Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

سپریم کورٹ میں ٹرمپ کی طاقت کا ایک بار پھر امتحان، گزشتہ فیصلوں میں ملا جلا ریکارڈ

سپریم کورٹ میں ٹرمپ کی طاقت کا ایک بار پھر امتحان، گزشتہ فیصلوں میں ملا جلا ریکارڈ

امریکی سپریم کورٹ پیر سے اپنے نئے نو ماہ کے عدالتی دور کا آغاز کر رہی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وسیع تر صدارتی طاقت اور ان کی انتظامیہ کی سخت گیر پالیسیوں سے متعلق مقدمات ایک بار پھر عدالت کے سامنے ہوں گے
چھ ججوں کی قدامت پسند اکثریت رکھنے والی سپریم کورٹ نے گزشتہ جون میں ختم ہونے والے عدالتی دور میں ٹرمپ کو صدارتی اختیارات کے حوالے سے کئی اہم مقدمات میں کامیابیاں دیں، تاہم بعض بڑے معاملات میں صدر کو شکست بھی ہوئی،ٹیرف، شہریت اور فیڈرل ریزرو سے متعلق معاملات میں عدالت کے فیصلے ٹرمپ کی پالیسیوں کے لیے رکاوٹ بنے
نئے عدالتی دور میں ٹرمپ انتظامیہ کے کئی اہم مقدمات پہلے ہی سپریم کورٹ تک پہنچ چکے ہیں،ان میں دو مقدمات امیگریشن پالیسی کے مرکز میں ہیں، جہاں انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر ملک میں موجود تارکین وطن کے خلاف بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور ملک بدری کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے
سپریم کورٹ کو خاص طور پر اس پالیسی کا جائزہ لینا ہے جس کے تحت بعض تارکین وطن کو ضمانتی سماعت کے بغیر لازمی حراست میں رکھنے کی کوشش کی گئی ہے،ان مقدمات کے فیصلے یہ طے کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ امیگریشن قوانین نافذ کرنے اور ملک بدری کی کارروائی میں صدارتی اختیار کو کس حد تک استعمال کر سکتی ہے
یوں نئے عدالتی دور میں بھی بنیادی سوال یہی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے صدارتی اختیارات کے وسیع استعمال اور وفاقی حکومت کی طاقت میں اضافے کی کوششوں کے سامنے سپریم کورٹ کہاں حد مقرر کرتی ہے

قومی خبریں سے مزید