امریکی فوجی تاریخ کا غیر معمولی فیصلہ: فورٹ ہڈ حملے کے مجرم کی پھانسی براہِ راست نشر کرنے کا اعلان
واشنگٹن:امریکی محکمہ دفاع نے 2009 میں ٹیکساس کے فوجی اڈے فورٹ ہڈ میں 13 افراد کو ہلاک کرنے والے سابق فوجی افسر نڈال ملک حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کی کارروائی براہِ راست نشر کرنے کا اعلان کیا ہے،امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق اس اقدام کا مقصد عوام کو یہ دکھانا ہے کہ ایسے جرائم کے سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں
خبر رساں ادارے رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پھانسی 3 دسمبر 2026 کو دوپہر ایک بجے امریکی مرکزی وقت کے مطابق فورٹ ہڈ میں مقرر ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سزا کی منظوری دے دی ہے
نڈال ملک حسن امریکی فوج میں میجر اور نفسیاتی امراض کے معالج تھے،انہوں نے 5 نومبر 2009 کو فورٹ ہڈ کے فوجی اڈے پر فائرنگ کرکے 13 افراد کو ہلاک اور 32 کو زخمی کیا تھا،2013 میں فوجی عدالت نے انہیں منصوبہ بندی کے تحت قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی،مقدمے کے دوران حسن نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی
ہیگسیتھ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ پھانسی دیکھ سکیں، کیونکہ ان کے بقول عوام کو سمجھنا چاہیے کہ اس نوعیت کے جرائم کی سنگین قیمت ادا کرنا پڑتی ہے،انہوں نے فائرنگ اسکواڈ کے انتخاب کو بھی واضح اور غیر پیچیدہ فیصلہ قرار دیا
یہ فیصلہ امریکی فوجی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے،اگر مقررہ تاریخ پر سزا پر عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ 1961 کے بعد امریکی فوج کی پہلی پھانسی ہوگی، جبکہ فوجی فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے آخری پھانسی 1945 میں دی گئی تھی
تاہم، پھانسی کو براہِ راست نشر کرنے کے منصوبے نے سزائے موت کے نفاذ، حکومتی شفافیت اور انسانی وقار کے بارے میں نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں،حامیوں کے نزدیک یہ اقدام جرائم کے نتائج کو واضح کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے، جبکہ ناقدین کے لیے خدشہ ہے کہ ریاستی سزا کو عوامی تماشے میں تبدیل کیا جا رہا ہے،نشریات کے طریقۂ کار اور رسائی سے متعلق تمام تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں
اس معاملے کی اہمیت محض ایک مجرم کی سزا تک محدود نہیں،اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کو سزا کے نفاذ کو عوام کے سامنے براہِ راست پیش کرنا چاہیے، یا سزائے موت پر عمل درآمد کو محدود اور نجی رکھنا ریاستی انصاف کے وقار کے زیادہ مطابق ہے؟





