آبنائے ہرمز کھولنے کی ایرانی پیشکش نے جنگ کا رخ موڑنے کا اشارہ دے دیا، نیویارک میں ٹرمپ اور ایرانی صدر کی ممکنہ ملاقات پر دنیا کی نظریں
ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ایسا سفارتی راستہ پیش کر دیا ہے جس نے عالمی منڈیوں میں گزشتہ روز اچانک آنے والی تیزی کو نئی معنویت دے دی ہے،جاپانی خبر رساں ادارے کیودو اور رائٹرز کے مطابق ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے بتایا ہے کہ تہران امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی میں نرمی اور فوجی دباؤ کم کرنے کے ابتدائی اقدامات کے بدلے سات دن کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے
ایرانی تجویز مبینہ طور پر 16 ستمبر کو ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائی گئی تھی اور اس میں جنگ بندی کے بجائے ایک ایسے مذاکراتی عمل کی بحالی کی بات کی گئی ہے جس کا مقصد مستقل طور پر دشمنی ختم کرنا ہو،ایرانی حکام کے مطابق نیویارک میں جاری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اس سفارتی رابطے کے لیے ایک اہم موقع بن سکتی ہے
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نیویارک پہنچ چکے ہیں اور بدھ کو جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے ہیں،ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی نیویارک میں موجود ہیں اور ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وفد کے پاس سفارتی مذاکرات آگے بڑھانے کا مکمل اختیار ہے
دلچسپ بات یہ ہے کہ عالمی مالیاتی منڈیوں نے اس خبر کے باضابطہ سامنے آنے سے پہلے ہی کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کی توقع ظاہر کرنا شروع کر دی تھی،پیر کو امریکی اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی آئی،نیس ڈیک 2.3 فیصد بڑھ کر 27,122.09 کی ریکارڈ بلند اختتامی سطح پر پہنچ گیا، ایس اینڈ پی 500 میں 1.5 فیصد اور ڈاؤ جونز میں 0.7 فیصد اضافہ ہوا،اسی روز امریکی خام تیل WTI کی قیمت تقریباً 4.5 فیصد گر کر 95.78 ڈالر فی بیرل رہ گئی، جو 8 ستمبر کے بعد کم ترین سطح تھی، جبکہ برینٹ 3.4 فیصد گر کر تقریباً 100.34 ڈالر پر آ گیا
یعنی ایک طرف حصص خریدے جا رہے تھے اور دوسری طرف تیل کی قیمت تیزی سے نیچے آ رہی تھی،مارکیٹ کے لیے اس کا مطلب یہی تھا کہ مشرق وسطیٰ میں توانائی کی رسد کے خطرات شاید پہلے کے مقابلے میں کم ہو سکتے ہیں،وال اسٹریٹ کی رپورٹنگ میں بھی اسٹاک مارکیٹ کی تیزی کو تیل کی قیمت میں کمی اور واشنگٹن تہران مذاکرات کے امکانات سے جوڑا گیا
یہی وجہ ہے کہ گزشتہ روز کی مارکیٹ حرکت اب محض ایک اتفاق محسوس نہیں ہوتی،اگر آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے، ایرانی بندرگاہوں سے تیل کی ترسیل بحال ہونے اور امریکہ ایران مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کا راستہ نکلتا ہے تو عالمی توانائی منڈی پر جنگ کا دباؤ کم ہو سکتا ہے،تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ کوئی معاہدہ طے پا چکا ہے
بلکہ اس کہانی میں ایک اہم تضاد بھی موجود ہے،ایرانی نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے منگل کو کیودو اور رائٹرز کی رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سات دن میں کھولنے کی پیشکش سے متعلق اطلاعات درست نہیں،یوں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بین الاقوامی ذرائع ایک ایرانی عہدیدار کے حوالے سے سفارتی پیشکش رپورٹ کر رہے ہیں، جبکہ تہران سے ایک اہم نیم سرکاری ادارہ اس کی تردید کر رہا ہے
دوسری طرف نیویارک میں ممکنہ ٹرمپ پزشکیان ملاقات نے اس سفارتی قیاس آرائی کو مزید اہم بنا دیا ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم ابھی تک دونوں صدور کی باقاعدہ ملاقات طے ہونے کا اعلان نہیں کیا گیا،رائٹرز کے مطابق پزشکیان نے جنرل اسمبلی کے موقع پر ٹرمپ سے ملاقات کا منصوبہ نہیں بنایا، جبکہ دوسری جانب امریکی صدر نے ملاقات کے امکان کو رد نہیں کیا
یہاں چین کا عنصر بھی اہم ہے،صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات بھی اس ہفتے طے ہے،اگرچہ یہ ملاقات براہ راست ایران کے مسئلے پر نہیں ہے، لیکن چین ایران کا اہم اقتصادی شراکت دار ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی توانائی کی ترسیل میں کسی بھی بڑی رکاوٹ کا براہ راست اثر چینی معیشت پر پڑتا ہے،اسی لیے واشنگٹن، بیجنگ اور تہران کے سفارتی رابطے ایک ہی ہفتے میں ہونے کو عالمی منڈی انتہائی غور سے دیکھ رہی ہے
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا موجودہ اجلاس اس اعتبار سے غیرمعمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ایک طرف ٹرمپ آج جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں، دوسری طرف پزشکیان بدھ کو ایرانی مؤقف پیش کریں گے، جبکہ دونوں ممالک کے سفارتی حکام نیویارک میں موجود ہیں،ایرانی وزیر خارجہ نے بھی کہا ہے کہ جنرل اسمبلی ایران کے لیے جنگ، پابندیوں اور اپنے موقف کو عالمی سطح پر پیش کرنے کا اہم پلیٹ فارم ہے
اس تمام صورتحال میں آبنائے ہرمز سب سے اہم کارڈ بن چکی ہے،دنیا کی توانائی کی ترسیل کے لیے یہ راستہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اور اس کی بندش نے پہلے ہی تیل، شپنگ، ایندھن اور مہنگائی کے خدشات کو عالمی معیشت پر منتقل کر دیا ہے،اب اگر واقعی ایران اسے سات دن میں کھولنے کے لیے تیار ہے اور اس کے بدلے امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو یہ صرف ایک سمندری راستے کا دوبارہ کھلنا نہیں ہوگا بلکہ کئی ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا دروازہ بھی کھول سکتا ہے
لیکن فی الحال ایک چیز واضح ہے،بازار نے سفارت کاری کے امکان پر شرط لگانا شروع کر دی ہے، جبکہ حکومتیں ابھی تک یہ ثابت نہیں کر سکیں کہ امن کا راستہ واقعی کھل چکا ہے،اگلے چند دنوں میں نیویارک میں ہونے والی ملاقاتیں، بالخصوص ٹرمپ اور پزشکیان کے درمیان ممکنہ براہ راست رابطہ، اس بات کا تعین کر سکتا ہے کہ پیر کی وال اسٹریٹ ریلی اور تیل کی قیمت میں کمی محض مارکیٹ کی امید تھی یا آنے والی کسی بڑی سفارتی پیش رفت کا ابتدائی اشارہ





