Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے بعد بڑا موڑ، سہیل آفریدی کی گرفتاری کا دعویٰ، لانگ مارچ کا مستقبل غیر یقینی

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے بعد بڑا موڑ، سہیل آفریدی کی گرفتاری کا دعویٰ، لانگ مارچ کا مستقبل غیر یقینی

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک ایک نئے اور غیر معمولی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے،وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کی گرفتاری کے دعووں نے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے، تاہم ان گرفتاریوں کی باضابطہ سرکاری تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی
11 اکتوبر کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی سفارش پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی منظوری دی،وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اقدامات کیے ہیں، جن کے نتیجے میں صوبائی حکومت کے اختیارات معطل کرکے انتظامی معاملات گورنر کے ماتحت لانے کا فیصلہ کیا گیا،وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی اور وفاق کے ساتھ تعاون میں ناکام رہی، جبکہ پی ٹی آئی نے اس اقدام کو اپنے انتخابی مینڈیٹ اور جمہوری نظام کے خلاف قرار دیا ہے
سہیل آفریدی کی موجودہ صورت حال کے بارے میں اطلاعات میں اہم تبدیلی سامنے آئی ہے،مقامی ذرائع کی ابتدائی رپورٹوں کے مطابق ایمرجنسی کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد وہ مردان سے پشاور پہنچے تھے، جہاں وزیراعلیٰ ہاؤس میں پارٹی رہنماؤں اور منتخب نمائندوں کے ساتھ مشاورت کی اطلاع دی گئی،تاہم بعد ازاں پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر دعویٰ کیا کہ انہیں اور سہیل آفریدی کو گرفتار کر لیا گیا ہے،پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی شاہد خٹک کی جانب سے بھی گرفتاری کا دعویٰ سامنے آیا
دستیاب رپورٹوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے ان گرفتاریوں کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی گئی،سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ لانگ مارچ میں سہیل آفریدی کے استعمال میں رہنے والا کنٹینر چارسدہ میں سڑک کے کنارے خالی کھڑا تھا،یہ ویڈیوز بذات خود اس بات کا قطعی ثبوت نہیں کہ سہیل آفریدی کو گرفتار کیا جا چکا ہے یا وہ کس مقام پر موجود ہیں
لانگ مارچ کے مستقبل کے حوالے سے بھی صورت حال تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے،سہیل آفریدی نے 10 اکتوبر کو مردان میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے کسی غیر قانونی اقدام کو قبول نہیں کیا جائے گا،اس وقت کے طے شدہ منصوبے کے مطابق قافلے کو 12 اکتوبر کو صوابی پہنچنا تھا، جہاں سے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جانا تھا؟پی ٹی آئی کی قیادت نے اس سے پہلے کہا تھا کہ مارچ عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر جاری رہے گا،تاہم گرفتاری کے تازہ دعووں کے بعد یہ واضح نہیں کہ قافلہ مقررہ پروگرام کے مطابق آگے بڑھے گا یا قیادت اپنی حکمت عملی تبدیل کرے گی
سہیل آفریدی کی گرفتاری کا امکان اس لیے بھی اہم ہے کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کا معاملہ پہلے سے موجود ہے،30 ستمبر کو اسلام آباد میں 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سہیل آفریدی، جنید اکبر اور دیگر رہنماؤں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ دوبارہ جاری کیے تھے،دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ نے سہیل آفریدی سمیت 27 پی ٹی آئی رہنماؤں کی مقدمات کی تفصیلات اور حفاظتی ضمانت سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے لیے 20 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی تھی،
سیاسی اور آئینی اعتبار سے اس صورت حال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ، صوبائی حکومت کے اختیارات کی معطلی اور کسی سیاسی رہنما کی گرفتاری کو ایک ہی قانونی اقدام نہیں سمجھا جا سکتا،ایمرجنسی کے بعد صوبائی انتظامیہ کے اختیارات میں تبدیلی ضرور آئی ہے، لیکن سہیل آفریدی کی گرفتاری کے لیے متعلقہ قانونی بنیاد اور کارروائی کی الگ تصدیق درکار ہوگی،اسی طرح یہ کہنا بھی قبل از وقت ہوگا کہ لانگ مارچ مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے،تازہ دستیاب اطلاعات میں گرفتاری کے دعوے موجود ہیں، مگر مارچ کے خاتمے کا کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا
اس وقت بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی قیادت سہیل آفریدی اور جنید اکبر کی مبینہ گرفتاریوں کے بعد احتجاج کو پشاور یا صوابی سے آگے بڑھانے کی کوشش کرے گی، یا قیادت کی گرفتاریوں کے دعوے مارچ کی رفتار اور تنظیمی رابطوں کو متاثر کریں گے،وفاقی حکومت کے لیے بھی صورت حال محض انتظامی تبدیلی تک محدود نہیں، کیونکہ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ ایک بڑے سیاسی احتجاج اور امن و امان کو برقرار رکھنے کا چیلنج بھی موجود ہے
فی الحال سب سے محتاط اور حقائق پر مبنی نتیجہ یہی ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ ہو چکی ہے، پی ٹی آئی نے اپنے دو اہم رہنماؤں کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے، لیکن سہیل آفریدی کے حتمی مقام، گرفتاری کی سرکاری تصدیق اور لانگ مارچ کے اگلے مرحلے کے بارے میں صورت حال ابھی پوری طرح واضح نہیں،آنے والے گھنٹوں میں پارٹی قیادت، سرکاری حکام اور موقع پر موجود ذرائع کے بیانات اس سیاسی بحران کی سمت متعین کرنے میں اہم ہوں گے

قومی خبریں سے مزید