نیویارک میں امیگریشن حکام کی کارروائی پر ڈیموکریٹ امیدوار کی شدید تنقید، مظاہرین کے تحفظ میں پولیس کی ناکامی پر سوالات
نیویارک میں کانگریس کی نشست کے لیے ڈیموکریٹ امیدوار داریالیزا آویلا شیولیئر نے وفاقی ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی کارروائی اور مظاہرین کے تحفظ کے حوالے سے نیویارک پولیس کے کردار پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے،ان کا کہنا ہے کہ پولیس کا طرزِ عمل شہر کے پناہ گزینوں کے تحفظ سے متعلق قوانین کی روح، اگر مکمل طور پر ان کے الفاظ کی بھی نہیں، خلاف ورزی کے مترادف ہے
برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق مین ہیٹن کے علاقے ماربل ہل میں اس وقت احتجاج شروع ہوا جب آئی سی ای کے ایک اہلکار نے 28 سالہ آسکر بیلگل کو گولی مار کر زخمی کر دیا،واقعے کے وقت وہ اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا اور پچھلی نشست پر 5 سالہ بچہ بھی موجود تھا،بچہ جسمانی طور پر محفوظ رہا، جبکہ زخمی شخص کو اسپتال منتقل کیا گیا
رپورٹ کے مطابق آسکر بیلگل کی حالت مستحکم بتائی گئی تھی، تاہم بعد میں آئی سی ای نے مبینہ طور پر اسے دوبارہ اپنی تحویل میں لے لیا،امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ بیلگل امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم تھا
داریالیزا آویلا شیولیئر نے مظاہروں کے دوران پولیس کے کردار اور مظاہرین کو تحفظ فراہم کرنے میں مبینہ ناکامی پر سوال اٹھائے،نیویارک کے پناہ گزینوں سے متعلق قوانین مقامی پولیس کو وفاقی امیگریشن حکام کی جانب سے شہری امیگریشن قوانین نافذ کرنے کی کارروائیوں میں مدد دینے سے روکتے ہیں
یہ واقعہ نیویارک میں وفاقی امیگریشن کارروائیوں، مقامی پولیس کے اختیارات اور تارکین وطن کے حقوق سے متعلق جاری بحث کو مزید نمایاں کرتا ہے





