عمل ہے، لیکن انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی عالمی حدت اس کے اثرات کو مزید شدید بنا سکتی ہے کوئلہ، تیل اور گیس جلانے سے فضا میں جمع ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں زمین کی حرارت کو باہر نکلنے سے روکتی ہیں اس وجہ سے جب ال نینو سمندروں سے اضافی گرمی فضا میں منتقل کرتا ہے تو عالمی درجہ حرارت پہلے سے بلند سطح پر پہنچ سکتا ہے
اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے حکومتوں کو گرمی کی لہروں سے تحفظ، پانی کے بہتر انتظام، زرعی منصوبہ بندی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا شہریوں کے لیے بھی شدید گرمی کے دوران پانی کا مناسب استعمال، دھوپ میں غیر ضروری طور پر نکلنے سے گریز اور موسم سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کرنا اہم ہوگا
موجودہ صورت حال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی موسمی عوامل مل کر دنیا کے لیے بڑے چیلنج پیدا کر سکتے ہیں اگر ال نینو کی شدت پیش گوئی کے مطابق بڑھتی رہی تو 2026 اور 2027 میں عالمی درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہونے کا امکان موجود ہے، تاہم حتمی نتیجہ سال کے باقی مہینوں کے موسمی حالات اور سائنسی مشاہدات پر منحصر ہوگا

قومی خبریں سے مزید