امریکا اور ایران جنگ سے نکلنے کے لیے مرحلہ وار معاہدے پر غور کرنے لگے
امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ ختم کرنے کے لیے نیویارک میں مذاکرات کے دوران مرحلہ وار معاہدے کے ایک ممکنہ فارمولے پر غور کیا جا رہا ہے ذرائع کے مطابق اس فارمولے کے تحت ایران آبنائے ہرمز دوبارہ بحری جہازوں کے لیے کھول سکتا ہے جبکہ امریکا ایران کے خلاف معاشی ناکہ بندی ختم کرنے اور ممکنہ طور پر منجمد اثاثوں تک رسائی دینے پر غور کر سکتا ہے
آبنائے ہرمز اس تنازع کا مرکزی معاملہ بن چکی ہے کیونکہ دنیا کے تقریباً 5ویں حصے کا تیل اسی اہم بحری راستے سے گزرتا ہے ایران نے اسے بند کر کے امریکا پر دباؤ بڑھایا ہے جبکہ واشنگٹن کی بنیادی خواہش ہے کہ تیل اور دیگر تجارتی جہازوں کے لیے اس راستے سے آزادانہ آمدورفت بحال ہو
مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ دونوں فریق پہلے قدم اٹھانے سے گریزاں ہیں ایران کا مؤقف ہے کہ پہلے معاشی ناکہ بندی ختم کی جائے جبکہ امریکا چاہتا ہے کہ ایران پہلے آبنائے ہرمز کھولے۔ ذرائع کے مطابق اسی تعطل کو ختم کرنے کے لیے مرحلہ وار معاہدے کی تجویز سامنے آئی ہے
ایرانی ذرائع کے مطابق تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کے مطالبے کو عارضی طور پر مؤخر کرنے پر بھی آمادہ ہو سکتا ہے، اگر اس کے بدلے میں امریکا ناکہ بندی ختم کر دے تاہم ایران آبنائے میں اپنے انتظامی اختیار سے دستبردار ہونے پر تیار نہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایران پر شدید معاشی دباؤ جاری رکھنے کا مؤقف اختیار کیا گیا ہے وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی نے ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور واشنگٹن فوری طور پر کسی رعایت کی ضرورت محسوس نہیں کرتا یہ مؤقف امریکی حکومت کا ہے اور مذاکرات میں ایرانی فریق اس سے اختلاف کرتا ہے
دوسری جانب ایران بھی ممکنہ سفارتی معاہدے کے ساتھ ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کے لیے تیاریاں جاری رکھے ہوئے ہے ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے اپنے مفادات کا دفاع کریں گے، تاہم مذاکرات کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا
خلیجی ممالک بھی امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے سفارتی دباؤ بڑھا رہے ہیں نیویارک میں خلیجی رہنماؤں نے امریکی صدر سے جنگ کے مستقبل اور نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد واشنگٹن کی حکمت عملی کے بارے میں وضاحت طلب کی خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت بحال کرنے پر زور دیا ہے جبکہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچنے کی بھی اپیل کی ہے
ادھر 80 ممالک نے اقوام متحدہ میں خلیج کے اہم بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت مکمل طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کا معاملہ صرف امریکا اور ایران تک محدود نہیں بلکہ عالمی تجارت، تیل کی فراہمی اور توانائی کی قیمتوں پر بھی براہ راست اثر ڈال رہا ہے
اسی دوران متحدہ عرب امارات نے ایرانی فضائی کمپنیوں کی پروازیں قبول نہ کرنے کا اعلان کیا ہے اماراتی حکام کے مطابق یہ اقدام ایرانی فضائی شعبے پر عائد امریکی پابندیوں کے تناظر میں کیا گیا ایران کی کئی بین الاقوامی پروازیں پہلے ہی متاثر ہو چکی ہیں جبکہ بعض پڑوسی ممالک نے بھی ایرانی طیاروں کے لیے پابندیاں سخت کر دی ہیں
مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ واشنگٹن اور تہران آبنائے ہرمز، معاشی پابندیوں، ایران کے منجمد اثاثوں اور مستقبل کے سیاسی و سکیورٹی انتظامات پر کس حد تک سمجھوتہ کر پاتے ہیں فی الحال دونوں جانب سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے، لیکن جنگ کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کا امکان بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا






