Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اقوام متحدہ میں پاکستان کا میڈیا بھی تنہا: وہ نیویارک کہاں گیا جہاں صحافی، سفارت کار اور حکمران ایک دوسرے کو جانتے تھے؟

اقوام متحدہ میں پاکستان کا میڈیا بھی تنہا: وہ نیویارک کہاں گیا جہاں صحافی، سفارت کار اور حکمران ایک دوسرے کو جانتے تھے؟

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہائی لیول ہفتہ جاری ہے، دنیا بھر کے سربراہانِ حکومت، وزرائے خارجہ اور ان کے وفود شہر میں موجود ہیں، دوسرے ملکوں کے صحافی اپنے اپنے سفارتی مشنز اور حکومتی وفود کے ساتھ رابطے میں ہیں، مگر پاکستان کے لیے اس بار منظر کچھ مختلف ہے،نہ وہ روایتی پاکستانی میڈیا سینٹر ہے، نہ روزانہ کی باقاعدہ بریفنگ، نہ صحافیوں کو ایک جگہ جمع کرنے کا کوئ انتظام اور نہ ہی وہ سفارتی ماحول جس میں پاکستان کے سینئر صحافی اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران حکمرانوں، سفارت کاروں اور دنیا بھر سے آنے والے صحافیوں کے درمیان ایک مستقل رابطے کا کردار ادا کرتے تھے
ایک سینئر پاکستانی صحافی، جو اس وقت نیویارک میں موجود ہیں، نے گفتگو میں اس صورتحال کو ماضی کے مقابلے میں ایک بنیادی تبدیلی قرار دیا،ان کے مطابق اس مرتبہ پاکستان سے آنے والے صحافیوں کے درمیان بھی کوئی باقاعدہ رابطہ یا مرکزی کوآرڈی نیشن نظر نہیں آتی اور انہیں خود بھی یہ معلوم نہیں کہ پاکستان سے کون کون صحافی نیویارک پہنچا ہے،ان کا کہنا تھا کہ انہیں کسی باقاعدہ میڈیا بریفنگ یا مشن کی طرف سے اجتماعی طور پر یہ نہیں بتایا گیا کہ وزیراعظم، نائب وزیراعظم یا پاکستانی وفد کی سرگرمیوں کی کوریج کس طرح منظم کی جائے گی
ان کے بقول، “کوآرڈی نیشن کس چیز کی؟ کسی کو کسی کی خبر نہیں”، جو معلومات ملتی ہیں وہ زیادہ تر ادھر ادھر سے یا واٹس ایپ کے ذریعے آتی ہیں،پاکستانی مشن کی طرف سے بعض اطلاعات صحافیوں کو پیغامات کی صورت میں بھیجی جا رہی ہیں، لیکن ماضی کے اُس منظم میڈیا رابطے کا فقدان محسوس ہوتا ہے جس میں صحافیوں کو بٹھا کر بریف کیا جاتا، سوالات لیے جاتے اور اگلے دن کے پروگرام سے آگاہ کیا جاتا تھا
یہ صورتحال اس لیے بھی نمایاں ہے کہ کبھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی پاکستان کے لیے صرف سربراہ حکومت کی تقریر کا نام نہیں تھی بلکہ نیویارک میں ایک پورا صحافتی اور سفارتی ماحول تشکیل پاتا تھا،پاکستان سے آنے والے معروف اور تجربہ کار صحافیوں کو نہ صرف پاکستانی عوام اور حکمران جانتے تھے بلکہ اقوام متحدہ میں موجود دوسرے ممالک کے سفارت کار اور صحافی بھی ان سے واقف ہوتے تھے،ملاقاتیں محض سرکاری بریفنگ تک محدود نہیں رہتی تھیں؛ اقوام متحدہ کی راہداریوں، ہوٹلوں، سفارتی تقریبات اور میڈیا مراکز میں ہونے والی غیر رسمی گفتگو بھی رپورٹنگ کا اہم ذریعہ بنتی تھی
اس دور کا ایک بڑا مرکز نیویارک کا روزویلٹ ہوٹل ہوا کرتا تھا، جو پاکستان کے زیر ملکیت اثاثوں میں شامل رہا ہے،اقوام متحدہ کے ہائی لیول اجلاس کے دوران وہاں پاکستانی میڈیا کے لیے جگہ اور رابطے کا ایسا ماحول بن جاتا تھا جہاں صحافیوں کی آمدورفت رہتی، سفارت کار اور اعلیٰ حکام صحافیوں سے ملاقات کرتے اور کبھی سفیر یا فارن سیکریٹری اور وزراہ باقاعدہ بریفنگ دیتے،بعض مواقع پر وزیراعظم یا صدر بھی صحافیوں سے ملنے کے لیے وہاں آ جاتے تھے،صحافیوں کے لیے رہائش، ملاقاتوں اور دیگر انتظامات کے سلسلے میں بھی اسی مرکز کے گرد بھاگ دوڑ ہوتی تھی
وہ زمانہ اب صرف یادوں میں رہ گیا ہے
روزویلٹ ہوٹل، جو پاکستان کے اہم ترین بیرون ملک اثاثوں میں شمار ہوتا رہا ہے، 2020 سے بند ہے،2026 میں پاکستان اور امریکہ نے اس تاریخی عمارت کی دوبارہ تعمیر اور ترقی کے لیے مفاہمتی معاہدہ بھی کیا، لیکن اقوام متحدہ کے اس سال کے اجلاس میں پاکستانی صحافیوں کے لیے وہ پرانا مرکز موجود نہیں
اسی تبدیلی کو نیویارک میں موجود ایک سینئر صحافی نے انتہائی علامتی انداز میں بیان کیا،ان کے مطابق ماضی میں اقوام متحدہ کی عمارت سے باہر نکلتے ہی سامنے نیشنل بینک آف پاکستان کی موجودگی محسوس ہوتی تھی، پھر روزویلٹ ہوٹل پاکستان کے صحافتی اور سفارتی نیٹ ورک کا ایک نمایاں مرکز تھا،اب دونوں حوالوں سے نیویارک کا منظر بدل چکا ہے
صحافی نے کہا کہ وہ خود روزویلٹ ہوٹل دیکھنے گئے تو عمارت کی بندش نے انہیں ماضی اور حال کے فرق کا احساس دلایا،ان کے مطابق نیویارک میں کووڈ کے بعد بیشتر ہوٹل دوبارہ چل رہے ہیں، مینہٹن میں انسانوں کا کھوے سے کھوا جڑا ہے ، پہلے کے مقابلے میں رونق بڑھ گئی ہے ، جبکہ روزویلٹ اب بھی بند ہے، ان کے الفاظ میں یہ صرف ایک عمارت کے بند ہونے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسے دور کے خاتمے کی علامت ہے جب پاکستان سے صحافیوں کو ہی نہیں عام پاکستانی کو بھی ایک امید تھی اور اپنے حکمرانوں، سفارت کاروں سے توقعات تھیں اور حکمران بھی کچھ کرنے کا عزم رکھتے تھے ، اب صورت حال یہ ہے نہ عوام کو حکمرانوں سے کوئ مطلب ہے نہ وہ حکمرانوں کو پوچھتے ہیں نہ حکمراں انہیں اور یہی حال زندگی کے ہر شعبے میں ہے ، صحافت اور حکمرانوں کے درمیان بھی تعلق رابطے بالکل عوام اور حکمرانوں جیسے ہیں
اس سال پاکستان سے آنے والے صحافیوں کی تعداد بھی محدود دکھائی دیتی ہے،نیویارک میں موجود مذکورہ سینئر صحافی کے مطابق ان سمیت صرف ایک اور تجربہ کار صحافی موجود ہیں، جبکہ بڑی تعداد نسبتاً نئے صحافیوں کی ہے،انہوں نے شکوہ کیا کہ نئے آنے والوں کے لیے نہ وہ اجتماعی رہنمائی ہے، نہ وہ پرانا تجربہ کار صحافتی حلقہ جس سے وہ اقوام متحدہ کی رپورٹنگ، امریکی سیاست اور سفارتی معاملات کو سمجھنے میں مدد لے سکیں
اس کے مقابلے میں بنگلہ دیش نے اپنے وزیراعظم طارق رحمان کے دورہ نیویارک کے لیے صحافیوں کے ساتھ باقاعدہ رابطے کا انتظام کیا ہے،21 ستمبر کو وزیراعظم کے ترجمان مہدی امین نے نیویارک میں بنگلہ دیشی صحافیوں کو بریف کیا، جبکہ 22 ستمبر کی شام وزیراعظم کی پہلے دن کی سرگرمیوں پر بنگلہ دیشی مشن میں باقاعدہ پریس بریفنگ بھی رکھی گئی، جس میں وفد کے ارکان اور پریس ونگ کے حکام کی شرکت متوقع تھی
یہ فرق محض چائے، کافی یا کھانے کے انتظام کا نہیں،اصل فرق اطلاعات کے منظم بہاؤ کا ہے،ایک طرف صحافیوں کو یہ معلوم ہو کہ ان کے سربراہ حکومت کی اگلی ملاقات کہاں ہے، کس سے ملاقات ہوئی، اس کا موضوع کیا تھا، سوالات کس سے کیے جا سکتے ہیں اور اگلے دن کی کوریج کا شیڈول کیا ہے،دوسری طرف صحافی خود ایک دوسرے کو تلاش کر رہے ہوں اور معلومات مختلف واٹس ایپ پیغامات سے جمع کر رہے ہوں
اقوام متحدہ کی اپنی طرف سے اس سال بھی عالمی میڈیا کے لیے باقاعدہ میڈیا سہولتیں موجود ہیں، لیکن وہ تمام ممالک کے صحافیوں کے لیے عمومی نظام ہے،قومی میڈیا کی مخصوص ضروریات، اپنے وزیراعظم یا وزیر خارجہ کی سرگرمیوں کی تفصیلات اور صحافیوں کے ساتھ براہ راست رابطہ متعلقہ حکومت اور مشن کی ذمہ داری رہتا ہے
پاکستانی صحافت کے لیے شاید اصل سوال یہی ہے کہ کیا اقوام متحدہ کی کوریج اب صرف چند سرکاری بیانات اور واٹس ایپ پیغامات تک محدود ہو رہی ہے؟
ایک وقت تھا جب نیویارک میں پاکستان کا میڈیا مشن صرف خبر لینے نہیں آتا تھا، بلکہ وہ خود سفارتی منظرنامے کا ایک پہچانا ہوا حصہ ہوتا تھا،معروف صحافیوں کو سفیر جانتے تھے، سفیر صحافیوں کو جانتے تھے، وزرا صحافیوں سے براہ راست بات کرتے تھے اور حکمران کبھی کبھی اسی میڈیا مرکز میں اچانک پہنچ جاتے تھے
اب ایک سینئر صحافی کی بات میں اس پورے بدلتے ہوئے منظرنامے کا خلاصہ سنائی دیتا ہے: “ہم تو بس ایسے ہی آ گئے ہیں”
یہ جملہ صرف ایک صحافی کی شکایت نہیں، بلکہ شاید اس سوال کی علامت ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ میں اپنے سیاسی اور سفارتی پیغام کے ساتھ اپنے میڈیا کو بھی وہی اہمیت دینا چھوڑ دی ہے جو کبھی اس عالمی اجتماع کے دوران دی جاتی تھی
اور نیویارک کی سڑک پر بند پڑا روزویلٹ ہوٹل اس تبدیلی کی ایک خاموش، مگر انتہائی نمایاں علامت بن کر کھڑا ہے

قومی خبریں سے مزید