Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ممدانی کو نیتن یاہو کا کھلا چیلنج، ’’تم نے یہودیوں کے خلاف فسادات بھڑکائے، اقوام متحدہ میں تمہاری حقیقت بھی دنیا کے سامنے لاؤں گا‘‘ مگر کون جانے نتن یاہُو بھی گریسی مینشن پہنچ جائیں

ممدانی کو نیتن یاہو کا کھلا چیلنج، ’’تم نے یہودیوں کے خلاف فسادات بھڑکائے، اقوام متحدہ میں تمہاری حقیقت بھی دنیا کے سامنے لاؤں گا‘‘ مگر کون جانے نتن یاہُو بھی گریسی مینشن پہنچ جائیں

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے نیویارک آمد اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب سے صرف ایک روز قبل نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی کے خلاف براہ راست اور سخت ترین بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں اسرائیلی فوجیوں کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ ممدانی کے بارے میں بھی ’’سچ‘‘ دنیا کے سامنے رکھیں گے
نیتن یاہو نے منگل کو سوشل میڈیا پر جاری ایک مختصر ویڈیو میں ممدانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’شرم کرو، مسٹر ممدانی” اس کے بعد انہوں نے ممدانی پر حماس کی حمایت اور نیویارک کے یہودیوں کے خلاف فسادات بھڑکانے کا الزام لگایا
نیتن یاہو نے کہا، ’’شرم کرو کہ تم ان حماس کے دہشت گرد درندوں کی حمایت کرتے ہو جنہوں نے ہمارے لوگوں کو قتل کیا،شرم کرو کہ تم نیویارک کے یہودیوں کے خلاف فسادات بھڑکانے کی کوشش کرتے ہو”
اسرائیلی وزیراعظم نے مزید کہا، ’’میں اقوام متحدہ آ رہا ہوں،میں اپنے بہادر فوجیوں کے بارے میں سچ بتاؤں گا اور تمہارے بارے میں بھی سچ بتاؤں گا”
یہ براہ راست حملہ ممدانی کے ایک روز قبل CNN کو دیے گئے انٹرویو کے بعد سامنے آیا، جس میں نیویارک کے میئر نے نیتن یاہو کے بارے میں اپنے مؤقف کو ایک مرتبہ پھر واضح کیا،ممدانی نے اسرائیلی وزیراعظم کو ’’جنگی مجرم‘‘ اور فلسطینیوں کے خلاف جسے وہ ’’ہولناک نسل کشی‘‘ قرار دیتے ہیں، اس کا ’’معمار‘‘ قرار دیا
ممدانی نے نیتن یاہو کی گرفتاری کے معاملے پر بھی اپنا مؤقف برقرار رکھا،انہوں نے کہا کہ عالمی فوجداری عدالت، ICC، کی جانب سے جاری گرفتاری کے وارنٹ کا احترام ہونا چاہیے اور کوئی شخص بین الاقوامی قوانین سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے،تاہم ممدانی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ نیویارک سٹی کے پاس خود نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا قانونی اختیار نہیں ہے
نیتن یاہو کے خلاف ICC نے نومبر 2024 میں غزہ کی جنگ کے سلسلے میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا،اسرائیل ان الزامات اور عدالت کے دائرۂ اختیار کو مسترد کرتا ہے، جبکہ امریکہ بھی ICC کے رکن ممالک میں شامل نہیں ہے
ممدانی نے رواں سال انتخابی مہم کے دوران یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر نیتن یاہو اقوام متحدہ کے اجلاس کے لیے نیویارک آئے تو انہیں گرفتار کیا جانا چاہیے،بعد میں جولائی میں انہوں نے تسلیم کیا کہ میئر کی حیثیت سے ان کے پاس ایسا کرنے کا قانونی اختیار نہیں ہے،اس کے باوجود وہ ICC کے وارنٹ کے احترام کا مطالبہ کرتے رہے ہیں
نیتن یاہو کے تازہ بیان میں سب سے زیادہ نمایاں الزام یہ تھا کہ ممدانی یہودیوں کے خلاف تشدد یا فسادات کو ہوا دے رہے ہیں،ممدانی نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تمام نیویارک کے شہریوں، جن میں یہودی بھی شامل ہیں، کے میئر ہیں اور وہ یہود دشمنی کی مذمت کرتے ہیں،واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ممدانی نے حماس کی حمایت کا اظہار نہیں کیا، جبکہ نیتن یاہو نے اپنی ویڈیو میں ان پر حماس کی حمایت کا الزام عائد کیا
ممدانی اور نیتن یاہو کے درمیان یہ ٹکراؤ اب صرف غزہ یا اسرائیل کی جنگ تک محدود نہیں رہا بلکہ نیویارک کی مقامی سیاست، امریکہ میں اسرائیل اور فلسطین کے بارے میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی تک پہنچ گیا ہے
نیتن یاہو جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے،اسرائیلی وزیراعظم نے واضح کر دیا ہے کہ ممدانی کے ساتھ ان کی لفظی جنگ ان کے نیویارک دورے کا ایک نمایاں موضوع بن سکتی ہے،ان کے بیان کے مطابق وہ جنرل اسمبلی میں اسرائیلی فوجیوں کے اقدامات کا دفاع کریں گے اور ممدانی کے خلاف بھی بات کریں گے
ادھر نیویارک میں اس تنازعہ نے احتجاج اور سکیورٹی کے خدشات بھی بڑھا دیے ہیں،ممدانی کے خلاف یہودی طلبہ اور کمیونٹی رہنماؤں کے مظاہرے پہلے ہی ہو چکے ہیں، جبکہ نیتن یاہو کی اقوام متحدہ میں آمد کے دوران مزید احتجاج متوقع ہیں
اس طرح نیتن یاہو کی نیویارک آمد سے پہلے دونوں رہنماؤں کے درمیان الفاظ کی جنگ غیر معمولی طور پر براہ راست ہو گئی ہے،ممدانی نیتن یاہو کو ICC کے جنگی جرائم کے وارنٹ کے تناظر میں جواب دہ قرار دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ نیتن یاہو ممدانی پر حماس کی حمایت اور نیویارک کے یہودیوں کے خلاف اشتعال انگیزی کے الزامات عائد کرتے ہوئے اعلان کر رہے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کے عالمی پلیٹ فارم سے ممدانی کے خلاف اپنا مؤقف پیش کریں گے، ادھر بعض سیاسی تجزیہ نگار حلقوں کا کہنا ہے دونوں جانب سے لفظی جنگ اور میڈیا میں رونق لگانے کے سوا کوئ معاملہ نہیں اور کون جانے کل پرسوں میں اسرائیلی وزیراعظم بھی مئیر کی رہائش گاہ Gracie Mansion جاکر نیویارک میں آباد یہودیوں کی فلاح بہبود کے منصوبوں پر گفتگو کرتے ہوئے ممدانی کو عظیم مئیر بننے کی جانب گامزن قرار دیکر انکی تعریف کرتے دیکھے جائیں

قومی خبریں سے مزید