برطانیہ کا اسرائیلی سفارت کاروں کو ملک سے نکالنے پر غور، یروشلم قونصل خانہ بند کرنے پر سخت ردعمل
برطانیہ اسرائیل کی جانب سے مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کے فیصلے پر اسرائیلی سفارت کاروں کو ملک سے نکالنے کے امکان پر غور کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں دیرینہ اتحادیوں کے درمیان اسرائیلی بستیوں اور فلسطینی علاقوں سے متعلق پالیسی پر سفارتی کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے
اسرائیل نے 8 ستمبر کو برطانیہ کو حکم دیا تھا کہ وہ مشرقی یروشلم میں اپنا قونصل خانہ 30 دن کے اندر بند کرے اور وہاں تعینات اپنے سفارت کاروں کو شہر سے واپس بلائے یہ فیصلہ برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی اشیا کی تجارت پر پابندی عائد کرنے کے اعلان کے بعد کیا گیا تھا قونصل خانے کی بندش کی مقررہ مدت جمعرات کو ختم ہورہی ہے
ذرائع کے مطابق قونصل خانہ بند ہونے کی صورت میں برطانیہ اسرائیل کے لندن میں قائم سفارت خانے کے بعض اسرائیلی سفارت کاروں کو ملک سے نکال سکتا ہے تاہم یہ فیصلہ ابھی حتمی نہیں کیا گیا اور برطانیہ اب بھی اسرائیل کے ساتھ کسی سمجھوتے کے ذریعے قونصل خانے کی بندش رکوانے کی کوشش کر رہا ہے
مشرق یروشلم میں واقع برطانوی قونصل خانہ تقریباً 200 سال سے موجود ہے اور اسرائیل میں موجود برطانوی سفارت خانے سے الگ سفارتی کردار ادا کرتا ہے یہ قونصل خانہ مشرقی یروشلم، مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں سے متعلق برطانیہ کے سفارتی معاملات دیکھنے کے علاوہ فلسطینیوں کو قونصلر خدمات بھی فراہم کرتا ہے
برطانوی حکومت نے اسرائیلی بستیوں کے خلاف اپنی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے حملے دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا رہے ہیں برطانیہ نے گزشتہ سال فلسطینی ریاست کو بھی تسلیم کیا تھا
اسرائیل نے برطانوی اقدامات کو سختی سے مسترد کیا ہے اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے لندن پر اسرائیل کے داخلی معاملات اور رواں ماہ ہونے والے انتخابات میں مداخلت کا الزام عائد کیا ہے اسرائیلی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیل کے خلاف کسی بھی اقدام کا جواب دیا جائے گا
برطانوی قومی سلامتی کے مشیر جوناتھن پاول نے گزشتہ ہفتے خفیہ طور پر اسرائیل کا دورہ بھی کیا تاکہ قونصل خانے کی بندش روکی جاسکے، تاہم اس کوشش کے نتیجے میں ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا برطانیہ نے بعض یورپی ممالک سے بھی کہا ہے کہ وہ اسرائیل پر قونصل خانہ بند کرنے کا فیصلہ واپس لینے کے لیے زور دیں
اگر اسرائیل قونصل خانہ بند کرتا ہے اور برطانیہ جواباً اسرائیلی سفارت کاروں کو ملک سے نکالتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اتحادی ممالک کے درمیان ایک دوسرے کے سفارت کاروں کو ملک بدر کرنا غیر معمولی اقدام سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان اقتصادی، سکیورٹی اور انٹیلی جنس تعاون کئی دہائیوں سے موجود ہے
برطانیہ کے لیے یہ معاملہ صرف ایک قونصل خانے کی بندش تک محدود نہیں بلکہ فلسطینی علاقوں کے حوالے سے اس کی بڑھتی ہوئی سفارتی پالیسی اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں آنے والی تبدیلی کی بھی عکاسی کرتا ہے دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے قونصل خانے کی بندش کا فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اختلاف کو مزید گہرا کرنے کا باعث بن سکتا ہے






