مغرب میں امیگریشن کے خلاف طوفان کیوں اٹھ رہا ہے؟ فاصلے، عدم انضمام اور بڑھتی بے چینی نے انتہائی دائیں بازو کو نئی طاقت دے دی

مغرب میں امیگریشن کے خلاف طوفان کیوں اٹھ رہا ہے؟ فاصلے، عدم انضمام اور بڑھتی بے چینی نے انتہائی دائیں بازو کو نئی طاقت دے دی
تجزیہ : آفاق فاروقی
مغربی دنیا میں امیگریشن کے خلاف بڑھتی ہوئی سیاسی لہر کو صرف نسل پرستی یا انتہائی دائیں بازو کے پروپیگنڈے سے سمجھنا اب ممکن نہیں رہا،یورپ اور امریکہ کے کئی معاشروں میں یہ سوال تیزی سے اہم ہوتا جا رہا ہے کہ نئے آنے والے لوگ جس معاشرے میں آباد ہوتے ہیں، کیا وہ واقعی اس معاشرے کا حصہ بن رہے ہیں یا اپنی الگ سماجی، ثقافتی اور طرز زندگی کی دنیا قائم کر رہے ہیں؟ یہی سوال اب انتخابات، سڑکوں کے احتجاج اور دائیں بازو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت میں تبدیل ہو رہا ہے
اس مسئلے کا ایک پہلو وہ ہے جس پر امیگریشن کے حامی اکثر کم بات کرتے ہیں،ایک شخص جب اپنے ملک سے نکل کر کسی دوسرے معاشرے میں آتا ہے تو صرف مکان، ملازمت اور قانونی حیثیت حاصل کرنا کافی نہیں ہوتا،اسے نئے معاشرے کے قوانین، نظم و ضبط، صفائی، پڑوسیوں کے حقوق، کام کے اخلاق، شہری ذمہ داریوں اور اجتماعی طرز زندگی کو بھی سمجھنا پڑتا ہے،یہ عمل صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں، خود تارک وطن کی بھی ذمہ داری ہے
یہاں اصل مسئلہ ثقافت کا ختم ہونا نہیں بلکہ انضمام ہے،اپنی زبان، مذہب، کھانا یا خاندانی روایات برقرار رکھتے ہوئے بھی کوئی شخص اس معاشرے کا مکمل حصہ بن سکتا ہے جس میں وہ رہتا ہے،لیکن جب مختلف گروہ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے سماجی طور پر الگ رہیں، اپنے علاقوں میں اپنی ہی زبان، اپنے ہی کاروبار، اپنے ہی سماجی حلقوں اور اپنے ہی طریقوں کے ساتھ محدود ہو جائیں تو فاصلے بڑھنے لگتے ہیں،فاصلے بڑھیں تو غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں، غلط فہمیوں سے شکایات اور شکایات سے تعصبات جنم لیتے ہیں
امریکہ کے بڑے شہروں میں یہ مسئلہ خاص طور پر نمایاں دکھائی دیتا ہے،نیویارک، لاس اینجلس، شکاگو، میامی اور واشنگٹن جیسے شہروں میں کئی تارکین وطن کمیونٹیز نے مضبوط کاروباری اور سماجی نیٹ ورک قائم کیے ہیں، جو اپنی جگہ کامیابی کی علامت بھی ہیں، لیکن بعض علاقوں میں یہ احساس بھی پیدا ہوا ہے کہ نئے آنے والے معاشرے میں گھلنے کے بجائے اپنی الگ دنیا بنا رہے ہیں۔ نیویارک سٹی میں غیر ہسپانوی سفید فام آبادی اب تقریباً 31% ہے اور شہر کی تقریباً 37% آبادی بیرون ملک پیدا ہوئی ہے،یہ اعداد صرف آبادیاتی تبدیلی نہیں بلکہ اس تبدیلی کی رفتار کی بھی نشاندہی کرتے ہیں
اسی لیے بعض مقامی آبادیوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ ان کے شہر کی زبان، کاروباری ماحول، محلے، اسکول، ہسپتال اور روزمرہ زندگی تیزی سے بدل رہے ہیں، جبکہ نئے آنے والوں سے ان تبدیلیوں کے مطابق ڈھلنے کی توقع نسبتاً کم کی جا رہی ہے،یہ احساس ہمیشہ درست یا مکمل تصویر نہیں ہوتا، لیکن سیاسی طور پر اس احساس کی طاقت کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا
ہسپتالوں اور عوامی خدمات کا تجربہ اس بحث کی ایک اہم مثال ہے،بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں تارک وطن نرسوں، ڈاکٹروں، ٹیکنیشنز اور دیگر کارکنوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان کی خدمات کے بغیر صحت کا نظام چلانا مشکل ہوگا،لیکن اگر کسی مریض کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑے، عملے کا رویہ تلخ ہو یا زبان اور ثقافتی فرق کی وجہ سے اسے یہ محسوس ہو کہ اسے مناسب توجہ نہیں مل رہی، تو وہ اپنے تجربے کو پورے امیگریشن نظام سے جوڑ سکتا ہے،اس طرح ایک انتظامی یا تربیتی مسئلہ بھی آہستہ آہستہ نسلی اور سیاسی مسئلہ بن جاتا ہے
اسی طرح رہائشی علاقوں میں صفائی، گھر کے سامنے جھاڑیوں اور درختوں کی دیکھ بھال، کچرا رکھنے کے اصول، پارکنگ، شور، پڑوسیوں کے حقوق اور مقامی قوانین کی پابندی جیسے بظاہر معمولی معاملات بھی معاشرتی ہم آہنگی کے لیے اہم ہوتے ہیں،جو شخص ایسے ملک سے آتا ہے جہاں ان چیزوں کے لیے ریاستی نگرانی یا سماجی دباؤ کم رہا ہو، وہ لازماً نئے معاشرے کے ہر ضابطے سے واقف نہیں ہوتا،لیکن اگر اسے بتایا ہی نہ جائے کہ یہاں یہ طریقہ کیوں ضروری ہے تو وہ اپنی پرانی عادت کے مطابق زندگی گزارے گا،دوسری طرف مقامی پڑوسی اسے بدتمیزی یا عدم احترام سمجھ سکتے ہیں
یہی وہ خلا ہے جہاں سے تعصب پیدا ہوتا ہے
اس کا حل یہ نہیں کہ تارک وطن کو ذلیل کیا جائے یا اس کی شناخت ختم کی جائے،حل یہ ہے کہ اسے واضح طور پر بتایا جائے کہ آپ ایک ایسے معاشرے میں آئے ہیں جہاں کچھ اصول پہلے سے موجود ہیں اور ان اصولوں کا احترام کرنا آپ کی نئی شہری ذمہ داری ہے،جس طرح مقامی معاشرے کو تارک وطن کے حقوق کا احترام کرنا ہوگا، اسی طرح تارک وطن کو بھی مقامی معاشرے کے حقوق اور اصولوں کا احترام کرنا ہوگا
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ دنیا کے بہت سے غریب یا کمزور ممالک سے لوگ آخرکار مغربی ملکوں کا رخ کیوں کرتے ہیں؟ اس کی ایک بڑی وجہ بہتر ریاستی ادارے، قانون کی حکمرانی، نسبتاً محفوظ ماحول، تعلیم، صحت، روزگار اور مستقبل کے مواقع ہیں،لیکن جب کوئی شخص انہی اداروں اور اصولوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے آتا ہے تو اسے ان اصولوں کو قبول کرنے کی ذمہ داری بھی اٹھانی چاہیے،اگر کوئی شخص قانون، میرٹ، نظم و ضبط اور شہری ذمہ داریوں کو مسلسل نظر انداز کرے تو اس سے صرف مقامی آبادی متاثر نہیں ہوتی، خود تارکین وطن کی کمیونٹی کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے
یہی وجہ ہے کہ انضمام اب امیگریشن کی بحث کا مرکزی سوال بنتا جا رہا ہے
یورپ میں اس تبدیلی کے سیاسی نتائج تیزی سے سامنے آ رہے ہیں،جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی اے ایف ڈی ایک ریاست میں تقریباً 44% ووٹ لے کر سب سے بڑی سیاسی قوت بن چکی ہے اور دوسری ریاستوں میں بھی اس کی پوزیشن مضبوط بتائی جا رہی ہے،سویڈن میں امیگریشن مخالف سویڈن ڈیموکریٹس پہلے ہی حکومتی اتحاد کو پارلیمانی حمایت فراہم کر رہی ہے اور وزیراعظم اولف کرسٹرسن نے کہا ہے کہ دائیں بازو دوبارہ جیتا تو یہ جماعت پہلی بار کابینہ میں شامل ہو سکتی ہے
سویڈن نے یہاں تک پہنچ کر امیگریشن پالیسی میں ایک غیر معمولی قدم اٹھایا ہے،حکومت غیر یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے بعض قانونی رہائشیوں کو ملک چھوڑنے کے لیے 350,000 سویڈش کرونا، تقریباً 37,000 ڈالر تک دینے کی پیشکش کر رہی ہے،اس پالیسی کو سویڈن ڈیموکریٹس نے خاص طور پر آگے بڑھایا ہے اور اسے “ری مائیگریشن” کے وسیع تر سیاسی تصور سے جوڑا جا رہا ہے
برطانیہ میں ریفارم یو کے کی کامیابی نے اسی سیاسی تبدیلی کو مزید نمایاں کیا ہے،فرانس میں نیشنل ریلی مسلسل بڑی سیاسی قوت بنی ہوئی ہے، جبکہ اٹلی میں دائیں بازو حکومت کا حصہ ہے،یعنی امیگریشن مخالف سیاست اب صرف احتجاجی سیاست نہیں رہی، کئی ملکوں میں یہ اقتدار کی سیاست بن چکی ہے
اسپین میں حالیہ سیوٹا بحران نے بھی مسئلے کو سڑکوں تک پہنچا دیا،جولائی میں مراکش سے سیوٹا کی طرف 70,000 سے زیادہ افراد کے اچانک داخلے کے بعد امیگریشن کے سوال پر شدید سیاسی ردعمل سامنے آیا اور ستمبر میں اسپین کے مختلف شہروں میں بڑے احتجاج ہوئے،ہسپانوی حکومت نے اگرچہ اس واقعے کو مراکش کی باقاعدہ منصوبہ بندی قرار دینے کے لیے ٹھوس ثبوت نہ ملنے کی بات کی ہے، لیکن واقعے نے سرحدی تحفظ اور امیگریشن کے مسئلے کو دوبارہ قومی سیاست کے مرکز میں پہنچا دیا
اور اب “ری مائیگریشن” کا تصور بھی اسی ماحول میں زیادہ نمایاں ہو رہا ہے،اس کے حامی تارکین وطن کی واپسی، غیر قانونی امیگریشن میں کمی اور بعض صورتوں میں طویل عرصے سے مقیم غیر ملکی پس منظر رکھنے والے افراد کی واپسی تک کے مطالبات کر رہے ہیں،یہ تصور ابھی تمام مرکزی سیاسی جماعتوں کی پالیسی نہیں، لیکن انتہائی دائیں بازو کی سیاست میں اس کی موجودگی تیزی سے بڑھ رہی ہے
امریکہ میں بھی امیگریشن کے سوال نے روایتی سیاسی نقشے کو متاثر کیا ہے،نیویارک جیسی ریاست میں بھی ریپبلکن امیدوار بروس بلیک مین کی مہم کے لیے کرائے گئے حالیہ سروے میں گورنر کیتھی ہوکول 49.6% اور بلیک مین 45.7% پر تھے، یعنی فرق صرف 3.9 فیصد پوائنٹ رہ گیا،یہ آزاد سروے نہیں، اس لیے اسے انتخابی پیش گوئی نہیں کہا جا سکتا، لیکن ایک ایسے سیاسی ماحول میں جہاں نیویارک کو ڈیموکریٹس کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا ہے، اتنا قریب فرق یقیناً خطرے کی گھنٹی سمجھا جا سکتا ہے
اصل سوال یہ نہیں کہ امیگریشن اچھی ہے یا بری،امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپ کی معاشی ترقی میں امیگریشن کا کردار بہت بڑا ہے،اصل سوال یہ ہے کہ امیگریشن اور انضمام کے درمیان توازن کہاں قائم کیا جائے؟
اگر ایک معاشرہ لاکھوں لوگوں کو اپنے اندر جگہ دیتا ہے لیکن انہیں یہ نہیں بتاتا کہ اس معاشرے کے شہری اصول کیا ہیں، تو فاصلے پیدا ہوں گے،اگر تارکین وطن اپنی کمیونٹیز کو معاشرے کا حصہ بنانے کے بجائے مستقل طور پر الگ جزیرے بناتے جائیں تو مقامی آبادی میں اجنبیت کا احساس بڑھے گا،اور اگر مقامی آبادی ہر تارک وطن کو اسی فاصلے اور شک کی نظر سے دیکھنے لگے تو تعصب اور نفرت مزید گہری ہوگی
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں اصلاح ضروری ہو جاتی ہے،تارکین وطن کو یہ سمجھانا امتیاز نہیں کہ وہ نئے ملک کے قانون، صفائی، نظم، شہری آداب اور اجتماعی ذمہ داریوں کو اپنائیں،بلکہ یہی انضمام کا بنیادی تقاضا ہے،اور مقامی معاشرے کی ذمہ داری بھی اتنی ہی واضح ہے کہ وہ نئے آنے والے کو یہ اصول سیکھنے اور معاشرے کا حصہ بننے کا موقع دے
کیونکہ اگر یہ خلا خاموشی سے بڑھتا رہا تو اس کا نتیجہ صرف دو الگ الگ معاشروں کی صورت میں نہیں نکلے گا،اس کے بعد سیاست اس خلا کو اپنے لیے استعمال کرے گی،جرمنی، سویڈن، برطانیہ، فرانس اور اسپین میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اسی عمل کی مختلف شکلیں ہیں
اور تاریخ کا سبق یہ ہے کہ جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ روایتی سیاسی جماعتیں ان کے حقیقی مسائل نہیں سن رہیں تو وہ متبادل تلاش کرتے ہیں،اگر انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں ووٹ کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں تو جمہوری نظام میں انہیں روکنے کا راستہ صرف ایک ہے،مسائل کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کا حقیقی حل پیش کرنا
امیگریشن کا مسئلہ بھی اب اسی مقام پر پہنچ چکا ہے،اسے دبانے، چھپانے یا صرف نسل پرستی کا نام دے کر ختم نہیں کیا جا سکتا،نئے آنے والوں کو بھی بدلنا ہوگا، میزبان معاشروں کو بھی بہتر انضمام کے راستے پیدا کرنا ہوں گے، اور ریاستوں کو بھی یہ طے کرنا ہوگا کہ امیگریشن کتنی، کس رفتار سے اور کن شرائط کے ساتھ معاشرے میں جذب کی جا سکتی ہے،ورنہ آج کے چھوٹے چھوٹے سماجی فاصلے کل کی بڑی سیاسی خلیج بن سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید