Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

سعودی عرب پر حملہ ہوا تو دفاع کا حق تسلیم، پاکستان، ترکی، مصر اور ریاض کا مشترکہ اعلان، حوثیوں کے خلاف نیویگیشن سکیورٹی پر زور

سعودی عرب پر حملہ ہوا تو دفاع کا حق تسلیم، پاکستان، ترکی، مصر اور ریاض کا مشترکہ اعلان، حوثیوں کے خلاف نیویگیشن سکیورٹی پر زور

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے اہم اجلاس میں چاروں ممالک نے سعودی عرب کے اپنے دفاع، اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے حق کی کھل کر حمایت کردی ہے،مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے دفاع کا بنیادی حق حاصل ہے
یہ مشترکہ مؤقف یمن کے ایران نواز حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے حملوں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے،چاروں ممالک نے خطے میں سمندری راستوں کی سلامتی اور آزادانہ جہاز رانی یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا، جو خلیج، بحیرہ احمر اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے
وزرائے خارجہ نے خطے میں جاری جنگوں اور کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار حل کا واحد راستہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے،انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان امن کے لیے ہونے والے مذاکرات سے متعلق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کی ضرورت بھی اجاگر کی
چاروں ممالک نے یمن کی تسلیم شدہ حکومت اور صدارتی قیادت کونسل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں سلامتی، استحکام اور ترقی سیاسی عمل اور تمام متعلقہ یمنی فریقوں پر مشتمل جامع یمنی مذاکرات کے ذریعے حاصل کی جانی چاہیے
مشترکہ بیان میں فلسطینی مسئلے کو بھی مشرق وسطیٰ میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے مرکزی قرار دیا گیا،پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر نے فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور 4 جون 1967 کی سرحدوں پر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر آزاد، خودمختار، قابل عمل اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا
سوڈان کے معاملے پر بھی چاروں ممالک نے اس کی خودمختاری، وحدت، آزادی اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتے ہوئے متوازی اداروں یا ایسی کسی بھی تشکیل کو مسترد کیا جو سوڈان کی ریاستی وحدت کو نقصان پہنچائے،بیان میں سوڈان میں ہتھیاروں، کرائے کے جنگجوؤں اور غیر ملکی مسلح افراد کی غیر قانونی آمد روکنے پر بھی زور دیا گیا
یہ اجلاس خاص طور پر پاکستان کے لیے اہم ہے کیونکہ 7 اگست کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایک فریق پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کرنے کا اصول بیان کیا گیا تھا،موجودہ صورتحال میں چاروں وزرائے خارجہ کا سعودی عرب کے دفاعی حق کی باضابطہ حمایت کرنا اسی علاقائی سلامتی کے بڑھتے ہوئے تناظر میں سامنے آیا ہے
چاروں ممالک نے آئندہ بھی قریبی رابطہ اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ خطے میں اجتماعی سلامتی اور طویل مدتی استحکام کو مضبوط کیا جا سکے

قومی خبریں سے مزید