Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

آبنائے ہرمز میں ایرانی حملوں کی نئی لہر، ٹرمپ کے انتخابی وعدوں پر سوال، تیل پھر 105 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا

آبنائے ہرمز میں ایرانی حملوں کی نئی لہر، ٹرمپ کے انتخابی وعدوں پر سوال، تیل پھر 105 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا

نیویارک: امریکی وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے قبل ایران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے تیز کر دیے ہیں، جس سے عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہونے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی حکمت عملی پر دباؤ بڑھنے لگا ہے،واشنگٹن پوسٹ کی 8 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، امریکی انتظامیہ نے حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بحال ہونے کو اپنی کامیابی قرار دیا تھا، لیکن جہازوں پر حملوں میں تازہ اضافے نے اس پیش رفت کو پھر خطرے میں ڈال دیا ہے
اقوام متحدہ کے بحری ادارے اور بحری نگرانی کرنے والے ذرائع کے مطابق 28 ستمبر سے 5 اکتوبر کے دوران آبنائے ہرمز اور اس کے گرد و نواح میں کم از کم 9 جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بعض بحری سلامتی کے ذرائع نے حملوں، حملوں کی کوششوں اور دھمکی آمیز سرگرمیوں سمیت 12 واقعات ریکارڈ کیے،یہ ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد کسی ایک ہفتے میں پیش آنے والے ایسے واقعات کی بلند ترین تعداد ہے
تیل کی ترسیل کے اعداد و شمار صورت حال کی سنگینی واضح کرتے ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق ستمبر کے آخر اور اکتوبر کے آغاز میں آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 16 ملین بیرل خام تیل گزر رہا تھا، لیکن تازہ حملوں کے بعد یہ مقدار پیر تک تقریباً نصف رہ گئی،رائٹرز کی 8 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق منگل کو اس راستے سے صرف 7 تجارتی جہاز گزرے اور خام تیل کی نقل و حمل کم ہو کر تقریباً 10.1 ملین بیرل یومیہ رہ گئی
عالمی منڈی میں اس صورت حال کے اثرات بھی ظاہر ہونے لگے ہیں،فنانشل ٹائمز کے مطابق 8 اکتوبر کو برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 105 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی،تیل کی مسلسل مہنگائی امریکی صارفین کے لیے پٹرول اور دیگر ایندھن کے اخراجات بڑھا سکتی ہے، جس سے مہنگائی کم کرنے کے حکومتی دعووں پر دباؤ پڑے گا
یہ بحران ایسے وقت میں بڑھ رہا ہے جب 3 نومبر کو امریکی وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں،ان انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو کانگریس میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے انتخابی دباؤ کا سامنا ہے،ٹرمپ انتظامیہ کے لیے مسئلہ صرف تیل کی قیمت نہیں بلکہ یہ سوال بھی ہے کہ امریکی بحری کارروائیاں آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت کی ضمانت کیوں نہیں دے پا رہیں
8 اکتوبر کو صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر دوبارہ فوجی حملے نہیں کرے گا، کیونکہ تہران کے ساتھ بات چیت جاری ہے،تاہم، امریکی بحری ناکہ بندی برقرار رکھنے کا عندیہ بھی دیا گیا،اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائٹ ہاؤس ایک طرف ایران پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے اور دوسری طرف انتخابات سے پہلے جنگ میں مزید شدت کے معاشی اثرات سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے
ادھر یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کے درمیان لڑائی بھی شدت اختیار کر رہی ہے،سعودی عرب کے تیل سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات نے خلیج کے توانائی کے راستوں کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں،اس طرح بحران صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہا بلکہ خطے کے دوسرے اہم بحری اور توانائی کے راستوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے
مجموعی طور پر ایران کے حملے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک مشکل امتحان بن گئے ہیں،واشنگٹن کو ایک طرف عالمی تیل کی ترسیل محفوظ بنانے اور ایران کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنے کا دعویٰ برقرار رکھنا ہے، جبکہ دوسری طرف اسے یہ بھی دیکھنا ہے کہ جنگ کے معاشی اثرات امریکی ووٹروں کے فیصلوں پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں،انتخابات سے پہلے تیل کی قیمتوں اور بحری سلامتی کا یہ بحران ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کو براہِ راست داخلی سیاسی بحث کا موضوع بنا رہا ہے

قومی خبریں سے مزید