بھارتی معاشی ترقی:سابق سیکریٹری فنانس نے بھانڈہ پھوڑ دیا، 7.8 کی گروتھ ڈرامہ نکلی ، اصل شرح 2.6 فیصد، حقیقی نمو صفر کے قریب
دہلی ؛بھارت کی جانب سے اپریل تا جون 2026 کی سہ ماہی میں 7.8 فیصد GDP growth کے دعوے نے شدید معاشی بحث چھیڑ دی ہے،سابق فنانس سیکریٹری سبھاش چندر گرگ نے سرکاری اعداد و شمار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی کا اصل GDP تخمینہ تبدیل نہ کیا جاتا تو موجودہ قیمتوں پر بھارتی معیشت کی نمو صرف 2.6 فیصد بنتی، جبکہ مہنگائی کا اثر نکالنے کے بعد حقیقی نمو صفر کے قریب رہ جاتی ہے
گرگ نے اپنی وضاحت میں بنیادی مسئلہ گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی کے GDP کے اعداد میں بڑی تبدیلی کو قرار دیا،ان کے مطابق اگست 2025 میں حکومت نے Q1 FY2025-26 کا nominal GDP تقریباً 86.05 لاکھ کروڑ روپے رپورٹ کیا تھا، لیکن نئے GDP series کے تحت اسی سہ ماہی کا تخمینہ گھٹا کر تقریباً 80 لاکھ کروڑ روپے کردیا گیا،موجودہ سہ ماہی کا GDP تقریباً 88 لاکھ کروڑ روپے ہونے کی بنیاد پر حکومت نے 10.3 فیصد nominal growth اور پھر 7.8 فیصد real growth رپورٹ کی
گرگ کا کہنا ہے کہ اگر 86.05 لاکھ کروڑ کو گزشتہ سال کی بنیاد برقرار رکھا جائے تو 88 لاکھ کروڑ تک اضافہ صرف 2.6 فیصد بنتا ہے،ان کے مطابق حکومت کے تقریباً 2.5 فیصد deflator کو استعمال کرنے کے بعد حقیقی شرح نمو تقریباً صفر رہ جاتی ہے
یہ دعویٰ تاہم متنازعہ ہے،بھارتی حکومت اور اس کے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پرانے 2011-12 base-year series کے اعداد کو نئے 2022-23 series کے اعداد کے ساتھ براہ راست ملانا درست نہیں، کیونکہ نئے سلسلے میں اعداد و شمار کے ذرائع، کوریج اور طریقۂ کار میں تبدیلیاں کی گئی ہیں،حکومت کا مؤقف ہے کہ گزشتہ سال کے اعداد میں کمی معمول کی revision process کا حصہ ہے، نہ کہ موجودہ growth rate بڑھانے کے لیے جان بوجھ کر کی گئی تبدیلی
یوں بھارت کی 7.8 فیصد نمو بمقابلہ 2.6 فیصد کی بحث دراصل GDP کے نئے اور پرانے statistical series، base year اور گزشتہ سال کے revised data کے تقابل پر مرکوز ہوگئی ہے،سابق چیف اسٹیٹسٹیشن پروناب سین نے بھی 7.8 فیصد کے سرکاری اعداد کو قابلِ بحث قرار دیتے ہوئے شفافیت کے لیے کچھ عرصے تک پرانے اور نئے دونوں series کے تحت growth figures جاری کرنے کی تجویز دی ہے





