پی ٹی آئی کا 4 اکتوبر مارچ، جنوبی خیبر پختونخوا سے کل قافلے روانہ ہوں گے
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا آغاز 4 اکتوبر کو جنوبی اضلاع سے ہوگا اور اس قافلے کی قیادت خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کریں گے۔ پارٹی کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ مارچ ہر صورت میں ہوگا
ان کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن سے آنے والے قافلے کی قیادت پی ٹی آئی کے صوبائی صدر اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر خان کریں گے، جبکہ پشاور، ہزارہ اور جنوبی اضلاع سے آنے والے قافلے صوابی میں اکٹھے ہوں گے وہاں سے مارچ اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگا پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ مارچ کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور وسائل کی کمی بھی اس میں رکاوٹ نہیں بنے گی
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے حکومت مخالف احتجاج کا آخری ہدف اسلام آباد ہے ان کے مطابق پارٹی کے اہم مطالبات میں عمران خان تک رسائی، انہیں اسپتال منتقل کرنا اور ان کے مقدمات کی جلد سماعت شامل ہیں
انہوں نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات کو اب تک حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار حکومت کے رویے پر ہوگا ان کے مطابق دونوں فریق جمعہ کو ہونے والے مذاکرات میں اپنے اپنے مؤقف پیش کر چکے ہیں اور آئندہ پیش رفت کا انتظار ہے
شوکت یوسفزئی نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی تجاویز کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مسائل حل ہونے کے بجائے صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت حالات بہتر بنانا چاہتی ہے تو عمران خان سے ملاقات کی اجازت فوری طور پر دی جانی چاہیے
پی ٹی آئی کی جانب سے 4 اکتوبر کے مارچ کا اعلان پہلے بھی کیا جا چکا ہے پارٹی نے ستمبر میں طے شدہ احتجاج کو مؤخر کرکے نئی تاریخ 4 اکتوبر مقرر کی تھی، جبکہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مارچ، سکیورٹی انتظامات اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے امکان پر سیاسی کشیدگی برقرار ہے





