Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ کا متنازع بیان، ایران کو لاس اینجلس اور سان ڈیاگو تباہ کرنے دینے کی بات پر کیلیفورنیا میں غم و غصہ

ٹرمپ کا متنازع بیان، ایران کو لاس اینجلس اور سان ڈیاگو تباہ کرنے دینے کی بات پر کیلیفورنیا میں غم و غصہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیبراسکا میں وسط مدتی انتخابات کی مہم کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایسا متنازعہ بیان دے دیا جس پر کیلیفورنیا کے سیاسی رہنماؤں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے،ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے معاشی اثرات کو ’’دنیا اور امریکا کو محفوظ رکھنے کی ایک چھوٹی قیمت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کو کسی امریکی شہر کو نشانہ بنانے دیا جائے تو لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے
ٹرمپ جنگ کے معاشی اثرات کا ذکر کر رہے تھے جب انہوں نے کہا کہ موجودہ مہنگائی اور قیمتوں میں اضافہ ایک ’’مصنوعی‘‘ اثر ہے اور دنیا اور امریکا کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ ایک معمولی قیمت ہے،اس کے بعد انہوں نے ایران کی جوہری صلاحیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی شہر کو تباہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا تھا
اسی دوران ٹرمپ نے کہا، ’’انہیں ایک شہر تباہ کرنے دیں،انہیں لاس اینجلس تباہ کرنے دیں، انہیں سان ڈیاگو تباہ کرنے دیں”اجتماع میں موجود بعض افراد نے اس بیان پر تالیاں بجائیں
ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ بہت چھوٹی قیمت ہے اور جنگ ’’بہت جلد‘‘ ختم ہو جائے گی،انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے جنگ کچھ عرصہ مزید جاری رہے
ٹرمپ کے بیان پر کیلیفورنیا کے سیاسی رہنماؤں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے،ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک امریکی صدر کی جانب سے ملک کے دو بڑے شہروں کو دشمن کے ہاتھوں تباہ ہونے دینے کا تصور پیش کرنا انتہائی تشویشناک اور ناقابل قبول ہے
لاس اینجلس اور سان ڈیاگو دونوں کیلیفورنیا کے اہم ترین شہری مراکز ہیں،لاس اینجلس امریکا کے سب سے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے جبکہ سان ڈیاگو میکسیکو کی سرحد کے قریب واقع ایک اہم فوجی، تجارتی اور آبادی کا مرکز ہے
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جنگ کے اثرات امریکی معیشت اور توانائی کی قیمتوں پر بھی پڑ رہے ہیں،صدر نے تاہم جنگ کے معاشی نقصان کو قومی سلامتی کے تحفظ کی قیمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ بحران جلد ختم ہونے کی توقع ہے

قومی خبریں سے مزید