ایران سے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر ملنے کا دعویٰ، امریکہ نے رقم منتقلی کی تردید کردی
لبنان میں حزب اللہ کو ایران سے 20 کروڑ ڈالر ملنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے،رائٹرز کے مطابق دو ایسے ذرائع نے، جنہیں رقم کی منتقلی کا براہ راست علم ہے، بتایا کہ ایران نے یہ رقم رواں سال اسرائیل کے ساتھ جنگ سے متاثر ہونے والے اور بے گھر ہونے والے لبنانیوں کی مدد کے لیے حزب اللہ کو فراہم کی ہے
ذرائع کے مطابق حزب اللہ کو یہ رقم گزشتہ ماہ ایسے وقت میں موصول ہوئی جب ایران پر امریکی اقتصادی دباؤ مزید بڑھ چکا ہے اور تہران کے لیے لبنان میں اپنے اتحادی تک مالی وسائل پہنچانا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگیا ہے
حزب اللہ نے رواں سال 2 مارچ کو تہران کی حمایت میں علاقائی جنگ میں شمولیت اختیار کی تھی،جنگ کے دوران بڑی تعداد میں لبنانی شہری بے گھر ہوئے اور حزب اللہ کے حامی علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچا
تاہم امریکہ نے ایران سے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی منتقلی کے دعوے کو مسترد کردیا ہے،امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگٹ نے کہا کہ ایسی رقم موجود نہیں اور الزام عائد کیا کہ حزب اللہ ایران سے بڑی رقم آنے کی ’’جعلی کہانیوں‘‘ کے ذریعے اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کر رہی ہے،امریکی محکمہ خزانہ کے ایک ترجمان نے بھی کہا کہ ایران کے پاس اپنی ’’دہشت گردی کی مہم‘‘ کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کی گنجائش کم ہوتی جارہی ہے
حزب اللہ کے مخالفین طویل عرصے سے ایران سے ملنے والی مالی امداد کو تنظیم کے لیے بنیادی سہارا قرار دیتے رہے ہیں اور اس مالی راستے کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں،دوسری جانب اگر رائٹرز کے ذرائع کی جانب سے بیان کردہ رقم کی منتقلی درست ثابت ہوتی ہے تو یہ جنگ کے بعد حزب اللہ کے اپنے حامیوں اور بے گھر افراد کے لیے براہ راست بڑے مالی پیکیج کی ایک اہم مثال ہوگی
فی الحال اس معاملے میں بنیادی تضاد یہی ہے کہ دو براہ راست معلومات رکھنے والے ذرائع رقم کی منتقلی کا دعویٰ کر رہے ہیں جبکہ امریکی حکومت اس دعوے کی واضح تردید کر رہی ہے





