ڈی چوک مارچ سے پہلے خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں پھر کشیدگی، پی ٹی آئی کے سامنے کئی راستے مگر خطرات بھی موجود
خیبر پختونخوا میں ایک بار پھر سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب پی ٹی آئی کے مجوزہ مارچ سے پہلے صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے صورتحال نومبر 2024 کے واقعات کی یاد تازہ کر رہی ہے، جب پی ٹی آئی کے کارکن ڈی چوک اور ریڈ زون کی طرف بڑھے تھے اور احتجاج کے دوران پرتشدد جھڑپیں ہوئی تھیں
اس بار خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے یہ ان کی سیاسی زندگی کا اب تک کا سب سے بڑا امتحان قرار دیا جا رہا ہے وہ نسبتاً نئے سیاسی رہنما ہیں اور ایک سال قبل وزارت اعلیٰ سنبھالنے کے بعد اب پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے وفاقی دارالحکومت کی طرف مارچ کی قیادت کرنے کی پوزیشن میں ہیں
پی ٹی آئی کی سابقہ قیادت میں علی امین گنڈاپور نے نومبر 2024 میں ڈی چوک مارچ کی قیادت کی تھی، تاہم اس احتجاج کے بعد انہیں وزارت اعلیٰ سے ہٹا دیا گیا اور بعد میں سہیل آفریدی نے یہ ذمہ داری سنبھالی۔ موجودہ صورتحال میں عمران خان کی رہائی کے لیے پارٹی کے اندر مختلف سطحوں پر کوششیں جاری ہیں جبکہ ان کی بہن علیمہ خان کو بھی حراست میں لیا جا چکا ہے۔ بشریٰ بی بی پہلے ہی اڈیالہ جیل میں سزا کاٹ رہی ہیں
پی ٹی آئی کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ 27 ستمبر کو کارکنوں کی بڑی تعداد جمع ہونے کے بعد حکمت عملی کیا ہوگی ایک امکان یہ ہے کہ قافلہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کی سرحد کے قریب صوابی میں رک کر احتجاج کرے اور پنجاب میں داخل ہونے کے راستے بند کرے دوسرا راستہ اسلام آباد کے قریب دھرنا دینا ہو سکتا ہے، تاہم طویل دھرنے کے لیے مالی اور انتظامی وسائل ایک اہم مسئلہ بن سکتے ہیں
ایک اور امکان یہ ہے کہ پی ٹی آئی کارکن رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے اسلام آباد کی طرف بڑھنے کی کوشش کریں ایسی صورت میں پولیس اور رینجرز کے ساتھ تصادم کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے گزشتہ احتجاج کے تجربے کے باعث وفاقی حکام اس مرتبہ اسلام آباد کے داخلی راستوں اور ریڈ زون کے گرد سکیورٹی کے متعدد حصار قائم کر رہے ہیں
پی ٹی آئی کو مالی مشکلات کا بھی سامنا ہے پارٹی کے لیے کارکنوں کی نقل و حرکت، خوراک، رہائش اور دیگر انتظامات کے اخراجات پورے کرنا پہلے کے مقابلے میں مشکل بتایا جا رہا ہے نجی ٹرانسپورٹرز بھی نومبر 2024 میں گاڑیوں کو پہنچنے والے بھاری نقصانات کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنوں کو اسلام آباد لے جانے سے گریز کر رہے ہیں
دوسری جانب وفاقی حکام کے لیے بھی صورتحال آسان نہیں نومبر 2024 کے احتجاج میں ریڈ زون تک کارکنوں کے پہنچنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال دوبارہ پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے حکومت اسلام آباد کے قریب دھرنے کو روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے اور متعدد راستوں پر سخت سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں
پی ٹی آئی کے اندر بھی مارچ کی مکمل حکمت عملی کے حوالے سے ابہام موجود ہے سیاسی رہنما محمود خان اچکزئی اور راجا ناصر عباس پارٹی کو سیاسی حمایت فراہم کر رہے ہیں، تاہم ان کا مؤقف ہے کہ حتمی فیصلہ پی ٹی آئی کو خود کرنا ہوگا اس دوران پارٹی کے کئی رہنما ممکنہ نتائج کی ذمہ داری لینے سے گریز کرتے دکھائی دے رہے ہیں
موجودہ صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا کوئی واضح راستہ نظر نہیں آ رہا دونوں جانب سے سخت بیانات اور حفاظتی اقدامات کے باوجود ایسا کوئی واضح فارمولا سامنے نہیں آیا جس کے ذریعے مارچ سے پہلے کشیدگی کم کی جا سکے
نومبر 2024 کے تجربے نے یہ ظاہر کیا تھا کہ ایک سیاسی احتجاج اگر قابو سے باہر ہو جائے تو اس کے اثرات صرف حکومت اور احتجاج کرنے والی جماعت تک محدود نہیں رہتے بلکہ عام شہریوں، ٹرانسپورٹ، کاروبار اور روزمرہ زندگی کو بھی متاثر کرتے ہیں اسی لیے 27 ستمبر کے مارچ سے پہلے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ سیاسی اختلاف کو مذاکرات کے ذریعے کس حد تک قابو میں رکھا جا سکتا ہے اور کیا فریقین ایک اور بڑے تصادم سے بچنے کے لیے کوئی درمیانی راستہ تلاش کر پائیں گے






