ایران کا امریکا کو دوٹوک پیغام، مذاکرات کے لیے 7 شرائط، انکار پر ’’فیصلہ کن جنگ‘‘ کی دھمکی

ایران کا امریکا کو دوٹوک پیغام، مذاکرات کے لیے 7 شرائط، انکار پر ’’فیصلہ کن جنگ‘‘ کی دھمکی

ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے 7 شرائط پیش کردی ہیں اور واضح کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے یہ شرائط مسترد کیں تو تہران ’’فیصلہ کن جنگ‘‘ کے لیے تیار ہے،ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کے مطابق تہران کی شرائط قطر کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچا دی گئی ہیں اور اب ایران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جواب کا منتظر ہے
رضائی نے جن شرائط کو عوامی طور پر بیان کیا ان میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی اور ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا شامل ہیں،دیگر شرائط میں ایران کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت ختم کرنا، ایرانی حکومت کے مخالفین کے ساتھ امریکی تعاون روکنا اور ایرانی سرزمین پر امریکی حملوں کا خاتمہ شامل بتایا گیا ہے،تاہم ساتوں شرائط کی مکمل سرکاری فہرست ہر ذریعے میں یکساں طور پر شائع نہیں ہوئی
رضائی نے امریکی دھمکیوں کے جواب میں کہا کہ ایران جنگ کے لیے تیار ہے اور تہران نے اپنی فوجی منصوبہ بندی میں تبدیلی کرتے ہوئے خلیج فارس، خلیج عمان اور بحیرہ عرب میں موجود امریکی بحری اثاثوں پر توجہ مرکوز کی ہے،انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران نے حال ہی میں ایک کثیر وارہیڈ اینٹی شپ میزائل کا تجربہ کیا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی
تہران کی جانب سے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کے ساتھ یہ سخت انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب قطر اور پاکستان سمیت علاقائی ثالث امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کر رہے ہیں
ایران نے آبنائے ہرمز کے معاملے کو بھی مذاکرات سے جوڑ رکھا ہے،ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے مطابق امریکی وعدوں اور ایران کے مطالبات پر پیش رفت تک آبنائے ہرمز کو سابقہ معمول پر واپس لانے کا راستہ کھولنے کا امکان نہیں

قومی خبریں سے مزید