Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ریاض ایئرپورٹ پر میزائل حملوں کے بعد ٹرمپ کا حوثیوں کے خلاف سعودی کارروائیوں میں شامل ہونے کا عندیہ، امریکی فوجی مداخلت کا خطرہ بڑھ گیا

ریاض ایئرپورٹ پر میزائل حملوں کے بعد ٹرمپ کا حوثیوں کے خلاف سعودی کارروائیوں میں شامل ہونے کا عندیہ، امریکی فوجی مداخلت کا خطرہ بڑھ گیا

واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کے خلاف سعودی عرب کی فوجی کارروائیوں میں شامل ہونے پر غور کر سکتا ہے،ان کا یہ بیان سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملوں اور حالیہ دنوں میں کم از کم 18 افراد کی ہلاکتوں کے بعد سامنے آیا ہے،ان حملوں کے باعث دارالحکومت میں فضائی آمدورفت بھی تقریباً مکمل طور پر معطل ہونے کی اطلاعات ہیں
ٹائم میگزین کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے ہفتے کے روز وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ سعودی کارروائیوں میں شامل ہو سکتا ہے اور اس معاملے کا جائزہ لیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ انہیں تازہ حملے کی اطلاع ابھی ملی ہے اور انتظامیہ اس بارے میں فیصلہ کرے گی،ٹرمپ کے مطابق، امریکہ فیصلے کرنے میں تیزی سے کام کرتا ہے
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ہفتے کے روز ایک میزائل سعودی عرب کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینلز 3 اور 4 پر مشتمل عمارتوں کے کمپلیکس سے ٹکرایا،سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس حملے میں 12 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے،حوثی گروپ نے ہفتے کے اس تازہ حملے کی فوری طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم اس سے پہلے ہفتے کے دوران ہوائی اڈے پر حملوں کا دعویٰ کیا تھا
ریاض کے ہوائی اڈے پر حملے سعودی عرب کی سلامتی اور خطے میں جاری کشیدگی کے لیے ایک سنگین پیش رفت ہیں،اگر امریکہ سعودی کارروائیوں میں براہ راست شریک ہونے کا فیصلہ کرتا ہے تو یمن میں جاری تنازعہ مزید وسیع ہوسکتا ہے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے،تاہم، ٹرمپ کے بیان میں امریکی فوجی مداخلت کے امکان کا ذکر کیا گیا ہے، کسی حتمی فیصلے یا فوجی کارروائی کے آغاز کا اعلان نہیں کیا گیا
اس معاملے میں اہم سوال یہ ہے کہ آیا واشنگٹن سعودی عرب کو سیاسی، انٹیلی جنس یا فوجی مدد فراہم کرنے تک محدود رہے گا، یا امریکی افواج حوثی اہداف کے خلاف براہ راست کارروائی بھی کریں گی،اس کا جواب امریکی انتظامیہ کے آئندہ فیصلوں اور سعودی عرب پر حملوں کی مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگا

قومی خبریں سے مزید