Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

زیلنسکی نے شمالی کوریا کے 2 جنگی قیدی جنوبی کوریا بھیجنے کا راز افشا کردیا، سیول کا رازداری معاہدہ توڑنے کا الزام

زیلنسکی نے شمالی کوریا کے 2 جنگی قیدی جنوبی کوریا بھیجنے کا راز افشا کردیا، سیول کا رازداری معاہدہ توڑنے کا الزام

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران انکشاف کیا ہے کہ یوکرین نے روس کے لیے لڑتے ہوئے گرفتار ہونے والے شمالی کوریا کے 2 فوجیوں کو جنوبی کوریا منتقل کر دیا ہے جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے کہا ہے کہ اس معاملے کو خفیہ رکھنے پر دونوں ملکوں کے درمیان اتفاق ہوا تھا، اس لیے یوکرین کی جانب سے عوامی طور پر اس کا اعلان کیا جانا افسوسناک ہے
یہ دونوں شمالی کوریائی فوجی جنوری 2025 میں روس کے کرسک علاقے میں یوکرینی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے شمالی کوریا نے روس کی جنگ میں مدد کے لیے ہزاروں فوجی روس بھیجے تھے اور ان میں سے یہ دونوں فوجی جنگ کے دوران پہلی بار گرفتار ہونے والے شمالی کوریائی فوجیوں میں شامل تھے دونوں نے جنوبی کوریا منتقل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا تھا
زیلنسکی نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ دونوں فوجیوں کو زندہ گرفتار کرنا آسان نہیں تھا۔ ان کے مطابق ایک فوجی نے گرفتاری کا احساس ہونے پر خودکشی کی کوشش بھی کی تھی زیلنسکی نے شمالی کوریا پر اپنے شہریوں کو روس کی جنگ میں استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا یہ الزامات یوکرینی صدر کے بیان ہیں
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے کہا کہ شمالی کوریا کے فوجیوں کی جنوبی کوریا منتقلی ایک انتہائی حساس معاملہ تھا کیونکہ اس کے سفارتی تعلقات، قومی سلامتی اور جزیرہ نما کوریا کی صورتحال پر اثرات پڑ سکتے تھے ان کے مطابق اسی وجہ سے سیول اور کیف نے اس معاملے کو خفیہ رکھنے پر اتفاق کیا تھا
جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے منتقلی کی تفصیلات، راستے اور وقت کی باضابطہ تصدیق سے گریز کیا ہے حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں دونوں فوجیوں اور شمالی کوریا میں موجود ان کے خاندانوں کی حفاظت کو بھی مدنظر رکھنا ضروری تھا۔ جنوبی کوریا اور یوکرین کے درمیان اس معاملے پر کئی ماہ سے بات چیت جاری تھی
دوسری جانب جنوبی کوریا کی اپوزیشن نے حکومت پر تنقید کی ہے کہ ملک کے شہریوں کو 2 شمالی کوریائی فوجیوں کی جنوبی کوریا آمد کا علم پہلے یوکرینی صدر کے بیان سے ہوا اپوزیشن ارکان نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ فوجی پہلے ہی جنوبی کوریا پہنچ چکے تھے تو حکومت نے خود اس معاملے کا اعلان کیوں نہیں کیا
جنوبی کوریا کے آئین کے تحت شمالی کوریا کے باشندوں کو بھی کوریائی قوم کا حصہ سمجھا جاتا ہے اور سیول کا مؤقف ہے کہ شمالی کوریا کے وہ فوجی جو جنوبی کوریا منتقل ہونا چاہتے ہیں، ان کی خواہش کو انسانی بنیادوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق دیکھا جانا چاہیے جولائی میں لی جے میونگ اور زیلنسکی کے درمیان ملاقات میں بھی دونوں رہنماؤں نے شمالی کوریائی جنگی قیدیوں کے معاملے کو انسانی بنیادوں اور ان کی مرضی کا احترام کرتے ہوئے حل کرنے پر اتفاق کیا تھا
یہ معاملہ روس، شمالی کوریا، یوکرین اور جنوبی کوریا کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی پیچیدگی کو بھی ظاہر کرتا ہے شمالی کوریا کی جانب سے روس کو فوجی مدد فراہم کیے جانے کے بعد جنگ اب صرف روس اور یوکرین تک محدود معاملہ نہیں رہی، بلکہ اس میں ایشیا کی ایک بڑی طاقت بھی براہ راست شامل ہو چکی ہے زیلنسکی کے مطابق شمالی کوریا نے روس کی مدد کے لیے تقریباً 15,000 فوجی بھیجے ہیں، تاہم فوجیوں کی اصل تعداد کے بارے میں مختلف اندازے موجود ہیں
سیول کے مطابق اب سب سے اہم مسئلہ ان دونوں فوجیوں کی سلامتی اور مستقبل ہے، جبکہ یوکرین اور جنوبی کوریا کے درمیان یہ سفارتی اختلاف بھی سامنے آ گیا ہے کہ حساس معلومات کو عوام کے سامنے کب اور کس طریقے سے لایا جانا چاہیے

قومی خبریں سے مزید