جنگ نے عراق کے تیل کے مرکز بصرہ کو مفلوج کردیا، مزدور بے روزگار اور تیل کے ٹرک خالی کھڑے ہیں
مشرق وسطیٰ کی جاری جنگ اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل میں رکاوٹ نے عراق کے سب سے اہم تیل مرکز بصرہ کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے تیل کے کنوؤں اور بندرگاہوں کی سرگرمیاں محدود ہونے سے ہزاروں مزدوروں اور نجی کمپنیوں کے ملازمین کو تنخواہوں میں کٹوتی، کام میں کمی اور ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑ رہا ہے
بصرہ عراق کی معیشت میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ ملک کی غیر ملکی آمدنی کا تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمد سے حاصل ہوتا ہے اور اس تیل کا بڑا حصہ بصرہ کے قریب موجود تنصیبات سے آبنائے ہرمز کے راستے عالمی منڈی تک پہنچتا ہے ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہونے کے بعد تیل ذخیرہ کرنے کی مقامی گنجائش تیزی سے بھر گئی، جس کے نتیجے میں عراق کو تیل کی پیداوار کم کرنا پڑی
بصرہ میں تیل کے ٹرکوں کی لمبی قطاریں موجود ہیں، لیکن بہت سے ٹرک خالی کھڑے ہیں جبکہ کچھ ٹرکوں میں خام تیل موجود ہونے کے باوجود وہ کئی کئی ہفتوں سے بحری جہازوں میں تیل منتقل کرنے کے منتظر ہیں ایک نجی کمپنی کے ملازم فوزی نے بتایا کہ وہ ایک ماہ سے تقریباً بے کار بیٹھا ہے اس کی کمپنی نے پہلے تنخواہوں میں 20 فیصد کمی کی، پھر تنخواہیں نصف کردی گئیں اور درجنوں ملازمین کو ملازمت سے فارغ کردیا گیا اب اسے بھی مہینے میں صرف 15 دن کام ملتا ہے
جنگ سے پہلے عراق روزانہ تقریباً 4 ملین بیرل خام تیل پیدا کرتا تھا اور اوسطاً 3.4 ملین بیرل برآمد کرتا تھا لیکن ہرمز میں رکاوٹ کے بعد برآمدات متاثر ہوئیں اور ملک کو اپنی پیداوار کم کرنا پڑی ستمبر میں صورتحال کچھ بہتر ہوئی ہے اور عراقی حکام کے مطابق اس ماہ اب تک اوسطاً تقریباً 2.6 ملین بیرل روزانہ تیل برآمد کیا گیا ہے، تاہم یہ مقدار جنگ سے پہلے کی سطح سے اب بھی نمایاں طور پر کم ہے
عراق نے برآمدات کے لیے متبادل راستے تلاش کرنا شروع کردیئے ہیں حکومت نے جنوبی علاقوں سے خام تیل ٹرکوں کے ذریعے شمالی عراق کے شہر کرکوک تک پہنچانے کا تجربہ بھی کیا ہے تاکہ وہاں سے ترکیہ کی جیہان بندرگاہ کے راستے تیل برآمد کیا جاسکے۔ 13 اور 14 ستمبر کے تجرباتی آپریشن میں 209 ٹینکر ٹرکوں کے ذریعے تقریباً 38 ہزار بیرل خام تیل منتقل کیا گیا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ راستہ فی الحال ہرمز کے ذریعے ہونے والی لاکھوں بیرل روزانہ کی برآمدات کا متبادل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا
جنگ کا اثر صرف تیل کی صنعت تک محدود نہیں رہا عراق کی بڑی جنوبی تجارتی بندرگاہ ام قصر بھی تقریباً ویران دکھائی دے رہی ہے بندرگاہ پر چند ہی جہاز موجود ہیں جبکہ 3 نئے بنائے گئے برتھ خالی پڑے ہیں بندرگاہ کے منافع سے منسلک اضافی مراعات ختم ہونے کے باعث سرکاری ملازمین کی آمدنی بھی متاثر ہوئی ہے حکام کا کہنا ہے کہ جب تک بحری جہازوں کی آمدورفت بحال نہیں ہوتی، نجی کمپنیوں کے لیے موجودہ تعداد میں ملازمین کو برقرار رکھنا مشکل ہوگا
بصرہ کی مقامی تجارت بھی متاثر ہوئی ہے ایک دکاندار کے مطابق الیکٹرونکس کی فروخت تقریباً نصف رہ گئی ہے کیونکہ درآمدی اشیا مہنگی ہوگئی ہیں، لوگوں کی تنخواہوں میں کمی ہوئی ہے اور متعدد غیر ملکی تیل کارکن عراق چھوڑ چکے ہیں شہری مستقبل میں تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر اور معاشی مشکلات بڑھنے کے خدشے کے باعث غیر ضروری اخراجات سے گریز کررہے ہیں
عراق کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی معیشت اب بھی تیل پر غیر معمولی حد تک انحصار کرتی ہے تیل کی آمدنی سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، درآمدات اور ملکی کرنسی کی قدر کو سہارا دیا جاتا ہے جنگ کے دوران غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں بھی تقریباً 20 ارب ڈالر کی کمی رپورٹ ہوئی ہے اور آمدنی میں شدید کمی کے باعث حکومت کو اندرونی قرض لینے پر مجبور ہونا پڑا ہے
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو عراق کے لیے موجودہ مالی دباؤ کو برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے بصرہ کی موجودہ صورتحال اس بات کی واضح مثال بن گئی ہے کہ کئی دہائیوں کی جنگوں کے بعد بھی عراق کی معیشت تیل اور ایک اہم سمندری راستے پر کتنی زیادہ منحصر ہے





