شہباز شریف کا دھرنوں سے معیشت رکنے کا دعویٰ، مگر سوال یہ ہے کہ عوام تک معاشی استحکام پہنچا کہاں؟
رپورٹ آفاق فاروقی
وزیراعظم شہباز شریف نے تحریک انصاف کو لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست ختم کرنے کی شرط پر مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ احتجاجی سیاست کا پہلا نشانہ معیشت بنے گی،ان کا کہنا ہے کہ ڈھائی سال کی محنت اور ٹیم ورک سے پاکستان کی معیشت کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کیا گیا ہے، میکرو اکنامک استحکام بڑی مشکل سے حاصل ہوا ہے اور اب برآمدات، درآمدات، صنعت اور ترقی کے عمل کو احتجاج کے ذریعے نقصان پہنچانا ملک کے مفاد میں نہیں،لیکن سرکاری دعوے اور زمینی معاشی تصویر کے درمیان ایک بنیادی سوال بدستور موجود ہے،اگر معیشت واقعی مضبوطی سے ترقی کر رہی ہے تو اس ترقی کا فائدہ عام پاکستانی کی آمدنی، روزگار، قوت خرید اور زندگی کے معیار میں کہاں دکھائی دے رہا ہے؟
اعداد و شمار کا پہلا حصہ وزیراعظم کے مؤقف کو کچھ حد تک تقویت دیتا ہے،پاکستان 2023 کی شدید معاشی اور زرمبادلہ کی بحران زدہ صورتحال سے نکل کر نسبتاً زیادہ مستحکم مرحلے میں داخل ہوا ہے،آئی ایم ایف کے مطابق مالی سال 2025 میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو تقریباً 3 فیصد رہی جبکہ مالی سال 2026 کے لیے پہلے 3.6 فیصد کی پیش گوئی کی گئی تھی،آئی ایم ایف نے مئی 2026 میں یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان نے معاشی استحکام، بیرونی مالی حالات اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری حاصل کی ہے
لیکن یہی اعداد ایک دوسری کہانی بھی سناتے ہیں،آئی ایم ایف کے اپریل 2026 کے جائزے میں جنگ اور توانائی کے جھٹکوں کے بعد مالی سال 2026 کی شرح نمو کا اندازہ تقریباً 3.5 سے 4 فیصد کے درمیان رکھا گیا، جبکہ مالی سال 2027 میں بھی ترقی تقریباً اسی سطح پر رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا،یعنی پاکستان بحران سے نکلنے کے بعد تیز رفتار ترقی کی طرف نہیں بلکہ نسبتاً کم رفتار بحالی کی طرف بڑھ رہا ہے
ورلڈ بینک کے تازہ اعداد کے مطابق پاکستان کی 2025 میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جبکہ فی کس آمدنی تقریباً 1,596 ڈالر تھی،یہ اضافہ اپنی جگہ مثبت ہے، مگر اتنی کم فی کس آمدنی والے ملک میں 3 سے 4 فیصد کی مجموعی شرح نمو کو اس وقت تک عوامی خوشحالی میں بڑی تبدیلی نہیں کہا جا سکتا جب تک روزگار، حقیقی اجرت، پیداوار اور انسانی ترقی میں بھی نمایاں بہتری نہ آئے
اصل مسئلہ یہاں سامنے آتا ہے،پاکستان نے جس ’’میکرو اکنامک استحکام‘‘ کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیا ہے، اس کا ایک اہم حصہ مہنگائی کو قابو کرنے، درآمدات محدود کرنے، مالی خسارہ کم کرنے، آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پوری کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر بہتر بنانے سے متعلق ہے،یہ مالیاتی استحکام ضروری ہے، مگر یہ خود بخود اس بات کا ثبوت نہیں کہ عام شہری زیادہ خوشحال ہو گیا ہے
پاکستان میں 2024 کے دوران مہنگائی انتہائی بلند سطح تک پہنچنے کے بعد ضرور نیچے آئی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اشیا کی قیمتیں واپس پرانی سطح پر آ گئیں،آئی ایم ایف کے اعداد کے مطابق مالی سال 2024 میں اوسط صارف مہنگائی 23.4 فیصد تھی، جو مالی سال 2025 میں تقریباً 4.5 فیصد تک آئی،یعنی قیمتوں میں اضافے کی رفتار کم ہوئی، قیمتوں کی سطح نہیں،مالی سال 2026 کے لیے آئی ایم ایف نے اوسط مہنگائی تقریباً 7.2 فیصد رہنے کا اندازہ دیا تھا
یہ فرق عام آدمی کے لیے انتہائی اہم ہے،اگر کسی خاندان کی آمدنی چند سال میں معمولی بڑھے لیکن خوراک، بجلی، گیس، پٹرول، کرایہ، تعلیم اور علاج کی قیمتیں اس سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہوں تو کم ہوتی ہوئی افراط زر اس خاندان کو لازماً پہلے سے بہتر حالت میں نہیں پہنچاتی،یہی وجہ ہے کہ حکومت کا ’’مہنگائی کم ہوگئی‘‘ کا دعویٰ اور عوام کا ’’زندگی مہنگی ہوگئی‘‘ کا تجربہ بیک وقت درست ہو سکتا ہے
تازہ تجارتی اعداد بھی اسی ملی جلی تصویر کی نشاندہی کرتے ہیں،پاکستان کے برآمدات میں رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 10.8 فیصد اضافہ ہوا اور برآمدات 8.42 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں،لیکن اسی مدت میں درآمدات 13.2 فیصد بڑھ کر 19.22 ارب ڈالر ہو گئیں اور تجارتی خسارہ 15.1 فیصد اضافے کے ساتھ 10.79 ارب ڈالر تک پہنچ گیا
یعنی برآمدات میں بہتری ایک مثبت علامت ضرور ہے، مگر اسے ابھی اس مقام پر نہیں پہنچایا جا سکتا جہاں پاکستان کو مستقل برآمدی معیشت کی طرف منتقل ہونے کا ثبوت مل جائے،خود سرکاری مشیر خزانہ نے برآمدات میں اضافے کو مثبت قرار دیا ہے، لیکن درآمدات کی تیز رفتار بڑھوتری نے تجارتی خلا بھی وسیع کیا ہے
یہاں واشنگٹن میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس کا جائزہ بھی اہم ہے،ادارے نے پاکستان میں قلیل مدتی معاشی استحکام اور مالیاتی و بیرونی بفرز میں بہتری کو تسلیم کیا، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ ٹیکس نظام کو وسیع کرنے، نجکاری اور توانائی کے شعبے کی اصلاحات جیسے بنیادی مسائل حل کیے بغیر یہ کامیابیاں پائیدار نہیں ہوں گی،آئی آئی ایف کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا، لیکن درآمدات کے مقابلے میں ذخائر کی سطح اب بھی محدود رہی جبکہ سرکاری قرض تقریباً 67 فیصد جی ڈی پی کے آس پاس تھا
توانائی کا مسئلہ اس پوری بحث کا شاید سب سے اہم حصہ ہے،آئی آئی ایف کے حوالے سے سامنے آنے والے اعداد کے مطابق پاکستان کے توانائی شعبے کی مجموعی واجبات اور گردشی قرضے کی ساخت اب بھی معیشت پر تقریباً 4 فیصد جی ڈی پی کے برابر بوجھ ڈال رہی ہے،صرف جون 2025 تک بجلی کے شعبے کا گردشی قرض تقریباً 1.6 ٹریلین روپے تھا جبکہ تیل اور گیس کے شعبے سے متعلق مزید تقریباً 3 ٹریلین روپے کی واجباتی زنجیر موجود تھی
یہ وہ مسئلہ ہے جو صرف اسلام آباد کے مالیاتی اعداد میں نظر نہیں آتا بلکہ صنعت، دکان، گھر اور روزگار تک پہنچتا ہے،مہنگی بجلی اور گیس صنعتی لاگت بڑھاتی ہیں، صنعتی لاگت برآمدی مسابقت کو متاثر کرتی ہے اور کمزور مسابقت روزگار اور نجی سرمایہ کاری کے امکانات محدود کرتی ہے،اس لیے محض خسارہ کم ہونا اور ذخائر بڑھ جانا معاشی ترقی کا مکمل پیمانہ نہیں
معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی بھی اسی بنیادی فرق کی طرف توجہ دلاتے رہے ہیں،جون 2026 میں بجٹ پر اپنے تجزیے میں انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں بجٹ بتدریج عوامی پالیسی کے بجائے اعداد کو بہتر دکھانے کی مشق بنتا گیا ہے، جبکہ اصل مسئلہ بجٹ کے نفاذ، ٹیکس وصولی، اخراجات اور ترقیاتی سرمایہ کاری کا ہے،جولائی 2026 میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو محض قلیل مدتی مالیاتی استحکام کے بجائے ترقی پر مرکوز معاشی حکمت عملی درکار ہے
یہی وہ بحث ہے جہاں وزیراعظم کے بیان کا سب سے اہم فیکٹ چیک بنتا ہے،یہ کہنا درست ہے کہ سیاسی بے یقینی، دھرنے اور طویل احتجاج معاشی سرگرمی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں،سڑکوں کی بندش، سپلائی چین میں رکاوٹ، کاروباری اعتماد میں کمی اور سرمایہ کاری کے فیصلوں میں تاخیر واقعی معیشت پر اثر ڈال سکتی ہے،لیکن اس کے برعکس یہ کہنا کہ موجودہ معاشی استحکام ہی پائیدار ترقی میں تبدیل ہو چکا ہے، موجودہ اعداد و شمار سے ثابت نہیں ہوتا
پاکستان کی اصل مشکل یہ ہے کہ حکومت نے ایک بحران کو وقتی طور پر قابو کیا ہے، مگر اس بحران کی بنیادی وجوہات ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں،ٹیکس کا محدود دائرہ، توانائی کا گردشی قرض، کمزور برآمدی بنیاد، کم سرمایہ کاری، بلند قرضوں کی ادائیگیاں، انسانی ترقی پر محدود اخراجات اور روزگار پیدا کرنے کی کمزور صلاحیت ایسے مسائل ہیں جو کسی ایک حکومت یا ایک سیاسی جماعت کے دھرنے سے پیدا نہیں ہوئے اور نہ ہی صرف دھرنا ختم ہونے سے ختم ہوں گے
عوام کے لیے سب سے اہم سوال بھی یہی ہے،اگر معیشت ترقی کر رہی ہے تو کیا عام خاندان کی حقیقی آمدنی تیزی سے بڑھی ہے؟ کیا نوجوانوں کے لیے بڑے پیمانے پر نئی ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں؟ کیا بجلی اور گیس سستی ہوئی ہیں؟ کیا صنعت میں اتنی توسیع ہوئی ہے کہ لاکھوں نئے روزگار پیدا ہوں؟ کیا ٹیکس کا بوجھ زیادہ وسیع بنیاد پر تقسیم ہوا ہے؟ اور کیا تعلیم، صحت اور انسانی ترقی پر اتنی سرمایہ کاری ہوئی ہے کہ معاشی ترقی کے ثمرات آنے والی نسلوں تک پہنچ سکیں؟ آور کیا غیر ملکی سرمایہ میں اضافہ ہوا ہے ؟
اب تک دستیاب اعداد کا جواب نفی میں ہے، پاکستان نے استحکام ضرور حاصل کیا ہے، مگر تیز رفتار اور وسیع البنیاد خوشحالی ابھی ثابت نہیں ہوئی،عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں غربت کا مسئلہ بھی ختم نہیں ہوا بلکہ پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے بعض حصوں میں انتہائی غربت کا رجحان اب بھی تشویش کا باعث ہے
اس لیے وزیراعظم شہباز شریف کا یہ انتباہ کہ سیاسی احتجاج معیشت کو نقصان پہنچا سکتا ہے، معاشی منطق رکھتا ہے،لیکن پاکستان کی معاشی کہانی کو صرف ’’میکرو اکنامک استحکام‘‘ کے عنوان سے ختم کرنا بھی اتنا ہی نامکمل ہوگا،اصل امتحان یہ نہیں کہ اسلام آباد کے ذخائر کتنے بڑھ گئے یا مالی خسارہ کتنا کم ہوا، بلکہ یہ ہے کہ کیا پاکستان کی 25 کروڑ سے زیادہ آبادی کی آمدنی، روزگار، قوت خرید اور معیار زندگی بھی اسی رفتار سے بہتر ہوئے ہیں؟
فی الحال اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ بحران کا فوری خطرہ کچھ کم ہوا ہے، مگر ترقی کا وعدہ ابھی راستے میں ہے،اور یہی فرق ’’معیشت کو بچانے‘‘ اور ’’معیشت کو ترقی دینے‘‘ کے درمیان اصل فاصلہ ہے






