میکلمور ایڈ شیرن کے دورے سے حاصل 1 ملین ڈالر فلسطینی تنظیموں کو عطیہ کریں گے

میکلمور ایڈ شیرن کے دورے سے حاصل 1 ملین ڈالر فلسطینی تنظیموں کو عطیہ کریں گے

امریکی ریپر میکلمور نے اعلان کیا ہے کہ وہ گلوکار ایڈ شیرن کے لوپ ٹور سے حاصل ہونے والی اپنی پوری 1 ملین ڈالر کی آمدنی فلسطینیوں کی امداد کے لیے کام کرنے والی 6 تنظیموں کو عطیہ کریں گے یہ اعلان انہیں ایڈ شیرن کے دورے سے الگ کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے
میکلمور نے کہا کہ وہ اپنی آمدنی ہیلتھ، طبی امداد، خوراک اور دیگر انسانی ضروریات کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو دیں گے ان تنظیموں میں فلسطین چلڈرنز ریلیف فنڈ، ہیل فلسطین، غزہ سوپ کچن، میڈیکل ایڈ فار فلسطینز، یو این آر ڈبلیو اے یو ایس اے اور امریکن نیئر ایسٹ ریفیوجی ایڈ شامل ہیں
میکلمور نے یہ بھی کہا کہ وہ نیو انگلینڈ پیٹریاٹس اور گلٹ اسٹیڈیم کے مالک رابرٹ کرافٹ کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ بھی اتنی ہی رقم عطیہ کریں کرافٹ نے بعد میں کہا کہ ایڈ شیرن نے ان سے پہلے ہی خطے میں انسانی امداد کے لیے 2 ملین ڈالر دینے کی درخواست کی تھی اور وہ اس سلسلے میں مزید اسٹیڈیم مالکان سے بھی تعاون حاصل کرنے کی کوشش کریں گے
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب میکلمور نے نیو جرسی میں ایک کنسرٹ کے دوران فلسطینیوں کے حق میں بات کی اور فلسطین کے لیے آزادی کا نعرہ لگایا۔ اس کے بعد انہیں ایڈ شیرن کے دورے کی باقی امریکی تاریخوں سے الگ کردیا گیا رابرٹ کرافٹ نے میکلمور کو دورے سے ہٹانے کی حمایت کرتے ہوئے ان کے بعض سابقہ بیانات اور مواد پر اعتراض کیا، جبکہ میکلمور نے اس فیصلے کو فلسطین کے بارے میں اپنی آواز اٹھانے سے جوڑا
ایڈ شیرن نے وضاحت کی کہ میکلمور کو دورے سے ہٹانے کا فیصلہ ان کا نہیں بلکہ دورے کے منتظم کا تھا ان کے مطابق بعض مقامات نے واضح کیا تھا کہ اگر میکلمور دورے میں شامل رہے تو وہ اپنے ہاں ہونے والے پروگرام منسوخ کردیں گے شیرن نے کہا کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری تنازع اور اس سے پیدا ہونے والے انسانی المیے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں
میکلمور کے دورے سے الگ کیے جانے کے بعد دیگر معاون فنکاروں، جن میں فِنّیاس، لوکاس گراہم، آرون رو اور ایڈ شیرن کا بینڈ بیوگا شامل ہیں، نے بھی باقی دورے سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا
میکلمور کا کہنا ہے کہ ان کے لیے اصل معاملہ ذاتی تنازع یا موسیقی کا دورہ نہیں بلکہ فلسطینی عوام کی انسانی ضروریات اور ان کے حالات کی طرف توجہ دلانا ہے ان کا کہنا ہے کہ امداد فوری ضرورت پوری کرسکتی ہے، تاہم ان کے مطابق اس بحران کے بنیادی اسباب کے حل کے لیے سیاسی اقدامات بھی ضروری ہیں

قومی خبریں سے مزید