پاکستان کو سپر ایپ نہیں بلکہ مضبوط ڈیجیٹل نظام کی ضرورت ہے
پاکستان میں ایک ایسی سپر ایپ بنانے کی بحث زور پکڑ رہی ہے جو ایک ہی جگہ پیغام رسانی، ادائیگیوں، خریداری، مالی خدمات اور سرکاری سہولیات فراہم کرے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو واقعی ایک ایسی ایپ کی ضرورت ہے یا پہلے ایک ایسا مضبوط ڈیجیٹل نظام بنانا زیادہ ضروری ہے جس پر مختلف نجی اور سرکاری خدمات باآسانی کام کرسکیں
دنیا میں سپر ایپ کی سب سے نمایاں مثال چین کی وی چیٹ ہے، جس نے پیغام رسانی سے آغاز کیا اور بعد میں ادائیگیوں، خریداری اور مختلف مالی و عوامی خدمات کو اپنے اندر شامل کرلیا تاہم پاکستان کے لیے وی چیٹ کا ماڈل جوں کا توں اپنانا آسان نہیں، کیونکہ پاکستانی صارفین پہلے ہی مختلف خدمات کے لیے الگ الگ پلیٹ فارم استعمال کرتے ہیں پیغام رسانی میں واٹس ایپ کو بہت بڑی برتری حاصل ہے، مالی خدمات میں ایزی پیسہ اور جاز کیش بڑے نام ہیں، آن لائن خریداری میں دراز نمایاں ہے جبکہ سرکاری خدمات کے لیے پاک آئی ڈی اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے
پاکستان ماضی میں ایک سپر ایپ بنانے کی کوشش بھی کرچکا ہے۔ 2017 میں ویون نے جاز کے ساتھ مل کر ایسی ایپ شروع کی تھی جس میں مواصلات، مواد، مختلف پیشکشیں اور بعد میں مالی خدمات شامل کی گئیں اس منصوبے پر 100 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ ہونے کی اطلاعات تھیں، لیکن بڑی صارف تعداد اور مالی وسائل کے باوجود یہ منصوبہ پاکستان کی وی چیٹ نہیں بن سکا اور بالآخر بند کردیا گیا اس تجربے سے واضح ہوتا ہے کہ صرف سرمایہ، اشتہارات یا بڑی صارف تعداد کسی سپر ایپ کو کامیاب بنانے کے لیے کافی نہیں ہوتے
سپر ایپ کی کامیابی کے لیے سب سے اہم چیز روزانہ استعمال کی مضبوط وجہ ہے۔ لوگ کسی ایسی ایپ کو آسانی سے نہیں چھوڑتے جس پر وہ پہلے ہی اپنے خاندان، دوستوں اور کاروباری رابطوں سے روزانہ بات چیت کرتے ہوں اسی لیے کسی نئی ایپ کے لیے سب سے بڑا چیلنج صارفین کو موجودہ پیغام رسانی کے پلیٹ فارم سے منتقل کرنا ہوگا
اس معاملے کا ایک اہم پہلو قومی ڈیٹا اور سرکاری معلومات کا تحفظ بھی ہے پاکستان میں بڑی مقدار میں ڈیجیٹل رابطہ، کاروباری سرگرمیاں اور بعض سرکاری معاملات غیر ملکی پلیٹ فارمز کے ذریعے انجام پاتے ہیں اس صورتحال میں یہ سوال اہم ہوجاتا ہے کہ حساس معلومات کہاں محفوظ ہیں، انہیں کون دیکھ سکتا ہے، وہ کتنے عرصے تک محفوظ رہیں گی اور اگر کوئی غیر ملکی پلیٹ فارم اپنی پالیسی تبدیل کردے یا کسی وجہ سے دستیاب نہ رہے تو کیا ہوگا
اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت کو عام شہریوں کو واٹس ایپ یا کسی دوسرے نجی پلیٹ فارم سے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے صارفین کو اپنی پسند کے پلیٹ فارم استعمال کرنے کی آزادی ہونی چاہیے، تاہم سرکاری رابطوں، حساس ریکارڈ اور اہم قومی ڈیٹا کے لیے زیادہ محفوظ نظام کی ضرورت ہے
پاکستان کے پاس پہلے ہی ایک بڑے ڈیجیٹل نظام کی کئی بنیادی اینٹیں موجود ہیں۔ نادرا شناخت، بائیومیٹرک تصدیق اور ڈیجیٹل شناخت کی سہولیات فراہم کرتا ہے اس کا نشان پاکستان پلیٹ فارم رجسٹرڈ اداروں کو فنگر پرنٹ، چہرے کی شناخت، آبادی سے متعلق معلومات اور زندگی کی تصدیق جیسی خدمات فراہم کرسکتا ہے اس طرح شہریوں کی شناخت کی تصدیق ممکن ہے، بغیر اس کے کہ نادرا خود بینکنگ، خریداری یا پیغام رسانی کی تمام خدمات چلائے
اسی طرح پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کو قومی ڈیجیٹل ماسٹر پلان، ڈیٹا گورننس کے معیار، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اور مختلف سرکاری اداروں کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے مستقبل میں ایک محفوظ قومی ڈیٹا ایکسچینج نظام مختلف سرکاری اداروں کو معلومات محفوظ انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ استعمال کرنے میں مدد دے سکتا ہے
ادائیگیوں کے شعبے میں راست ایک اہم بنیادی ڈھانچہ فراہم کررہا ہے اگر شناخت کے لیے نادرا، فوری ادائیگیوں کے لیے راست، سرکاری خدمات کے لیے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اور مالی خدمات کے لیے بینکوں اور فن ٹیک کمپنیوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا جائے تو پاکستان ایک وسیع ڈیجیٹل ماحول تشکیل دے سکتا ہے
ایسے نظام کا ایک ممکنہ فائدہ مالی شمولیت میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے اگر مختلف ڈیجیٹل خدمات کو مناسب اجازت اور محفوظ ڈیٹا کے ذریعے جوڑا جائے تو صارف کی مالی سرگرمیوں کی بنیاد پر اس کی مالی صلاحیت کا بہتر اندازہ لگایا جاسکتا ہے، جس سے قرض اور دیگر مالی سہولیات تک رسائی آسان ہوسکتی ہے تاہم اس کے ساتھ ذاتی معلومات کے غلط استعمال، نگرانی اور ڈیٹا کے غیر ضروری جمع کیے جانے کے خطرات بھی موجود رہیں گے
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایسی سپر ایپ کی ملکیت کس کے پاس ہونی چاہیے اگر مکمل کنٹرول حکومت کے پاس ہو تو سرکاری خدمات کو ایک جگہ لانا اور حساس قومی معلومات کو ملک کے دائرہ اختیار میں رکھنا آسان ہوسکتا ہے، لیکن شناخت، مالی لین دین، رابطوں اور سرکاری خدمات کو ایک ہی نظام میں جمع کرنے سے نگرانی اور اعتماد کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں
اگر مکمل اختیار کسی ایک نجی کمپنی کے پاس ہو تو صورتحال مختلف نوعیت کا خطرہ پیدا کرسکتی ہے ایک ہی کمپنی اگر پیغام رسانی، ادائیگیوں، خریداری، قرض اور سرکاری خدمات تک رسائی کو کنٹرول کرے تو اس کے پاس بہت زیادہ معاشی طاقت اور ذاتی ڈیٹا جمع ہوجائے گا اس صورت میں پاکستان غیر ملکی پلیٹ فارم پر انحصار ختم کرکے کسی ایک مقامی کمپنی پر انحصار شروع کرسکتا ہے
اسی لیے ایک بہتر راستہ ایسا نظام ہوسکتا ہے جس میں حکومت بنیادی ڈیجیٹل ڈھانچہ تیار اور اس کی نگرانی کرے، جبکہ نجی کمپنیاں اس ڈھانچے کے اوپر مختلف ایپس اور خدمات تیار کرنے کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کریں حکومت شناخت، ادائیگیوں، سرکاری خدمات کے رابطے اور ڈیٹا کے تبادلے کے اصول طے کرے، لیکن صارفین کے لیے ایک ہی کمپنی کو مکمل نظام کا مالک نہ بنایا جائے
اس پورے نظام میں واضح حفاظتی اصول بھی ضروری ہوں گے صرف ضرورت کے مطابق ڈیٹا حاصل کیا جائے، صارف سے معلومات شیئر کرنے کی واضح اجازت لی جائے، مالی لین دین کا قابل اعتماد ریکارڈ موجود ہو اور شناخت کی تصدیق کرتے وقت کسی شہری کی ضرورت سے زیادہ ذاتی معلومات ظاہر نہ کی جائیں
پاکستان کے لیے اصل مقصد اربوں ڈالر خرچ کرکے ایک اور واٹس ایپ بنانا نہیں ہونا چاہیے ماضی کی کوشش یہ ظاہر کرچکی ہے کہ صرف پیسہ خرچ کرکے لوگوں کی قائم شدہ ڈیجیٹل عادات تبدیل کرنا مشکل ہے زیادہ اہم یہ ہے کہ پاکستان اپنے زیر اختیار مضبوط ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، محفوظ سرکاری رابطوں اور ایسے کھلے نظام کی تعمیر کرے جس میں مختلف نجی کمپنیاں صارفین کو بہتر خدمات دینے کے لیے مقابلہ کرسکیں اگر مستقبل میں انہی بنیادوں پر کوئی کمپنی کامیاب سپر ایپ بناتی ہے تو اس کا فیصلہ بالآخر صارفین خود کریں گے




