Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ کا عالمی رہنماؤں کے اعزاز میں بڑا عشائیہ :شہباز شریف بھی مدعو؛ نیویارک میں 130 عالمی سربراہان اور 18 ہزار مندوبین، دنیاکی سب سے بڑی سفارتی محفل کی تیاریاں مکمل

ٹرمپ کا عالمی رہنماؤں کے اعزاز میں بڑا عشائیہ :شہباز شریف بھی مدعو؛ نیویارک میں 130 عالمی سربراہان اور 18 ہزار مندوبین، دنیاکی سب سے بڑی سفارتی محفل کی تیاریاں مکمل

نیویارک میں اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی رہنماؤں کے اعزاز میں وہ خصوصی عشائیہ جس کا انتظار سفارتی حلقوں اور نیویارک میں مقیم جنوبی ایشیائی کمیونٹی کو ہے، آج 23 ستمبر کی شام منعقد ہوگا،صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کی میزبانی میں ہونے والی یہ تقریب Lotte New York Palace Hotel، Madison Avenue میں ہوگی اور وائٹ ہاؤس کے شیڈول کے مطابق صدر ٹرمپ شام 7:15 بجے UNGA Leaders’ Reception میں شرکت کریں گے،تقریب پریس کے لیے بند ہوگی، اس لیے اندر ہونے والی غیر رسمی گفتگو کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے آنا مشکل ہوگا
اس تقریب کی اہمیت اس لیے غیر معمولی ہے کہ اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کے ہائی لیول ویک میں اس وقت تقریباً 130 سربراہانِ مملکت و حکومت بالمشافہ نیویارک پہنچے ہوئے ہیں،اقوام متحدہ کے 21 ستمبر کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق جنرل ڈیبیٹ کے لیے 71 سربراہانِ مملکت، 45 سربراہانِ حکومت، 50 وزراء، 11 نائب صدور اور ایک ولی عہد کی شرکت متوقع ہے،ہائی لیول ویک کے دوران اقوام متحدہ کے پاس تقریباً 18,000 فعال مندوبین کے بیجز موجود ہیں
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کو بھی ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ کی اس تقریب کی دعوت مل چکی ہے،پاکستانی اور بھارتی ذرائع کے مطابق شہباز شریف کی 23 ستمبر کو صدر ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے،اس ملاقات کی اطلاع پہلے ہی پاکستانی میڈیا میں اعلیٰ سطح کے ذرائع کے حوالے سے دی جا چکی ہے، تاہم اس وقت تک یہ ملاقات مستقبل کی طے شدہ ملاقات ہے،
پاکستانی وزیراعظم آج UNGA کے افتتاحی مرحلے میں شریک ہوئے اور مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں،پاکستان کے سرکاری ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے کینیا کے صدر ولیم روٹو سے ملاقات کی، جبکہ اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر آسٹریا کے چانسلر کرسچین اسٹوکر اور صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود سے بھی الگ الگ غیر رسمی ملاقاتیں ہوئیں
اس لیے پاکستانیوں کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ کل Lotte New York Palace میں ٹرمپ اور شہباز شریف کے درمیان مصافحہ محض رسمی رہے گا یا دونوں کے درمیان مختصر مگر اہم سیاسی گفتگو بھی ہوگی،ابھی تک کسی سرکاری ذریعے نے اس ملاقات کے ایجنڈے یا دورانیے کی تفصیلات جاری نہیں کیں
کل کا عشائیہ محض کھانا نہیں، سفارتی ملاقاتوں کا بڑا موقع
ٹرمپ کا یہ پروگرام روایتی معنوں میں مکمل سرکاری state dinner کے بجائے UNGA Leaders’ Reception ہے، جس میں جنرل اسمبلی میں شریک سربراہانِ مملکت و حکومت اور ان کے وفود کے اہم ارکان کو ایک ہی جگہ غیر رسمی ماحول میں جمع ہونے کا موقع ملتا ہے،ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی شرکت کی بھی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ تقریب پریس کے لیے بند رکھی گئی ہے
اس کا مطلب یہ ہے کہ رسمی دوطرفہ ملاقاتوں کے علاوہ کئی ایسی مختصر ملاقاتیں بھی ممکن ہیں جو پہلے سے میڈیا کے سامنے اعلان شدہ نہیں ہوتیں،پاکستان کے لیے خاص طور پر امریکہ، ترکی، سعودی عرب، خلیجی ممالک اور دوسرے اہم ممالک کے رہنماؤں سے وزیراعظم شہباز شریف کی غیر رسمی ملاقاتیں سفارتی اہمیت رکھتی ہیں
UN کے مطابق 81ویں جنرل اسمبلی کی جنرل ڈیبیٹ 22 سے 26 ستمبر اور پھر 28 ستمبر تک جاری رہے گی،اس پورے ہفتے کے دوران تقریباً 18 ہزار فعال مندوبین اور تقریباً 130 عالمی سربراہان کی موجودگی نیویارک کو دنیا کا سب سے بڑا سفارتی مرکز بنا دیتی ہے

قومی خبریں سے مزید