Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کینیڈین ٹیکس دہندگان پائپ لائن سے بھاری آمدنی حاصل کریں گے : مارک کارنی

کینیڈین ٹیکس دہندگان پائپ لائن سے بھاری آمدنی حاصل کریں گے
: مارک کارنی

وزیر اعظم مارک کارنی نے ویسٹ کوسٹ آئل پائپ لائن، جسے اب پیسیفک لنک کا نام دیا گیا ہے، کے بارے میں کہا ہے کہ کینیڈین ٹیکس دہندگان اس منصوبے سے بڑی رقم کمائیں گے کارنی نے یہ بات اس وقت کہی جب وفاقی حکومت نے پائپ لائن کو قومی مفاد کا منصوبہ قرار دیتے ہوئے اس کی منظوری کے عمل کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا
پیسیفک لنک کے ذریعے البرٹا سے برٹش کولمبیا کے مغربی ساحل تک روزانہ 10 لاکھ بیرل خام تیل پہنچانے کا منصوبہ ہے وہاں سے کینیڈا کو ایشیا کی بڑھتی ہوئی منڈیوں تک تیل برآمد کرنے کا موقع ملے گا، جس کا مقصد امریکہ پر کینیڈا کے موجودہ انحصار کو کم کرنا ہے
کارنی حکومت کے مطابق اس منصوبے سے سالانہ 20 ارب ڈالر سے زیادہ کی اقتصادی پیداوار پیدا ہو سکتی ہے جبکہ 2060 تک حکومت کے لیے تقریباً 100 ارب ڈالر کی آمدنی متوقع ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ منصوبے سے ملک بھر میں تقریباً 140,000 ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی
تاہم پائپ لائن کی مجموعی لاگت اور اس میں سرکاری سرمایہ کاری کے حجم پر بھی سوالات موجود ہیں رائٹرز کے مطابق منصوبے کی لاگت کا اندازہ 35.2 ارب سے 43.7 ارب کینیڈین ڈالر تک لگایا گیا ہے وفاقی اور البرٹا حکومتیں منصوبے میں برابر کی ملکیت رکھیں گی، جبکہ پیمبینا پائپ لائن کارپوریشن نجی شعبے کے سرمایہ کار کے طور پر منصوبے میں شامل ہے
کارنی نے کہا کہ پیسیفک لنک کینیڈا کو ایک ہی تجارتی شراکت دار پر انحصار کم کرنے اور عالمی توانائی کی منڈی میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے میں مدد دے سکتا ہے اس وقت کینیڈا کے خام تیل کی بڑی مقدار امریکہ کو برآمد ہوتی ہے، اس لیے نئی پائپ لائن سے ایشیائی منڈیوں تک براہ راست رسائی پیدا کرنے کو حکومت اقتصادی تنوع کے لیے اہم قرار دے رہی ہے
حکومت نے یکم اکتوبر کو پائپ لائن کو بلڈنگ کینیڈا ایکٹ کے تحت قومی مفاد کا منصوبہ قرار دیا ہے اس فیصلے کے بعد منصوبے کے لیے ایک وفاقی جائزہ عمل شروع ہوگا، جسے ستمبر 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے اس کے بعد ہی تعمیر کے حوالے سے حتمی پیش رفت ممکن ہوگی
منصوبے میں مقامی آبادیوں کو بھی شامل کرنے کی شرط رکھی گئی ہے اور حکومت کے مطابق مقامی کمیونٹیز کو کم از کم 10 فیصد ملکیتی حصہ لینے کی پیشکش کی جائے گی حکومت کا کہنا ہے کہ پائپ لائن کا راستہ برٹش کولمبیا کے شمالی ساحل اور گریٹ بیئر سی جیسے حساس علاقوں سے گریز کرتے ہوئے جنوبی راستے سے گزارا جائے گا
اس منصوبے کی تعمیر اور ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے مزید مشاورت بھی ہوگی حکومت نے کہا ہے کہ مقامی کمیونٹیز، صوبائی حکومتوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت جائزے کے دوران جاری رہے گی

قومی خبریں سے مزید