پی ٹی ای مارچ کے خوف سے کراچی پورٹ پر مال بردار گاڑیوں کی روانگی بند ،کنٹینرز کا ڈھیر لگ گیا
کراچی پورٹ پر مال بردار گاڑیوں کی شمالی علاقوں کی طرف روانگی متاثر ہونے کے باعث بندرگاہ پر کنٹینرز کی بڑی تعداد جمع ہونے لگی ہے ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ اسلام آباد میں 4 اکتوبر کو ہونے والے پی ٹی آئی کے مارچ سے قبل پولیس ان کی گاڑیاں اور کنٹینرز قبضے میں لے کر سڑکیں بند کرنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے
ٹرانسپورٹرز کے مطابق پولیس نے ستمبر کے دوران 2,000 سے زیادہ گاڑیاں طلب کیں، جن میں سے کئی گاڑیاں سامان سے لدی ہوئی ہیں اور کئی دنوں سے رکی ہوئی ہیں اس صورتحال کے باعث کراچی سے اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم، پشاور اور اٹک جانے والی مال بردار نقل و حمل شدید متاثر ہوئی ہے بعض ٹرانسپورٹرز نے گوجرانوالہ سے آگے سفر روک دیا ہے جبکہ کچھ متبادل راستے اختیار کر رہے ہیں
کراچی گڈز کیریئر ایسوسی ایشن کے صدر رانا محمد اسلم کے مطابق ٹرانسپورٹرز پہلے ہی بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کر رہے ہیں اور گاڑیوں کے قبضے میں لیے جانے کا خطرہ ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے ان کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹرز اپنی شکایات کا حل چاہتے ہیں اور مسئلہ برقرار رہنے کی صورت میں وہ احتجاج بھی کر سکتے ہیں
کنٹینر مالکان کو مالی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے ایک کنٹینر پر روزانہ 30,000 سے 40,000 روپے تک اضافی چارجز عائد ہو سکتے ہیں، جبکہ سامان کی ترسیل میں تاخیر اور گاڑیوں کے کھڑے رہنے سے الگ نقصان ہو رہا ہے ستمبر میں پاکستان میں صارفین کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 10.26 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ٹرانسپورٹ کے نرخوں میں 27.43 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا
کراچی میں کیمیکل سے لدی اپنی گاڑی روکنے والے ایک ٹرانسپورٹر نے بتایا کہ سندھ سے روانہ ہونے کے بعد پنجاب میں داخل ہوتے ہی ان کے مسائل شروع ہو جاتے ہیں ایک اور ڈرائیور نے کہا کہ اگر سڑکیں کھل جائیں تو ان کے خاندانوں کا روزگار بھی بحال ہوگا، کیونکہ کئی ڈرائیور کئی دنوں سے کام اور آمدنی سے محروم ہیں






