بجلی کمپنیوں کی نجکاری، سرمایہ کاروں نے معاہدوں کے دوبارہ کھولے جانے کے خدشات پر ضمانتیں مانگ لیں
پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا منصوبہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کے بحران کا سامنا کررہا ہے، کیونکہ ممکنہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے حکومت سے واضح قانونی ضمانتیں، مالی خطرات کی شفاف تقسیم اور مستقبل میں معاہدوں کو دوبارہ کھولنے سے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے
حکومت پہلے مرحلے میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کی نجکاری کی تیاری کررہی ہے ان کمپنیوں کے بارے میں ممکنہ سرمایہ کار اس وقت تفصیلی جانچ پڑتال کررہے ہیں، تاہم حالیہ پالیسی اور قانونی پیش رفت نے ان کے خدشات میں اضافہ کردیا ہے
سرمایہ کاروں کے خدشات کی ایک بڑی وجہ آزاد بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کے معاہدوں کو ماضی میں دوبارہ طے کرنا اور کے الیکٹرک سے متعلق حالیہ قانونی معاملات ہیں سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ نجکاری کے بعد بھی حکومت یا متعلقہ ادارے کسی وقت موجودہ معاہدوں اور شرائط پر نظرثانی کرسکتے ہیں، جس سے ان کی طویل مدتی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ سکتی ہے
ممکنہ خریداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت نجکاری کے بعد معاہدوں کے تحفظ کے لیے قانونی طور پر قابل عمل ضمانتیں فراہم کرے اور سیاسی خطرات سے نمٹنے کے لیے کثیر ملکی مالیاتی اداروں کی ضمانت یا رسک کوریج کا انتظام کرے سرمایہ کار موجودہ 20 سالہ لائسنس مدت کو بھی ناکافی سمجھتے ہوئے زیادہ طویل مدت چاہتے ہیں
اس سے قبل سرمایہ کاروں کی جانب سے ٹیرف کے حوالے سے بھی طویل مدتی یقین دہانی کا مطالبہ کیا گیا تھا ایک رپورٹ کے مطابق ممکنہ سرمایہ کار 7 سے 10 سال کی ملٹی ایئر ٹیرف مدت چاہتے ہیں تاکہ بجلی کی تقسیم کے طویل مدتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے انہیں زیادہ مالی یقین حاصل ہوسکے
حکومت کا مؤقف ہے کہ ڈسکوز کی نجکاری کا مقصد بجلی کے شعبے میں کارکردگی، سرمایہ کاری، مسابقت اور نجی شعبے کی شمولیت کو بہتر بنانا ہے وزیراعظم شہباز شریف بھی متعلقہ اداروں کو ہدایت دے چکے ہیں کہ نجکاری کے لیے بین الاقوامی معیار کے سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی جامع حکمت عملی اختیار کی جائے
حکومت نے ڈسکوز کی نجکاری کے لیے مالیاتی اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں بھی شروع کردی ہیں پارلیمانی کمیٹی کو ستمبر میں بتایا گیا تھا کہ پہلے مرحلے کی کمپنیوں کے لیے نجکاری کا عمل آگے بڑھ رہا ہے اور بعض کمپنیوں میں 51 فیصد سے 100 فیصد تک حصص کے ساتھ انتظامی کنٹرول بھی نجی سرمایہ کاروں کو منتقل کرنے کی تجویز ہے
حکومت کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک طرف خسارے اور انتظامی مسائل کا شکار بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں نجی سرمایہ کاری لائے اور دوسری طرف سرمایہ کاروں کو یہ یقین دلائے کہ نجکاری کے بعد قواعد، ٹیرف اور معاہدوں میں اچانک تبدیلی نہیں کی جائے گی
اگر حکومت سرمایہ کاروں کے قانونی اور مالی خدشات دور کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو ڈسکوز کی نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں سرمایہ کار واضح ضمانتوں کے بغیر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے سے محتاط نظر آتے ہیں





