ناکام سزائے موت کے بعد کرسٹا پائیک ہوش میں آگئیں، بات بھی کر رہی ہیں
امریکی ریاست ٹینیسی میں گزشتہ ہفتے مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی ناکام کوشش کے بعد کرسٹا پائیک ہوش میں آگئی ہیں اور اب بات بھی کر رہی ہیں،ان کے وکلا کے مطابق وہ بدستور اسپتال میں انتہائی نگہداشت حاصل کر رہی ہیں تاہم ان کی صحت کے بارے میں حتمی پیش گوئی ابھی ممکن نہیں
پائیک کے وکلا نے 6 اکتوبر کو جاری بیان میں کہا کہ ان کے دونوں بازوؤں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور وہ اب بھی اسپتال کے بستر سے ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں بندھی ہوئی ہیں،وکلا کے مطابق ان کی بحالی طبی اعتبار سے غیر معمولی ہے اور مکمل صحت یابی میں طویل عرصہ لگ سکتا ہے
50 سالہ کرسٹا پائیک کو 30 ستمبر کو نیش وِل کی جیل میں پینٹوباربیٹل کی دو مہلک خوراکیں دی گئی تھیں، تاہم وہ زندہ رہیں اور انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کرنا پڑا،بعد ازاں وہ بے ہوش تھیں اور وینٹی لیٹر پر رکھی گئی تھیں
ٹینیسی محکمہ اصلاح نے تصدیق کی ہے کہ پائیک اب بھی اسپتال میں زیر علاج ہیں، تاہم وفاقی رازداری کے قوانین کے باعث ان کی طبی حالت کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی جاسکتیں،ریاستی حکام نے ناکام پھانسی کے بعد ٹینیسی میں رواں سال کی باقی تمام پھانسیوں کو روک کر واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا حکم دے رکھا ہے
پائیک کے وکلا بدھ کو عدالت میں ناکام پھانسی سے متعلق شواہد محفوظ رکھنے کے لیے اپنی درخواست پر سماعت میں پیش ہوں گے،ان کا مطالبہ ہے کہ پھانسی کے دوران استعمال ہونے والی ادویات، ریکارڈ اور دیگر متعلقہ شواہد محفوظ کیے جائیں،وکلا ٹینیسی کے گورنر سے پائیک کی سزائے موت کو بغیر پیرول کے عمر قید میں تبدیل کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں





