پی ٹی آئی کا اسلام آباد مارچ اٹک پہنچنے والا، خیبر پختونخوا حکومت اور وفاق آمنے سامنے
پی ٹی آئی کا خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی جانب شروع کیا گیا لانگ مارچ اب اٹک کے قریب پہنچنے والا ہے، جہاں دریائے سندھ پر واقع خیرآباد پل اس احتجاج کا اہم ترین مقام بن گیا ہے مارچ کا آغاز 4 اکتوبر کو لکی مروت کے گنڈی چوک سے ہوا تھا اور شرکا مختلف اضلاع سے ہوتے ہوئے پشاور اور پھر صوابی کی جانب بڑھ رہے ہیں
منصوبے کے مطابق مارچ پشاور کے مٹنی علاقے سے گزرتے ہوئے رنگ روڈ کے ذریعے ایم 1 موٹروے پر جائے گا اور صوابی تک پہنچنے کے بعد موٹروے چھوڑ کر صوابی جہانگیرہ روڈ کے راستے خیرآباد کی طرف بڑھے گا یہ راستہ براہ راست موٹروے کے ذریعے دریائے سندھ عبور کرنے کے بجائے نسبتاً طویل ہے، جس پر سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں
خیرآباد اس لیے بھی انتہائی اہم ہے کہ یہاں سے خیبر پختونخوا اور پنجاب ایک دوسرے سے ملتے ہیں دوسری جانب تاریخی اٹک قلعہ بھی اسی علاقے پر نمایاں حیثیت رکھتا ہے وفاقی حکومت کی جانب سے احتجاجی مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے مختلف مقامات پر کنٹینرز لگائے گئے ہیں اور راستوں کو بند کرنے کی تیاریاں کی گئی ہیں
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں موجود کم از کم 2 اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ اصولی طور پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا جاچکا ہے، تاہم اس پر عملدرآمد کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پی ٹی آئی کا مارچ اسلام آباد میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے یا نہیں مارچ کے شرکا کو مبینہ طور پر واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ زبردستی اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کے سنگین سیاسی نتائج ہوسکتے ہیں
پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ پرامن احتجاج کرنا چاہتے ہیں اور کنٹینرز توڑنے یا پولیس سے تصادم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ پارٹی کے بعض رہنماؤں کے مطابق نہ غلیل استعمال ہوگی، نہ ڈنڈے اور نہ ہی کسی قسم کا اسلحہ اسی وجہ سے مارچ کے منتظمین نے ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس سے براہ راست تصادم کے امکانات کم رہیں
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ خیرآباد پہنچنے کے بعد مارچ کیا کرے گا کیا مظاہرین کنٹینرز کی رکاوٹیں عبور کرکے پنجاب میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے یا خیبر پختونخوا کی حدود میں ہی دریائے سندھ کے قریب دھرنا دے کر احتجاج جاری رکھیں گے اگر دھرنا طویل ہوتا ہے تو اسے برقرار رکھنا بھی ایک بڑا انتظامی مسئلہ ہوگا کیونکہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اور وسطی علاقوں کے لیے خوراک اور ایندھن کی ترسیل میں جی ٹی روڈ اہم کردار ادا کرتا ہے
پی ٹی آئی کے لیے اس مارچ کی قیادت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے بھی انتہائی اہم قرار دی جارہی ہے۔ 37 سالہ سہیل آفریدی، جنہیں نسبتاً کم سیاسی تجربہ حاصل ہے، عمران خان کی عدم موجودگی میں اس احتجاج کی قیادت کرکے پارٹی کے نمایاں ترین چہروں میں شامل ہوگئے ہیں
اگر سہیل آفریدی وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالنے اور عمران خان کے لیے اہم سیاسی رعایتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو ان کی سیاسی حیثیت پی ٹی آئی میں مزید مضبوط ہوسکتی ہے اس کامیابی کی صورت میں وہ پارٹی کے اندر ایک اہم اور بااثر رہنما کے طور پر ابھر سکتے ہیں
لیکن اگر مارچ اپنے مقاصد حاصل نہ کرسکا اور طویل احتجاج کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوگیا تو اس کا سیاسی نقصان بھی سہیل آفریدی کو اٹھانا پڑ سکتا ہے ان کے خلاف پہلے ہی الیکشن کمیشن میں نااہلی سے متعلق معاملہ زیر سماعت ہے جس پر پشاور ہائی کورٹ نے فی الحال حکم امتناع دے رکھا ہے، جبکہ وفاقی آئینی عدالت میں بھی ان کے خلاف ایک درخواست زیر التوا ہے
موجودہ صورتحال میں خیرآباد صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں بلکہ وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کا مرکزی میدان بن چکا ہے ایک طرف پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور سیاسی مطالبات کے لیے دباؤ بڑھانا چاہتی ہے، جبکہ دوسری طرف وفاقی حکومت اسلام آباد میں کسی بڑے احتجاج یا ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کی تیاری کررہی ہے





