Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کارنی کی امریکی روسی ڈیزل معاہدے پر تنقید، کہا روس کو جنگ کے لیے مزید رقم ملے گی

کارنی کی امریکی روسی ڈیزل معاہدے پر تنقید، کہا روس کو جنگ کے لیے مزید رقم ملے گی

کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس سے ڈیزل خریدنے کے معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے روس کو اضافی آمدنی حاصل ہوگی، جسے وہ یوکرین کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے کارنی نے اتوار 11 اکتوبر کو یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران واضح کیا کہ یہ معاہدہ یورپ میں امن قائم کرنے کے لیے کینیڈا، یوکرین اور اس کے اتحادیوں کی کوششوں کے خلاف ہے
امریکی صدر ٹرمپ نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ امریکہ روس سے لاکھوں ٹن ڈیزل حاصل کرنے کے معاہدے پر عمل کرے گا یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے اور مغربی ممالک روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کرکے اس کی جنگی مالی معاونت محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
کینیڈین وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق کارنی نے زیلنسکی کو یقین دلایا کہ کینیڈا روس کے خلاف پابندیاں برقرار رکھے گا اور جہاں مؤثر ثابت ہو وہاں انہیں مزید سخت بھی کیا جا سکتا ہے کینیڈا اب تک روس کی جانب سے یوکرین کی خودمختاری کی خلاف ورزیوں کے جواب میں 3,500 سے زیادہ پابندیاں عائد کر چکا ہے
کارنی اور زیلنسکی نے یوکرین کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ کینیڈا نے یوکرین کو فوجی امداد کی مد میں 8.5 ارب ڈالر سے زیادہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، جبکہ یوکرین کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے 750 ملین ڈالر سے زیادہ کی معاونت بھی مختص کی گئی ہے حال ہی میں دونوں ملکوں کے رہنماؤں نے یوکرین کے فضائی دفاع کے لیے 355 ملین ڈالر کی اضافی امداد کا اعلان بھی کیا تھا
امریکہ میں روس سے ڈیزل خریدنے کے فیصلے پر سیاسی اختلافات بھی سامنے آئے ہیں بعض امریکی قانون سازوں نے اس معاہدے کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس نے 2022 میں روس کی توانائی کی درآمدات پر پابندی عائد کی تھی تاکہ روسی حکومت کو یوکرین کے خلاف جنگ کے لیے مالی وسائل فراہم نہ ہوں ری پبلکن سینیٹر تھام ٹلس سمیت بعض قانون سازوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نیا معاہدہ اس قانون سے متصادم ہو سکتا ہے دوسری جانب امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ دستیاب قانونی اختیارات کے تحت اس معاہدے کو آگے بڑھائے گی
ٹرمپ نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس سے ڈیزل کی فراہمی امریکی صارفین کے لیے ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے تاہم توانائی کے بعض ماہرین کے مطابق روسی ڈیزل کی اضافی فراہمی سے امریکی منڈی میں قیمتوں پر نمایاں اثر پڑنے کا امکان محدود ہے، جبکہ روس کو اس تجارت سے مالی فائدہ پہنچ سکتا ہے
اس تنازع کے دوران ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ روس اور یوکرین توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کے لیے جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں زیلنسکی نے اس اعلان کا خیرمقدم کیا، تاہم کہا کہ انہیں ابھی تک وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس معاہدے کی مکمل تفصیلات موصول نہیں ہوئیں انہوں نے واضح کیا کہ روس کو عملی طور پر اپنے حملے روکنا ہوں گے
زیلنسکی کے مطابق گزشتہ ہفتے روس نے یوکرین کے بجلی پیدا کرنے اور ترسیل کے نظام پر 200 سے زیادہ حملے کیے، جبکہ گیس اور تیل کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا یوکرین کو موسم سرما سے پہلے اپنے توانائی کے نظام اور فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کی شدید ضرورت ہے
دلچسپ بات یہ ہے کہ کارنی نے اسی روز ٹرمپ سے بھی گفتگو کی اور یوکرین اور روس کے درمیان توانائی کی جنگ بندی کی کوششوں کی حمایت کی اس طرح کینیڈا نے جنگ بندی کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے روس سے ڈیزل خریدنے کے امریکی معاہدے کی مخالفت کی ہے کینیڈا کے مؤقف کے مطابق جنگ بندی اور امن کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ روس کو ایسی اضافی آمدنی فراہم نہ کی جائے جو اس کی جنگی صلاحیت برقرار رکھنے میں مدد دے
یہ معاملہ امریکہ، کینیڈا اور یورپی اتحادیوں کے درمیان روس کے خلاف پابندیوں اور یوکرین کی حمایت سے متعلق پالیسیوں کے لیے اہم بن گیا ہے اصل سوال یہ ہے کہ آیا روس سے ایندھن خریدنے کے ذریعے امریکی منڈی میں قیمتیں کم کرنے کی کوشش، یوکرین میں جنگ ختم کرنے کے مغربی ممالک کے مقصد سے متصادم ثابت ہوگی یا دونوں اہداف کے درمیان کوئی قابل عمل راستہ نکالا جا سکے گا

قومی خبریں سے مزید