دہلی میں نوجوانوں کی تحریک کچلنے کی کوشش الٹی پڑ گئی؟ مودی حکومت کے خلاف احتجاج پھیل گیا، الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا
نئی دہلی،بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف نوجوانوں کی تحریک اور اپوزیشن کی مشترکہ مزاحمت کا سامنا ہے،10 اکتوبر کو دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر بلائے گئے احتجاج کو پولیس نے بھاری نفری، رکاوٹوں اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے ذریعے محدود کرنے کی کوشش کی، لیکن اگلے 2 دن میں احتجاج ختم ہونے کے بجائے مختلف مقامات پر دوبارہ سامنے آیا،12 اکتوبر کو رائٹرز کے مطابق کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے سپریم کورٹ کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کیا، جبکہ نوجوانوں کی تحریک نے نئے احتجاج کے لیے پولیس سے تاریخ طلب کرنے کا فیصلہ کیا،اس طرح انتخابی فہرستوں کا تنازعہ اب صرف الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج نہیں رہا بلکہ پرامن مظاہروں کے حق اور حکومت کے طرز عمل پر بھی سوال اٹھا رہا ہے
10 اکتوبر کے مظاہرے میں کتنے افراد شریک ہوئے، اس بارے میں مختلف خبروں میں اعداد و شمار یکساں نہیں ہیں،پولیس نے جنتر منتر تک پہنچنے والے مظاہرین کو مختلف مقامات پر روکا اور حراست میں لیا، جس کے باعث کوئی ایک مستند اور متفقہ تعداد سامنے نہیں آئی،بھارتی اخبار بزنس اسٹینڈرڈ نے رپورٹ کیا کہ شام 5 بجے تک 7,000 افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات تھیں، جبکہ اس کی رپورٹ کی سرخی میں 3,000 افراد کی گرفتاری کا ذکر بھی ہے،یہ اعداد گرفتاریوں سے متعلق ہیں، احتجاج میں شریک افراد کی مجموعی تعداد نہیں،اتنا ضرور واضح ہے کہ انتظامیہ نے دارالحکومت کے وسط میں احتجاج کو روکنے کے لیے غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے تھے
رائٹرز کے مطابق انتخابی فہرستوں پر تنازعہ اس وقت مزید بڑھا جب گزشتہ سال شروع ہونے والی نظرثانی کے دوران 130 ملین سے زیادہ نام ووٹر فہرستوں سے حذف کیے گئے،الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ان میں تقریباً 28 ملین ایسے افراد شامل تھے جو وفات پا چکے تھے، 63 ملین دوسری جگہ منتقل ہو چکے تھے اور 30 ملین افراد کا سراغ نہیں مل سکا تھا،اپوزیشن کا الزام ہے کہ اس عمل میں مسلم ووٹروں اور دیگر اقلیتوں کو غیر متناسب نقصان پہنچا اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ ہو سکتا ہے،الیکشن کمیشن اور بی جے پی ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نااہل یا دہرے اندراجات ختم کرنا ضروری ہے اور غلط طور پر حذف کیے گئے ووٹر دوبارہ اندراج کرا سکتے ہیں
اس تنازعہ کا سیاسی پہلو یہ ہے کہ انتخابی فہرستوں کی درستگی پر اختلاف اب چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی غیر جانب داری اور ادارے پر عوامی اعتماد کے سوال سے جڑ گیا ہے،بھارتی میڈیا نے 10 اکتوبر کے احتجاج کے اپنے تجزیوں میں نشاندہی کی ہے کہ تحریک نے عدالتی درخواستوں اور الیکشن کمیشن کے سامنے اعتراضات سے آگے بڑھ کر سڑکوں پر عوامی احتجاج کی شکل اختیار کر لی ہے،تجزیے کے مطابق اس تحریک میں مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کا اکٹھا ہونا اہم ہے، جبکہ حکومت کا ردعمل زیادہ تر امن و امان کے مسئلے کے طور پر سامنے آیا ہے،تاہم، اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ تمام مظاہرین ایک ہی سیاسی ایجنڈے پر متفق ہیں یا حکومت کے خلاف کوئی متحدہ انتخابی محاذ مکمل طور پر قائم ہو چکا ہے
پولیس کارروائی کے حوالے سے بھی تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے،کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے راجیہ سبھا رکن جان برٹاس نے الزام لگایا کہ پولیس اور مرکزی ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں نے انہیں حراست میں لیتے ہوئے زبردستی بس میں بٹھایا، نشست پر دبایا اور سانس لینے میں دشواری پیدا کی،ان کے مطابق انہوں نے اپنی پارلیمانی حیثیت بتائی لیکن اس کے باوجود ان کے ساتھ سخت برتاؤ کیا گیا،ٹائمز آف انڈیا نے 11 اکتوبر کو ان کا بیان رپورٹ کیا،تاہم، ایک منتخب رکن پارلیمنٹ کی جانب سے اس نوعیت کے الزام نے پولیس کے اختیارات اور احتجاج کے دوران حراست کے طریقہ کار پر مزید سوالات اٹھائے ہیں
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنما ابھیجیت ڈپکے، سوراو داس اور آشوتوش رانکا کو حراست سے رہا کر دیا گیا، لیکن ان کی رہائی کے ساتھ ایک سال تک امن و امان کی خلاف ورزی نہ کرنے کی شرط کا ذکر بھی سامنے آیا ہے،تحریک کے رہنماؤں نے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا،اتوار، 11 اکتوبر کو دہلی کے مختلف حصوں میں چھوٹے گروہوں نے دوبارہ مظاہرے کیے، جنہیں پولیس نے منتشر کیا اور بعض افراد کو پھر حراست میں لیا،اس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ 10 اکتوبر کا احتجاج کسی ایک دن کے اجتماع تک محدود نہیں رہا
12 اکتوبر کی تازہ صورتحال میں رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ دہلی میں 6 میٹرو اسٹیشن بند کیے گئے اور 20 سے زیادہ سڑکوں پر ٹریفک کی پابندیاں اور متبادل راستے نافذ کیے گئے،کانگریس نے سپریم کورٹ کی طرف مارچ کرکے چیف جسٹس کو یادداشت پیش کرنے کا اعلان کیا، جس میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی روکنے اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ شامل ہے،تاہم، چیف جسٹس سوریا کانت نے کانگریس وفد سے ملاقات کی درخواست قبول نہیں کی اور اسے معاملہ عدالتی طریقہ کار کے ذریعے اٹھانے کا مشورہ دیا،دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی نے کہا کہ وہ پولیس سے نئے پرامن احتجاج کی تاریخ طے کرنے کے لیے رابطہ کرے گی
رائٹرز نے نوجوانوں کی اس تحریک کو مودی اور بی جے پی کے لیے گزشتہ 12 برسوں کے دوران سامنے آنے والے نمایاں سیاسی چیلنجوں میں سے ایک قرار دیا ہے،تحریک صرف ووٹر فہرستوں تک محدود نہیں،۹اس کے ساتھ نوجوانوں میں روزگار، سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت اور امتحانات میں بے ضابطگیوں جیسے مسائل بھی جڑے ہوئے ہیں،جولائی میں اسی تحریک کے احتجاج کے بعد مودی حکومت کے وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا تھا، جو حکومت کے لیے ایک نمایاں سیاسی دھچکا تھا،لیکن ایک وزیر کے استعفے اور چیف الیکشن کمشنر کے مستقبل کو ایک ہی پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا، کیونکہ دونوں کے قانونی اور آئینی تقاضے مختلف ہیں
اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا پڑے گا یا یہ احتجاج بھی وقت گزرنے کے ساتھ کمزور پڑ جائے گا؟ موجودہ شواہد کی بنیاد پر کسی بھی نتیجے کو یقینی قرار نہیں دیا جا سکتا،احتجاج جاری رہنا، اپوزیشن جماعتوں کا ایک پلیٹ فارم پر آنا اور پولیس کارروائی پر تنقید حکومت کے لیے سیاسی دباؤ ضرور بڑھاتے ہیں، لیکن چیف الیکشن کمشنر کو صرف عوامی مظاہروں کی وجہ سے خودکار طور پر عہدہ چھوڑنا نہیں پڑے، اس معاملے میں آئینی اور قانونی طریقہ کار اہم ہوگا،اسی طرح، اگر احتجاج کا دائرہ محدود ہو جائے، اپوزیشن جماعتیں مشترکہ حکمت عملی برقرار نہ رکھ سکیں یا حذف شدہ ووٹروں کے معاملے میں اصلاحی اقدامات شروع ہو جائیں تو تحریک کی شدت کم بھی ہو سکتی ہے
مجموعی طور پر 12 اکتوبر کی صورتحال یہ بتاتی ہے کہ دہلی میں احتجاج ختم نہیں ہوا، بلکہ اس کی شکل تبدیل ہو رہی ہے،جنتر منتر تک رسائی روکنے کے بعد مظاہرے مختلف مقامات پر سامنے آئے، اپوزیشن نے سپریم کورٹ کی طرف مارچ کا اعلان کیا اور پولیس کے طرز عمل پر بحث تیز ہوئی،اب مودی حکومت کے لیے اصل امتحان صرف سڑکوں پر امن برقرار رکھنا نہیں بلکہ انتخابی فہرستوں کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کا قابل اعتماد جواب دینا بھی ہے،اگر الیکشن کمیشن شفاف وضاحت اور مؤثر شکایتی نظام کے ذریعے عوامی اعتماد بحال نہیں کر پاتا تو یہ تنازعہ مزید سیاسی شکل اختیار کر سکتا ہے،اس کے برعکس، اگر حذف شدہ ناموں کی جانچ، غلطیوں کی اصلاح اور قانونی اعتراضات کے حل میں قابل تصدیق پیش رفت ہوتی ہے تو حکومت کے لیے دباؤ کم کرنے کا راستہ بھی موجود ہے،فی الحال چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ مودی حکومت نے اس معاملے پر کوئی حتمی پسپائی اختیار کر لی ہے





