ایران کو ایک اور امریکی حملے کا خدشہ، جوہری تنصیبات مضبوط، عوام کو ممکنہ جنگ کے لیے تیار کرنے لگا
ایران نے امریکہ کے ممکنہ نئے حملوں کے خدشے کے پیش نظر اپنی دفاعی تیاریاں تیز کر دی ہیں، حساس مقامات اور جوہری تنصیبات کو مزید محفوظ بنایا جا رہا ہے جبکہ عوام کو ایک اور جنگ کے لیے ذہنی اور عملی طور پر تیار کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں،امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکومت کو یقین ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات کے بعد دوبارہ حملے کا حکم دے سکتے ہیں،تہران ان تیاریوں کو امریکی حملوں کی حوصلہ شکنی اور ممکنہ جنگ کے دائرے کو محدود رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہا ہے
رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنی حساس تنصیبات اور سرحدی علاقوں کے دفاع کو مضبوط بنانے میں مصروف ہے تاکہ ممکنہ فضائی حملوں کے اثرات کم کیے جا سکیں،ایرانی حکام نے علاقائی ممالک کے نمائندوں سے عوامی اور نجی رابطوں میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملے کیے تو تہران مشرق وسطیٰ میں زیادہ وسیع اور شدید جوابی کارروائی کر سکتا ہے،اس طرح ایران نے واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ کسی نئے امریکی حملے کی صورت میں تنازعہ صرف ایران تک محدود رہنے کی ضمانت نہیں ہوگی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حکومت عوام کو بھی ممکنہ جنگ کے لیے تیار کر رہی ہے،نیم فوجی دستوں کے ارکان کو کنڈرگارٹن کے بچوں کے سامنے جنگ سے متعلق واقعات اور کہانیاں سنانے کے لیے بھیجا جا رہا ہے، جبکہ کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے طیارہ شکن میزائلوں کے استعمال کی تربیت کی تشہیر اور عوامی اجتماعات کے ذریعے قومی مزاحمت کا پیغام دیا جا رہا ہے،ان اقدامات کا مقصد ممکنہ جنگ کے لیے عوامی حمایت کو متحرک کرنا اور معاشرے کو ایک نئے فوجی تصادم کے امکان سے ذہنی طور پر ہم آہنگ کرنا دکھائی دیتا ہے
وال اسٹریٹ جرنل کے تجزیے کے مطابق ایران کی فوجی مشکلات بھی اس حکمت عملی کو سمجھنے میں اہم ہیں،جدید امریکی لڑاکا طیاروں، بلند پرواز بمبار طیاروں اور کروز میزائلوں کے خلاف ایران کی دفاعی صلاحیت محدود ہے،ایسی صورت میں تہران کے لیے ایک اہم راستہ یہ ہے کہ وہ ممکنہ حملے کی قیمت امریکہ اور اس کے خلیجی اتحادیوں کے لیے اتنی بڑھانے کی دھمکی دے کہ واشنگٹن فوجی کارروائی سے گریز کرے،تاہم، یہ دھمکیاں کسی حملے کو روکنے میں کتنی مؤثر ثابت ہوں گی، اس کا انحصار امریکہ کے فیصلوں اور خطے میں طاقت کے توازن پر ہوگا
رپورٹ ایران کی اندرونی صورت حال کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے،امریکی دباؤ اور گہرے ہوتے معاشی بحران کے باعث ایرانی عوام مہنگائی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں،اخبار کے تجزیے کے مطابق حکومت کی جارحانہ زبان، جنگی تیاریوں کی تشہیر اور قومی مزاحمت پر زور دینے کا ایک مقصد اندرونی معاشی پریشانیوں سے توجہ ہٹانا بھی ہو سکتا ہے،
ایران کی موجودہ حکمت عملی بیک وقت دو پیغامات دیتی ہے،ایک طرف وہ اپنی دفاعی کمزوریوں کے باوجود امریکہ کو خبردار کر رہا ہے کہ نیا حملہ وسیع علاقائی تصادم کا سبب بن سکتا ہے، دوسری طرف وہ اپنے عوام کو ایک طویل اور غیر یقینی بحران کے لیے تیار کر رہا ہے،بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا یہ تیاری اور دھمکیاں جنگ کو روکنے میں مدد دیں گی یا دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتا ہوا عدم اعتماد مشرق وسطیٰ کو ایک اور بڑے فوجی تصادم کے قریب لے جائے گا





