البرٹا اور سسکیچیوان کے پریمیئرز نے ایلون مسک کی کینیڈا سے علیحدگی کی تجویز مسترد کردی
امریکی ٹیکنالوجی ارب پتی اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر ایلون مسک نے کینیڈا میں علیحدگی پسند تحریکوں کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑتے ہوئے کہا ہے کہ البرٹا اور سسکیچیوان کو بھی کینیڈا سے الگ ہوجانا چاہیے، تاہم دونوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے اس تجویز کو مسترد کردیا ہے
ایلون مسک نے 7 اکتوبر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کیوبیک کی آزادی کے حق میں سامنے آنے والی باتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کیوبیک کے لیے آزادی بہتر ہوگی اور اسی طرح البرٹا اور سسکیچیوان کو بھی کینیڈا سے الگ ہوجانا چاہیے
سسکیچیوان کے پریمیئر اسکاٹ مو نے مسک کی تجویز کا انتہائی مختصر جواب دیتے ہوئے صرف کہا، “نہیں
اسکاٹ مو اس سے قبل بھی واضح کرچکے ہیں کہ ان کی حکومت متحد کینیڈا کے اندر مضبوط اور ترقی کرتا ہوا سسکیچیوان چاہتی ہے تاہم وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر صوبے کے شہری علیحدگی کے معاملے پر عوامی ووٹنگ کا مطالبہ کرتے ہیں تو وہ اس عمل کو روکنے کی کوشش نہیں کریں گے
البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے بھی مسک کے مؤقف سے اختلاف کیا ہے اسمتھ واضح طور پر کہہ چکی ہیں کہ وہ خود کینیڈا کے اندر رہنے کے حق میں ووٹ دیں گی
البرٹا میں 19 اکتوبر کو ہونے والی صوبائی ووٹنگ میں شہریوں سے یہ فیصلہ طلب کیا جائے گا کہ آیا صوبہ کینیڈا کا حصہ برقرار رہے یا حکومت کو کینیڈا سے علیحدگی کے بارے میں ایک لازمی ریفرنڈم کرانے کا قانونی عمل شروع کرنا چاہیے
البرٹا میں علیحدگی کا معاملہ گزشتہ کئی ماہ سے سیاسی بحث کا اہم موضوع بنا ہوا ہے علیحدگی کے حامی وفاقی حکومت کی پالیسیوں، توانائی کے شعبے سے متعلق فیصلوں اور اوٹاوا کے ساتھ صوبے کے تعلقات پر اعتراضات کرتے رہے ہیں، جبکہ مخالفین کا مؤقف ہے کہ کینیڈا سے علیحدگی معاشی اور سیاسی طور پر انتہائی پیچیدہ اور خطرناک قدم ہوگا
ایلون مسک کی کینیڈین وابستگی بھی اس معاملے کو مزید دلچسپ بناتی ہے اگرچہ وہ جنوبی افریقہ میں پیدا ہوئے تھے، لیکن ان کے پاس کینیڈین شہریت بھی ہے ان کی والدہ سسکیچیوان میں پیدا ہوئیں اور وہ اپنی نوجوانی کے دوران وہاں ایک خاندانی فارم پر بھی وقت گزار چکے ہیں بعد ازاں مسک وینکوور منتقل ہوئے اور اونٹاریو کی کوئینز یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی
مسک کی جانب سے البرٹا اور سسکیچیوان کی علیحدگی کی حمایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب البرٹا میں علیحدگی کے معاملے پر باقاعدہ سیاسی ووٹنگ ہونے والی ہے، تاہم صوبائی اور وفاقی سطح پر کئی سیاسی رہنما اس خیال کی مخالفت کر رہے ہیں





