ٹرمپ کی ممدانی سے قربت، ریپبلکنز کی مہم میں بڑا تضاد سامنے آگیا
نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیویارک کے میئر زوہران ممدانی کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت نے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کے اس سیاسی بیانیے کو پیچیدہ کر دیا ہے جس میں ڈیموکریٹس اور خصوصاً ڈیموکریٹک سوشلسٹس کو انتہائی بائیں بازو کی سیاست کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے
ٹرمپ نے رواں ماہ ایک تقریر میں ڈیموکریٹک سوشلسٹس کو ’’انتہا پسند‘‘ اور ’’پاگل‘‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ وہ امریکا کو کمیونسٹ ملک میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں،لیکن پیر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے نیویارک پہنچنے کے بعد ٹرمپ نے گریسی مینشن میں ممدانی سے ملاقات کی، ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ وہ ’’ایک عظیم میئر‘‘ بننے کی جانب اچھی شروعات کر رہے ہیں
ممدانی کو ریپبلکن رہنما پہلے ہی وسط مدتی انتخابی مہم میں ڈیموکریٹک پارٹی کی مبینہ بائیں بازو کی سیاست کی مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں،ٹیکساس کے سینیٹر ٹیڈ کروز نے انہیں ’’کامریڈ ممدانی‘‘ جبکہ ایوان نمائندگان میں ریپبلکن قیادت کے رکن ٹام ایمر نے ’’ممدانی دی کمی‘‘ کہا ہے
تاہم ٹرمپ کی جانب سے ممدانی کے ساتھ عوامی طور پر خوشگوار تعلقات اور تعاون کے اظہار نے اس پیغام کے ساتھ ایک نمایاں تضاد پیدا کیا ہے،ریپبلکن اسٹریٹجسٹ ڈگ ہائے نے AP سے گفتگو میں کہا کہ اگر پارٹی یہ پیغام دے رہی ہو کہ ڈیموکریٹس انتہائی بائیں بازو کی طرف جا رہے ہیں اور صدر خود ممدانی کے بارے میں مثبت بات کر رہے ہوں تو اس سیاسی پیغام کو پیش کرنا مشکل ہو جاتا ہے
گریسی مینشن میں ملاقات کے دوران دونوں نے نیویارک میں رہائش، سستی ہاؤسنگ، امیگریشن اور وفاقی حکومت سے شہر کے تعلقات سمیت مختلف معاملات پر بات کی،ممدانی نے بعد میں کہا کہ صدر کے ساتھ ان کے کئی معاملات پر شدید اختلافات ہیں، تاہم وہ نیویارک کے شہریوں کے لیے وفاقی حکومت سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش میں صدر سمیت ہر متعلقہ حکام سے رابطہ جاری رکھیں گے
ٹرمپ اور ممدانی کے درمیان یہ رابطہ گزشتہ سال سے جاری ہے اور دونوں کے درمیان اس سے پہلے بھی ملاقاتیں ہو چکی ہیں،موجودہ صورت حال میں ایک طرف ریپبلکن رہنما ممدانی کو اپنے انتخابی پیغام میں ڈیموکریٹک سوشلزم کی مثال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف صدر ٹرمپ خود نیویارک کے ڈیموکریٹک سوشلسٹ میئر کے ساتھ عملی تعاون کا اظہار کر رہے ہیں





