پاکستان میں غربت کی شدت میں اضافہ، عام خاندانوں کے لیے خوراک اور تعلیم کا حصول مشکل
پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت اور معاشی ناہمواری نے عام شہریوں کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے غربت کے بارے میں ایک حالیہ عالمی بینک رپورٹ کے مطابق، ملک کی بڑی آبادی انتہائی کم آمدنی میں زندگی گزار رہی ہے، جبکہ مہنگائی، روزگار کے محدود مواقع اور گھریلو آمدنی میں کمی کے باعث محنت کش خاندان اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اس صورت حال میں بچوں کی تعلیم، غذائیت اور خاندانوں کے معیار زندگی پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں
عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کی تقریباً 260 ملین آبادی میں سے لگ بھگ 20 فیصد افراد انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس معیار میں وہ لوگ شامل ہیں جن کی روزانہ آمدنی 3 امریکی ڈالر سے بھی کم ہے اگر غربت کی حد روزانہ 4.20 امریکی ڈالر رکھی جائے تو ملک کی تقریباً نصف آبادی اس دائرے میں آتی ہے۔ کالم نگار کے مطابق، ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں انتہائی غربت میں تقریباً 3 گنا اضافہ ہوا ہے
کالم میں کہا گیا ہے کہ غربت میں اضافے کی وجوہات میں کورونا وبا، 2022 کے تباہ کن سیلاب، بلند مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی اور طویل معاشی ایڈجسٹمنٹ شامل ہیں ان حالات نے گھریلو آمدنی اور روزگار کے مواقع کو متاثر کیا، جس کا سب سے زیادہ بوجھ محنت کش طبقے اور کم آمدنی والے خاندانوں پر پڑا
تحریر کے مطابق، معاشی بحران کے ساتھ ملک میں آمدنی اور دولت کی غیر مساوی تقسیم بھی بڑھ رہی ہے کالم نگار کا مؤقف ہے کہ طاقتور کاروباری طبقات، بڑے زمینداروں اور بااثر حلقوں کے مفادات کو تحفظ ملتا رہا ہے، جبکہ عام شہری قرضوں کے بوجھ، مہنگائی اور بنیادی ضروریات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نبرد آزما ہیں ان کے خیال میں عالمی بینک، عالمی مالیاتی فنڈ اور دیگر بیرونی شراکت داروں کی معاشی پالیسیوں کے اثرات کا بھی سنجیدہ جائزہ لیا جانا چاہیے
کالم میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی 2020 کی انسانی ترقی سے متعلق رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کے طاقتور حکمران طبقے کو مختلف براہ راست اور بالواسطہ رعایتوں کی مد میں سالانہ 17.4 ارب ڈالر کے فوائد حاصل ہونے کا تخمینہ پیش کیا گیا تھا کالم نگار کا کہنا ہے کہ اس کے بعد کے برسوں میں اس حوالے سے مزید تحقیق اور شفافیت کی ضرورت ہے
تحریر میں سیاسی نظام پر بھی تنقید کی گئی ہے کالم نگار کے مطابق، سیاسی جماعتوں کی توجہ اکثر اقتدار کی کشمکش، بااثر حلقوں کی حمایت حاصل کرنے اور سفارتی کامیابیوں پر مرکوز رہتی ہے، جبکہ غربت، طبقاتی ناہمواری اور عوام کی روزمرہ مشکلات کو وہ توجہ نہیں ملتی جس کی ضرورت ہے ان کے نزدیک مختلف حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود معاشی طاقت کی تقسیم اور پالیسی سازی کے بنیادی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی نہیں آ سکی
غربت کے اثرات اب صرف خوراک کی خریداری تک محدود نہیں رہے کالم کے مطابق، بہت سے خاندان پہلے کے مقابلے میں کم اور کم غذائیت والی خوراک استعمال کرنے پر مجبور ہیں بعض والدین گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے بچوں کو اسکول سے نکال کر کام پر لگانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ شدید معاشی دباؤ خاندانوں کی عزت نفس، ذہنی سکون اور مستقبل کے امکانات کو بھی متاثر کرتا ہے
کالم نگار نے اپنی تحریر کے اختتام پر فرانسیسی انقلاب سے منسوب مشہور فقرے ’’انہیں کیک کھانے دو‘‘ کی مثال دی ہے یہ فقرہ اس صورت حال کی علامت بن گیا ہے جس میں حکمران طبقہ عوام کی بنیادی ضروریات سے لاتعلق دکھائی دیتا ہے تحریر کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اگر معاشی ترقی کے ثمرات عام لوگوں تک نہ پہنچیں، روزگار کے مواقع بہتر نہ ہوں اور دولت کی غیر مساوی تقسیم برقرار رہے تو محض معاشی کامیابیوں کے اعلانات عوام کی مشکلات کم نہیں کر سکتے





