Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مودی کو ’’وزیراعظم امبانی‘‘ کہہ کر ایلون مسک کا طنز، بھارت میں انٹرنیٹ کی اجارہ داری پر کھلا وار، اسٹارلنک تنازع امبانی بمقابلہ مسک کی لڑائی بن گیا؟

مودی کو ’’وزیراعظم امبانی‘‘ کہہ کر ایلون مسک کا طنز، بھارت میں انٹرنیٹ کی اجارہ داری پر کھلا وار، اسٹارلنک تنازع امبانی بمقابلہ مسک کی لڑائی بن گیا؟

ایلون مسک نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ’’وزیراعظم امبانی‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے بھارت میں انٹرنیٹ کی اجارہ داری پر براہ راست سوال اٹھا دیا ہے،اسٹارلنک کے مالک کی یہ طنزیہ ٹویٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب بھارت میں ان کی کمپنی کو انٹرنیٹ سروس شروع کرنے کی اجازت اور مارکیٹ میں مسابقت کے حوالے سے تنازعہ جاری ہے،مسک نے اپنی پوسٹ میں مکیش امبانی کو بھارت کا اصل طاقتور شخص قرار دینے کے تاثر کے ساتھ مودی حکومت پر بھی بالواسطہ تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ اگر اسٹارلنک دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کر سکتا ہے تو اسے بھارتی مارکیٹ میں مقابلے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی؟
مسک نے اپنی ٹویٹ کا آغاز وزیراعظم امبانی سے مخاطب ہو کر معذرت کے طنزیہ انداز میں کیا اور لکھا کہ انہیں یہ سمجھنے میں دیر ہوئی کہ بھارت کے اصل سربراہ امبانی ہیں،اس کے بعد انہوں نے کہا کہ امبانی یقیناً بھارت کے عوام کے استحصال پر مبنی اپنی اجارہ داری برقرار رکھنا چاہیں گے، لیکن کیا وہ اس کے باوجود اسٹارلنک کو مقابلے کی اجازت دینے پر غور کریں گے؟
مسک نے اپنی دلیل میں کہا کہ بھارت سمیت دنیا کے متعدد علاقوں میں اب بھی انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں،ان کے مطابق اسٹارلنک ان علاقوں کے بچوں کو تعلیم اور چھوٹے کاروباروں کو عالمی منڈی تک رسائی کے مواقع فراہم کر سکتا ہے اور اس طرح لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لا سکتا ہے،تاہم، ان کے اس مؤقف کے ساتھ ایک واضح تجارتی مفاد بھی جڑا ہے، کیونکہ اسٹارلنک بھارتی مارکیٹ میں داخل ہو کر اپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کے صارفین بڑھانا چاہتا ہے
مسک کے ٹویٹ کا سیاسی پہلو بھی اہم ہے،بھارت میں اپوزیشن جماعتوں اور بعض حلقوں کی جانب سے طویل عرصے سے یہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ بڑے کاروباری گروپوں، خصوصاً مکیش امبانی اور گوتم اڈانی، کو مودی حکومت کے دور میں غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل ہوا ہے،مسک نے ’’وزیراعظم امبانی‘‘ کی اصطلاح استعمال کر کے اسی تنقید کو اپنے انداز میں عالمی سطح پر نمایاں کیا ہے،تاہم، یہ مسک کا طنزیہ سیاسی اظہار ہے، جو بھارت میں پہلے ہی ان دنوں عام ہے
اس تنازعہ کو محض دو ارب پتی کاروباری شخصیات کی ذاتی لڑائی قرار دینا بھی قبل از وقت ہوگا، لیکن اسٹارلنک کی بھارتی مارکیٹ میں داخلے کی کوشش اور مسک کی تازہ ٹویٹ نے اس سوال کو نمایاں کر دیا ہے کہ بھارت میں انٹرنیٹ کے شعبے میں مسابقت کی حدود کون طے کرتا ہے اور بڑے کاروباری مفادات کا حکومتی پالیسی پر کتنا اثر ہے،مسک کی تنقید سے یہ تاثر ضرور ابھرتا ہے کہ ان کی لڑائی صرف مارکیٹ تک رسائی کی نہیں بلکہ اس کاروباری نظام سے بھی ہے جسے وہ اجارہ داری قرار دے رہے ہیں
ان کی ٹویٹ میں مودی حکومت پر طنز، امبانی کے کاروباری اثر و رسوخ پر اعتراض اور اسٹارلنک کے لیے مارکیٹ کھولنے کا مطالبہ واضح ہے،فی الحال اس معاملے کا مرکزی سوال یہی ہے کہ آیا بھارت کی انٹرنیٹ مارکیٹ میں اسٹارلنک کو حقیقی مسابقت کا موقع ملے گا یا موجودہ کاروباری مفادات اس کی راہ میں رکاوٹ بنے رہیں گے، ادھر بھارت میں امریکی حکومت کے گزشتہ روز کے اقدام جس میں مائیکرو سوفٹ سے بھارت کی متعدد کمپنیوں کی جانب سے آی ٹی کے شعبے میں بھارتی ورکرز کی امریکہ میں ملازمتوں کے پسمنظر میں نئی پابندیوں پر بھی مبینہ طور پر ایلون مسک اور امبانی لڑائ کو وجہ سمجھا جارہا ہے

قومی خبریں سے مزید