Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو جیل میں وکلا سے ملاقات کی اجازت دینے کا حکم

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو جیل میں وکلا سے ملاقات کی اجازت دینے کا حکم

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو جیل میں اپنے وکلا سے ملاقات کی اجازت دینے کا حکم دے دیا ہے عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے کی کارروائی آگے بڑھانے کے لیے ملزمان کو اپنے قانونی نمائندوں تک رسائی دینا ضروری ہے دونوں نے عدالت میں شکایت کی تھی کہ انہیں اپنے وکلا سے مناسب رابطے کا موقع نہیں مل رہا، جس سے منصفانہ سماعت کے حق کے بارے میں خدشات پیدا ہو رہے ہیں
12 اکتوبر 2026 کو جج طاہر عباس سپرا کی سربراہی میں ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے وکلا ریاضت علی آزاد، زینب جنجوعہ اور ایمل خان کو جیل میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے ملاقات کی اجازت دینے کی ہدایت کی ایمان مزاری کی والدہ اور سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری بھی وکلا کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں، جبکہ ایمان اور ہادی نے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت میں شرکت کی
یہ مقدمہ ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کی آمد کے موقع پر سکیورٹی کے لیے لگائی گئی رکاوٹیں ہٹانے اور عوام کو بدامنی پر اکسانے کے الزامات سے متعلق ہے عدالت نے 7 اکتوبر کو دونوں کے خلاف الزامات باقاعدہ طور پر عائد کیے تھے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں مقدمے کی دستاویزات کی نقول فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ہی اپنے وکلا سے ملاقات کا مناسب موقع دیا گیا
سماعت کے دوران دفاعی وکیل ریاضت علی آزاد نے کہا کہ منصفانہ سماعت کے لیے ضروری ہے کہ وکلا اپنے مؤکلوں سے ملاقات کرکے مقدمے کے حقائق سمجھ سکیں ان کا کہنا تھا کہ دفاعی ٹیم کو یہ بھی واضح طور پر معلوم نہیں کہ مبینہ واقعہ کہاں اور کس طرح پیش آیا انہوں نے عدالت سے کارروائی ملتوی کرنے کی درخواست بھی کی کیونکہ 10 اکتوبر کے عدالتی حکم کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جا رہا ہے
جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ اگر ہائی کورٹ میں دائر درخواست منظور ہو جاتی ہے تو اس عدالت میں جاری کارروائی بھی ختم ہو سکتی ہے تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمے کی روزانہ بنیادوں پر سماعت ہونی چاہیے استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ابھی 9 گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہونا باقی ہیں
ہادی علی چٹھہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کے طریقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اور ان کی اہلیہ کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا جا رہا ان کے مطابق وہ 8 ماہ سے جیل میں ہیں اور موجودہ حالات میں اپنے مقدمے کا مؤثر دفاع کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ عدالت کو خود فیصلہ کرنا ہے کہ ان پر عائد الزامات درست ہیں یا نہیں، اس لیے انہیں عدالت میں پیش ہونے کا موقع ملنا چاہیے
ہادی نے جیل میں وکلا سے ملاقات کے دوران رازداری کے معاملے پر بھی تشویش ظاہر کی ان کے مطابق ملاقات کے لیے مختص جگہ پر کیمرے نصب ہیں، جس کی وجہ سے وکیل اور مؤکل کے درمیان خفیہ قانونی مشاورت متاثر ہوتی ہے انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وکیل سے ہونے والی گفتگو کا راز محفوظ رہنا منصفانہ قانونی دفاع کے لیے اہم ہے
اس دوران عدالت کے سامنے اڈیالہ جیل انتظامیہ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹس میں تضاد کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ 10 اکتوبر کو ایمان مزاری کو ایک مقدمے میں ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا تھا، لیکن سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر سے متعلق دوسرے مقدمے میں جیل انتظامیہ نے بتایا کہ اسی روز انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کے باعث ایمان کو ویڈیو لنک پر پیش نہیں کیا جا سکا
جج طاہر عباس سپرا نے دونوں رپورٹس میں واضح فرق پر حیرت کا اظہار کیا اور جیل انتظامیہ سے سوال کیا کہ کیا رپورٹس جمع کرانے سے پہلے انہیں پڑھا بھی جاتا ہے یا صرف نقل کرکے جمع کرا دیا جاتا ہے عدالت نے اس معاملے پر جیل حکام کو نیا اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ایمان مزاری کو 19 اکتوبر کو متعلقہ مقدمے میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائے
عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے مقدمے کی مزید سماعت 14 اکتوبر تک ملتوی کر دی اس معاملے میں آئندہ کارروائی کے دوران وکلا تک رسائی، ملزمان کی پیشی اور مقدمے کی منصفانہ سماعت سے متعلق اعتراضات اہم رہیں گے

قومی خبریں سے مزید