ٹرمپ کا صومالی نژاد امریکیوں اور مسلمانوں کے خلاف نیا حملہ، مینیسوٹا میں وفاقی مداخلت کا مطالبہ، مسلم سینیٹ امیدوار کو بھی نشانہ بنا دیا
واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صومالی نژاد امریکی برادری اور مسلمانوں کے خلاف سخت بیان بازی کرتے ہوئے مینیسوٹا کی صورت حال کو خطرہ قرار دیا اور ریاستی حکام پر زور دیا کہ وہ وفاقی حکومت سے مداخلت کی درخواست کریں،صدر ٹرمپ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اس سے چند گھنٹے قبل انہوں نے مسلمان امریکی سینیٹ امیدوار عبدال السید کو بھی ’’انتہا پسند‘‘ قرار دیا تھا،ان بیانات پر شہری حقوق کے لیے کام کرنے والے حلقوں کی جانب سے اقلیتوں اور تارکین وطن کے خلاف نفرت انگیز زبان استعمال کرنے کے حوالے سے پہلے ہی تنقید کی جاتی رہی ہے
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ کبھی عظیم ریاست رہنے والا مینیسوٹا صومالی تارکین وطن کے قبضے میں جا رہا ہے اور ریاست بھر میں تشدد، قتل اور بدامنی پھیلی ہوئی ہے،انہوں نے ریاست کے شہریوں سے ’’مقابلہ کرنے‘‘ کا مطالبہ کیا اور حکام کو وفاقی مداخلت کے لیے درخواست دینے کا مشورہ دیا
ٹرمپ کے بیان میں صومالی نژاد امریکی برادری کو مجموعی طور پر بدامنی سے جوڑا گیا، تاہم خبر میں ایسی کوئی تفصیل نہیں دی گئی جو ان کے ریاست گیر دعوے کی آزادانہ تصدیق کرتی ہو؟صومالی نژاد امریکی شہریوں کی ایک بڑی تعداد مینیسوٹا میں آباد ہے اور وہ ریاست کی سماجی، معاشی اور سیاسی زندگی کا حصہ ہیں
صدر ٹرمپ ماضی میں بھی صومالی برادری کے خلاف سخت زبان استعمال کر چکے ہیں،شہری حقوق کے کارکنوں نے ان کے بیانات کو اقلیتوں اور تارکین وطن کے خلاف تعصب کو ہوا دینے والا قرار دیا ہے،ٹرمپ نے اس سے پہلے بھی صومالی باشندوں کو توہین آمیز انداز میں ’’کچرا‘‘ کہا تھا، جس پر تنقید ہوئی تھی
ٹرمپ اپنے بیانات میں مینیسوٹا میں سامنے آنے والے ایک مالیاتی اسکینڈل کا بھی بار بار حوالہ دیتے رہے ہیں،یہ معاملہ 2020 میں سامنے آیا تھا، جب ریاستی سطح پر چلنے والے اور وفاقی فنڈز سے چلنے والے بچوں کی غذائی معاونت کے پروگرام میں مبینہ طور پر لاکھوں ڈالر کے فراڈ کے الزامات سامنے آئے،اس کیس میں متعدد افراد پر فرد جرم عائد کی گئی، جن میں صومالی نژاد امریکی بھی شامل تھے،تاہم، کسی مخصوص مقدمے میں افراد کے خلاف الزامات کو پوری برادری کی ذمہ داری قرار نہیں دیا جا سکتا
اسی دوران ٹرمپ نے امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹ امیدوار عبدال السید کو بھی نشانہ بنایا، جو مسلمان ہیں،ٹرمپ نے انہیں ’’انتہا پسند‘‘ قرار دیا، لیکن فراہم کردہ رپورٹ کے اقتباس میں اس الزام کی حمایت میں کوئی مخصوص ثبوت پیش نہیں کیا گیا،اس بیان نے امریکی سیاست میں مذہبی شناخت، تارکین وطن اور انتخابی مہم کے دوران استعمال ہونے والی زبان پر بحث کو مزید تیز کر دیا ہے
اس معاملے کا اہم پہلو یہ ہے کہ صدر کے بیانات صرف انتخابی سیاسی تنقید تک محدود نہیں رہے بلکہ ایک پوری نسلی اور مذہبی برادری کو ریاست میں تشدد اور بدامنی سے جوڑتے ہیں،مینیسوٹا میں کسی مالیاتی اسکینڈل یا انفرادی جرائم کی تحقیقات اپنی جگہ، لیکن ان واقعات کو تمام صومالی نژاد امریکیوں کے رویے کا ثبوت قرار دینے کے لیے الگ اور قابل اعتماد شواہد درکار ہوں گے
ٹرمپ کے تازہ بیانات نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ امریکی صدر کی سیاسی زبان تارکین وطن اور مذہبی اقلیتوں کے بارے میں عوامی رویوں پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے، اور وفاقی مداخلت کے مطالبے کے پیچھے کون سے مخصوص حالات اور قانونی بنیادیں موجود ہیں،رائٹرز کی رپورٹ میں اس اقتباس کے اندر وفاقی مداخلت کے لیے کسی باضابطہ درخواست یا کسی نئے وفاقی اقدام کی تصدیق نہیں کی گئی، واضع رہے مسلمان کانگریس ویمن الہام عمر مینسوٹا کے ڈسٹرکٹ پانچ سے کانگریس کی رکن ہیں جنکے بارے میں سرکاری ذرائع تصدیق کرتے ہیں انکے خلاف وفاقی سطح پر تحقیقات کی جارہی ہیں جبکہ مینسوٹا کے سابق مسلمان کانگریس مین کیتھ ایلسن اس وقت مینسوٹا ریاست کے اٹارنی جنرل ہیں





