ایرانی نوبیل انعام یافتہ نرگس محمدی کا جیل میں بدترین تشدد کا انکشاف
ایران کی انسانی حقوق کی کارکن اور نوبیل امن انعام یافتہ نرگس محمدی نے انکشاف کیا ہے کہ گرفتاری کے دوران ایرانی سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے باعث انہیں سر پر لگنے والی چوٹوں کے لیے 2 مرتبہ دماغ کا اسکین کرانا پڑا
برطانوی اخبار گارڈین کو انٹرویو میں 54 سالہ نرگس محمدی نے بتایا کہ دسمبر میں گرفتاری کے وقت سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا، لاتیں اور گھونسے مارے، جس سے ان کے پورے جسم پر شدید اور تکلیف دہ نیل پڑ گئے،ان کے مطابق تشدد کے بعد انہیں چکر، متلی اور قے کی شکایت رہی، تاہم حکام نے ان کے زخموں کا طبی اور فرانزک معائنہ کرانے کی اجازت نہیں دی
نرگس محمدی نے بتایا کہ شدید جسمانی چوٹوں کے باوجود انہیں فوری طور پر حراست میں منتقل کیا گیا اور تقریباً 2 ماہ تک قید تنہائی میں رکھا گیا،انہوں نے کہا کہ جیل میں واپسی کا خطرہ اب بھی ان کے لیے ہمیشہ موجود ہے، تاہم وہ مستقبل کے بارے میں امید رکھتی ہیں
نرگس محمدی کو ایران میں خواتین کے حقوق اور انسانی آزادیوں کے لیے جدوجہد پر 2023 میں نوبیل امن انعام دیا گیا تھا





