Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

نیویارک میں ٹرمپ کا دو روزہ شو: اقوام متحدہ میں جنگ کی دھمکی، ممدانی سے مفاہمت، سڑکوں پر احتجاج اور میڈیا سے نئی جنگ

نیویارک میں ٹرمپ کا دو روزہ شو: اقوام متحدہ میں جنگ کی دھمکی، ممدانی سے مفاہمت، سڑکوں پر احتجاج اور میڈیا سے نئی جنگ

نیویارک میں ڈونلڈ ٹرمپ کا دو روزہ قیام محض اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب تک محدود نہیں رہا،21 اور 22 ستمبر کو امریکی صدر نے ایک ہی شہر میں مقامی سیاست، عالمی سفارت کاری، ایران کی جنگ، یوکرین، میڈیا سے کشمکش اور سڑکوں پر احتجاج، سب کو اپنی سیاسی مہم کے ایک بڑے منظرنامے میں سمو دیا،ایک طرف وہ نیویارک کے میئر زوہران ممدانی کے ساتھ کھڑے ہو کر شہر کو سستا اور قابل رہائش بنانے پر بات کر رہے تھے، دوسری طرف اقوام متحدہ کے عالمی فورم پر ایران کو امن معاہدے یا تباہ کن جنگ کے درمیان انتخاب کا انتباہ دے رہے تھے
ٹرمپ کا نیویارک پروگرام پیر 21 ستمبر کو ایک غیر معمولی سیاسی ملاقات سے شروع ہوا، جب وہ گریسی مینشن پہنچے اور میئر زوہران ممدانی کے ساتھ تقریباً ایک گھنٹہ گزارا،دونوں رہنماؤں کے سیاسی اختلافات کسی سے پوشیدہ نہیں، لیکن ملاقات کا لہجہ حیرت انگیز طور پر مفاہمانہ تھا،ممدانی نے صدر سے نیویارک میں رہائش کی لاگت، عام شہریوں کے لیے زندگی آسان بنانے اور تارکین وطن کی حفاظت جیسے معاملات پر تعاون کی بات کی، جبکہ ٹرمپ نے ممدانی کو کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ وہ ایک “عظیم میئر” ثابت ہوں گے۔ دونوں نے کوئنز میں ممکنہ ہاؤسنگ منصوبے اور نیویارک کو محنت کش طبقے کے لیے زیادہ قابل استطاعت بنانے پر بھی گفتگو کی
ٹرمپ نے گریسی مینشن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میڈیا پر بھی سخت حملہ جاری رکھا،انہوں نے CNN اور MS NOW کو جانبدار قرار دیا اور کہا کہ انہیں وائٹ ہاؤس سے دور رکھنے کی ان کی پالیسی برقرار رہے گی،یہ تنازع اسی وقت عدالت تک پہنچ چکا تھا،CNN، MS NOW اور Politico نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف وفاقی مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وائٹ ہاؤس نے ان کے خلاف خبری کوریج کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا اور پہلی آئینی ترمیم کے تحت حاصل صحافتی آزادیوں کی خلاف ورزی کی،قانونی ماہرین نے رائٹرز کو بتایا کہ حکومتی فیصلے میں نظریاتی یا سیاسی نقطۂ نظر کی بنیاد پر میڈیا کو سزا دینے کا معاملہ عدالت میں سنگین آئینی سوال پیدا کر سکتا ہے
منگل 22 ستمبر کو ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کے لیے پہنچے،37 منٹ کی تقریر کا سب سے نمایاں حصہ ایران تھا،ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا اور خبردار کیا کہ اگر تہران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو ان کے پاس ایران کو “تباہ” کرنے کا راستہ اختیار کرنے کا اختیار موجود ہے،تاہم اسی تقریر میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ممکن ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد کسی معاہدے کی راہ نکل سکتی ہے
ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ حکومتوں نے ایرانی جوہری خطرے کو بڑھنے دیا اور ان کے مطابق امریکہ نے کارروائی کرکے اس خطرے کو روکنے کی کوشش کی،انہوں نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کا بھی ذکر کیا اور دوسرے ملکوں سے ایران پر دباؤ بڑھانے میں امریکہ کا ساتھ دینے کی اپیل کی
لیکن ٹرمپ کی تقریر کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ جنگی دھمکی کے ساتھ ساتھ سفارت کاری کا دروازہ بھی کھلا رکھا گیا،تقریر کے فوراً بعد ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے نیویارک میں ایرانی وفد کے ساتھ تقریباً تین گھنٹے ملاقات کی،ایرانی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک تھے،ٹرمپ نے ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے “بہت زیادہ رفتار” محسوس ہو رہی ہے،ایرانی جانب سے اس ملاقات کے بارے میں بتایا گیا کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سمیت بعض شرائط پر بات کرنا چاہتا ہے
ایران کے بعد مشرق وسطیٰ ہی ٹرمپ کے نیویارک سفارتی ایجنڈے کا مرکز رہا،انہوں نے عرب ممالک اور خطے کے دوسرے نمائندوں کے ساتھ اجتماعی ملاقات کی، جس میں خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کے علاوہ اردن، مصر، ترکی، عراق، لبنان اور شام کے نمائندے بھی شریک ہوئے،اردن کے شاہ عبداللہ نے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران زیادہ سے زیادہ تحمل کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے کے امکانات کا ذکر کیا
ٹرمپ نے یوکرین جنگ کو بھی اپنی تقریر میں نظرانداز نہیں کیا،روس اور یوکرین کے درمیان ساڑھے چار سال سے جاری جنگ کے بارے میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر دعویٰ کیا کہ امریکہ دونوں ملکوں کی قیادت کے ساتھ کام کر رہا ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے پیش رفت ہوگی،ان کے مطابق مسئلہ حل ہونا ان کی توقع سے بھی جلد ممکن ہے
مصنوعی ذہانت بھی ٹرمپ کے خطاب کا حصہ بنی،انہوں نے “Artificial Intelligence” کے بجائے “Super Intelligence” کی اصطلاح استعمال کرنے کی بات کی اور امریکہ کو چین پر اس میدان میں برتری حاصل ہونے کا دعویٰ کیا،ساتھ ہی انہوں نے مصنوعی ذہانت کے حفاظتی خدشات کو مسترد کرنے والا اپنا مؤقف دوبارہ پیش کیا
اقوام متحدہ کے باہر اس عالمی سفارتی منظرنامے کے ساتھ ایک بالکل مختلف نیویارک بھی موجود تھا،ٹرمپ کی آمد سے پہلے ہی سیکنڈ ایونیو اور 43ویں اسٹریٹ کے قریب مظاہرہ ہوا، جہاں تقریباً دو درجن افراد کو حراست میں لیا گیا،بعد میں مزید مظاہروں میں کارکن سڑک پر بیٹھ گئے اور بعض جگہ زمین پر لیٹ کر احتجاج کیا،پولیس نے مظاہرین کو اٹھا کر حراست میں لیا اور بسوں میں منتقل کیا،احتجاج میں ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف نعرے لگائے گئے
یہ احتجاج اچانک پیدا ہونے والا واقعہ نہیں تھا،نیویارک پولیس نے پہلے ہی اعلان کر رکھا تھا کہ جنرل اسمبلی کے دوران روزانہ متعدد مظاہروں کی توقع ہے اور اقوام متحدہ کے اردگرد ہزاروں پولیس اہلکار، انسداد دہشت گردی یونٹس، بم اسکواڈ، ڈرون ٹیمیں اور دیگر خصوصی یونٹس تعینات کیے گئے ہیں،تقریباً 200 ملکوں کے نمائندوں کی آمد کے باعث شہر کا سکیورٹی انتظام سال کے پیچیدہ ترین آپریشنز میں شامل ہے
ٹرمپ کے نیویارک قیام کا ایک دلچسپ تضاد یہی رہا،اقوام متحدہ کے اندر وہ دنیا کے طاقتور ترین ملک کے صدر کی حیثیت سے جنگ، امن، ایران اور عالمی نظام پر اپنا مؤقف پیش کر رہے تھے، جبکہ شہر کے اندر ان کی اپنی حکومت میڈیا کی آزادی کے حوالے سے عدالت میں مقدمے کا سامنا کر رہی تھی اور سڑکوں پر ان کی پالیسیوں کے خلاف مظاہرین پولیس سے ٹکرا رہے تھے
اور اسی دوران ممدانی کے ساتھ ان کی ملاقات نے ایک دوسرا سیاسی منظر پیش کیا،جس میئر کے ساتھ ٹرمپ کے شدید نظریاتی اختلافات ہیں، اسی کے ساتھ وہ نیویارک کے ہاؤسنگ بحران اور مہنگائی پر تعاون کی بات کر رہے تھے،یوں ٹرمپ کا یہ نیویارک دورہ ایک ہی وقت میں تین مختلف چہروں کے ساتھ سامنے آیا،اقوام متحدہ میں طاقت کا مظاہرہ، ایران کے معاملے میں جنگ اور مذاکرات دونوں کا پیغام، اور اپنے ہی ملک میں میڈیا اور احتجاج کے ساتھ جاری سیاسی و قانونی محاذ
ٹرمپ کے دو روزہ نیویارک قیام کی اصل کہانی شاید یہی تضاد ہے،وہ عالمی رہنماؤں کے سامنے امریکی طاقت کا اعلان کر رہے تھے، ایران کو معاہدے یا انتہائی سخت کارروائی کا انتخاب دے رہے تھے، ایرانی نمائندوں سے پس پردہ بات چیت بھی ہو رہی تھی، نیویارک کے ایک نظریاتی مخالف میئر سے شہری مسائل پر تعاون بھی کر رہے تھے، جبکہ باہر مظاہرین سڑکوں پر اور اندر میڈیا تنظیمیں عدالت میں ان کے خلاف کھڑی تھیں

قومی خبریں سے مزید