مغرب کے دروازے بند ہوں تو مشرق کہاں جائے گا؟ امریکہ، یورپ، کینیڈا اور آسٹریلیا کی سخت ہوتی امیگریشن پالیسیوں نے غریب ملکوں کے سب سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے سامنے ایک نیا عالمی بحران کھڑا کر دیا
تحقیق و رپورٹ : آفاق فاروقی
دنیا میں ایک خاموش تبدیلی رونما ہو رہی ہے، امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا اور یورپ کے کئی ممالک امیگریشن کو ختم نہیں کر رہے، لیکن اس کے دروازے پہلے سے زیادہ محدود، مہنگے، منتخب اور ہنرمندی کی مخصوص ضرورتوں سے مشروط ضرور بنا رہے ہیں، اس تبدیلی کا سب سے گہرا اثر ان ملکوں کے شہریوں پر پڑ سکتا ہے جہاں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، معیاری روزگار محدود ہے، ریاستی اداروں پر اعتماد کمزور ہے اور تعلیم یافتہ نوجوان اپنے مستقبل کے لیے بیرون ملک جانے کو ایک بڑا اور اہم راستہ سمجھتے ہیں
یہ تصویر صرف مسلمانوں کی نہیں، لیکن مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور افریقہ کے بہت سے مسلم اکثریتی ممالک اس تبدیلی سے خاص طور پر متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان میں جنگ، سیاسی عدم استحکام، کمزور معیشت، روزگار کے محدود مواقع اور ریاستی اداروں کے مسائل نے کئی دہائیوں سے بیرون ملک ہجرت کا دباؤ پیدا کیا ہے، یمن، شام، افغانستان، عراق، سوڈان، صومالیہ اور لیبیا جیسے ممالک میں تنازعات اور ریاستی کمزوری نے ہجرت کو محض معاشی انتخاب کے بجائے بقا کا مسئلہ بھی بنایا ہے، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں صورتحال مختلف ہے، مگر تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوانوں کے لیے بیرون ملک مواقع طویل عرصے سے اہم معاشی راستہ رہے ہیں
اب مسئلہ یہ ہے کہ جن معاشروں کے نوجوان باہر نکل کر اپنی صلاحیت استعمال کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے مغرب پہلے جیسا کھلا نہیں رہا
امریکہ میں امیگریشن پالیسی کی سختی کئی سطحوں پر نظر آ رہی ہے،محکمہ خارجہ نے رواں سال 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا جاری کرنے کا عمل عارضی طور پر روکا تھا، اگرچہ 21 اگست کے عدالتی حکم کے بعد یہ پابندی قانونی طور پر ختم ہو گئی،اس کے باوجود ویزا انٹرویوز اور جانچ کا عمل وسیع پیمانے پر متاثر ہوا ہے اور امریکہ نے ہنگری اور پولینڈ میں امیگرنٹ ویزا کارروائی دوبارہ شروع کرتے ہوئے کئی دوسرے ممالک میں تاخیر برقرار رکھی ہے
کینیڈا نے بھی مکمل دروازے بند نہیں کیے، لیکن اس نے واضح طور پر امیگریشن کی رفتار کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
،2026 سے 2028 کے منصوبے کے تحت نئے عارضی کارکنوں اور بین الاقوامی طلبہ کی آمد کے اہداف کم کیے گئے ہیں، جبکہ مستقل رہائش کے لیے سالانہ ہدف 380,000 رکھا گیا ہے،حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اب ایسی امیگریشن کو ترجیح دے رہی ہے جو براہ راست لیبر مارکیٹ کی ضروریات پوری کرے، خصوصاً صحت، نئی ٹیکنالوجی اور ہنرمند شعبوں میں
برطانیہ میں بھی امیگریشن قوانین مسلسل سخت کیے جا رہے ہیں،ستمبر میں جاری ہونے والی نئی امیگریشن تبدیلیوں میں طلبہ، ہنرمند کارکنوں اور مختلف ویزا زمروں کے قواعد میں مزید تبدیلیاں شامل ہیں،تاہم اسی برطانیہ نے ایک مختلف سمت میں ایسا اقدام بھی کیا ہے جس کے تحت جدید غلامی یا استحصال کا شکار قرار پانے والے بعض تارکین وطن کارکنوں کو اپنے موجودہ ویزے کی مدت کے دوران دوسرے آجر کے لیے کام کرنے کی اجازت دی جائے گی،یعنی برطانوی پالیسی کا رخ صرف پابندی نہیں بلکہ ایک زیادہ منتخب اور کنٹرول شدہ امیگریشن نظام کی طرف ہے
آسٹریلیا کی صورت حال بھی اسی بڑی تبدیلی کا حصہ ہے، اگرچہ اسے ’’دروازے بند‘‘ کہنا درست نہیں ہوگا،ملک نے مستقل امیگریشن پروگرام کو ہنرمندی پر مرکوز رکھا ہے، جبکہ بیرون ملک سے آنے والی آبادی میں کمی بھی دیکھی گئی ہے،2024-25 میں آسٹریلیا کی خالص بیرون ملک ہجرت 306,000 رہی، جو ایک سال پہلے کے 429,000 سے نمایاں کم تھی،دسمبر 2025 تک بھی خالص بیرون ملک ہجرت سالانہ بنیاد پر 301,000 رہی، یعنی آسٹریلیا اب بھی بڑی تعداد میں تارکین وطن لے رہا ہے، مگر رفتار پہلے سے کم ہے
اس پوری تبدیلی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ مغربی دنیا امیگریشن کو اب محض انسانی ہمدردی یا آبادی بڑھانے کے معاملے کے طور پر نہیں دیکھ رہی،مکانوں کی قیمتیں، صحت کا نظام، تعلیم، بنیادی سہولتیں، اجرتیں، قومی سلامتی اور سیاسی ردعمل، سب امیگریشن پالیسی کا حصہ بن گئے ہیں
اور یہی وہ بحث ہے جہاں پاکستان، بھارت اور دوسرے ترقی پذیر ممالک کے لیے اصل سوال پیدا ہوتا ہے
بھارت اس وقت دنیا کی تیز رفتار بڑی معیشتوں میں شامل ہے،اپریل سے جون 2026 کی سہ ماہی میں بھارتی معیشت کی شرح نمو 7.8 فیصد رہی، جو ماہرین کی توقعات سے زیادہ تھی،نجی سرمایہ کاری، صارفین کے اخراجات اور مینوفیکچرنگ میں اضافہ بھی ریکارڈ ہوا
لیکن شرح نمو اور روزگار ایک ہی چیز نہیں ہیں،رائٹرز نے اسی 7.8 فیصد شرح نمو کے بعد یہ سوال اٹھایا کہ کیا یہ رفتار روزگار، نجی سرمایہ کاری اور بیرونی سرمائے میں اسی تناسب سے تبدیل ہو رہی ہے،سابق حکام اور ماہرین نے اعداد و شمار کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ حکومت نے نئے طریقۂ حساب کا دفاع کیا ہے
بھارت کے بارے میں یہ دعویٰ کہ ’’80 کروڑ لوگ مفت راشن پر ہیں‘‘ بھی درست تناظر کے ساتھ بیان ہونا چاہیے۔ سرکاری خوراکی پروگرام کے تحت تقریباً 81 کروڑ افراد کو اناج کی فراہمی کا نظام موجود ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ تمام لوگ بے روزگار یا انتہائی غریب ہیں،یہ ایک وسیع غذائی تحفظ کا پروگرام ہے،مگر دہلی یا ممبئی کے بارے میں یہ عمومی دعویٰ کہ ایک بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں کو بیت الخلا کے طور پر استعمال کرتے ہیں، کہیں اپنی حقیقت رکھتا ہے
اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے
بھارت میں ایک طرف عالمی معیار کی آئی ٹی کمپنیاں، انجینئرنگ ادارے، سائنس دان اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان پیدا ہو رہے ہیں، دوسری طرف بڑی نوجوان آبادی کے لیے مناسب معیار کی ملازمتیں پیدا کرنا ایک مسلسل چیلنج ہے،عالمی سطح پر بھی نوجوانوں کی روزگار کی صورتحال دباؤ میں ہے،عالمی ادارۂ محنت کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں 15 سے 24 سال عمر کے نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح 12.4 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ عرب ممالک میں یہ شرح 26.2 فیصد اور شمالی افریقہ میں 22.6 فیصد رہی
پاکستان کے لیے یہ سوال اور زیادہ حساس ہے، جہاں نوجوانوں میں بے روگاری کی شرح تقریباً تیرہ فیصد ہے ، اور ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ماہر، نرس، اکاؤنٹنٹ، استاد اور دوسرے تربیت یافتہ افراد بیرون ملک روزگار تلاش کرتے ہیں کیونکہ مقامی معیشت ہر سال پیدا ہونے والی انسانی صلاحیت کو مناسب تعداد میں معیاری ملازمتیں فراہم نہیں کر پاتی،جب مغربی ممالک اپنے امیگریشن دروازے محدود کرتے ہیں تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہوتا کہ چند ہزار ویزے کم ہو گئے،اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ترقی پذیر ملک کے ایک نوجوان کو اپنی تعلیم، ہنر اور محنت کو عالمی منڈی تک پہنچانے کے لیے نیا راستہ تلاش کرنا ہوگا
یہاں ایک تلخ تضاد پیدا ہوتا ہے
ایک طرف غریب ممالک اپنے بہترین نوجوانوں کو تیار کرنے میں اربوں روپے خرچ کرتے ہیں،دوسری طرف جب وہ ڈاکٹر، انجینئر یا کمپیوٹر ماہر بن جاتے ہیں تو ان کے لیے مقامی معیشت میں مناسب ملازمتیں موجود نہیں ہوتیں،وہ بیرون ملک جاتے ہیں تو ان کا ہنر کسی دوسرے ملک کی معیشت کو فائدہ پہنچاتا ہے،اور اب اگر امیر ممالک بھی امیگریشن محدود کر دیں تو غریب ملک کے پاس دوہرا نقصان رہ جاتا ہے،نہ ہنرمند نوجوانوں کو مناسب مقامی روزگار ملتا ہے اور نہ ہی بیرون ملک جانے کا راستہ پہلے جیسا آسان رہتا ہے
لیکن شاید اس بحران کا حل صرف ہجرت کے دروازے کھولنے میں نہیں بلکہ ایسا نظام بنانے میں ہے جس میں نوجوان کو اپنا مستقبل بنانے کے لیے ملک چھوڑنا ضروری نہ ہو
یہیں مصنوعی ذہانت ایک غیر معمولی موقع بن سکتی ہے
عالمی بینک کی 2026 کی عالمی ترقیاتی رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں مصنوعی ذہانت روزگار ختم کرنے کے بجائے موجودہ کارکنوں کی صلاحیت بڑھانے کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتی ہے،رپورٹ کے مطابق کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں موجودہ ملازمتوں میں تقریباً 4.5 فیصد کو جنریٹو مصنوعی ذہانت سے نمایاں خودکاری کا خطرہ ہے، جبکہ 16.2 فیصد ملازمتوں میں مصنوعی ذہانت سے پیداوار بڑھانے کی صلاحیت موجود ہے،ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں یہ ایک مختلف موقع پیش کرتا ہے
اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، مصر، اردن، یمن یا افریقہ کے کم آمدنی والے ممالک اگر صرف یہ سوچتے رہے کہ ان کے نوجوان امریکہ، یورپ یا آسٹریلیا کیسے جائیں گے تو وہ ایک محدود سوال کا جواب تلاش کر رہے ہوں گے،اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا ہم اپنے نوجوانوں کو اس قابل بنا سکتے ہیں کہ وہ کراچی، لاہور، اسلام آباد، ڈھاکہ، دہلی، قاہرہ یا صنعا میں بیٹھ کر عالمی معیشت کے لیے کام کریں؟
مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سکیورٹی، سافٹ ویئر، آن لائن تعلیم، ٹیلی میڈیسن، مالیاتی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ڈیزائن اور عالمی کاروباری خدمات اس کا ایک حصہ بن سکتے ہیں
ایک پاکستانی انجینئر کو لازماً دبئی، لندن یا نیویارک جانے کی ضرورت نہ ہو اگر وہ لاہور میں بیٹھ کر کسی جرمن کمپنی کے لیے انجینئرنگ ڈیزائن تیار کر سکتا ہے،ایک بھارتی پروگرامر کو لازماً سلیکون ویلی منتقل ہونے کی ضرورت نہ ہو اگر وہ حیدرآباد یا بنگلور سے عالمی کمپنی کے لیے کام کر سکتا ہے،ایک بنگلہ دیشی ڈاکٹر مصنوعی ذہانت سے معاون تشخیص کے ذریعے اپنے ملک میں زیادہ مریضوں تک بہتر طبی خدمات پہنچا سکتا ہے
لیکن یہاں بھی ایک بنیادی شرط ہے،مصنوعی ذہانت غریب ملکوں کی کمزور تعلیم، ناقص بجلی، سست انٹرنیٹ، کمزور اداروں اور بدعنوان انتظامیہ کا خود بخود علاج نہیں کرے گی
عالمی بینک نے بھی یہی انتباہ دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کے لیے بجلی، انٹرنیٹ، ڈیجیٹل مہارت، قابل اعتماد ادارے اور مقامی حالات کے مطابق ٹیکنالوجی ضروری ہے،اگر یہ بنیادیں موجود نہ ہوں تو مصنوعی ذہانت ملکوں کے درمیان اور ملکوں کے اندر عدم مساوات کو مزید بڑھا سکتی ہے
یہی وجہ ہے کہ موجودہ امیگریشن بحران کو صرف ’’مغرب مسلمانوں کے لیے دروازے بند کر رہا ہے‘‘ کے عنوان سے دیکھنا بھی تصویر کا صرف ایک حصہ ہوگا،حقیقت زیادہ پیچیدہ ہے،مغربی حکومتیں مجموعی طور پر امیگریشن کو کم، منظم اور زیادہ ہنرمندی پر مبنی بنانے کی کوشش کر رہی ہیں،مسلمان ممالک اور دوسرے ترقی پذیر ممالک اس عمل سے اس لیے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں کہ ان کی بڑی نوجوان آبادی کا ایک حصہ بیرون ملک مواقع پر انحصار کرتا ہے،کینیڈا کا منصوبہ واضح طور پر عارضی آمد کم کرنے کے ساتھ ساتھ ہنرمند افراد کو ترجیح دیتا ہے، جبکہ آسٹریلیا بھی اپنی مستقل امیگریشن میں ہنرمندی کو بنیادی اہمیت دے رہا ہے
اس منظرنامے میں سب سے بڑا خطرہ شاید سرحدوں کا بند ہونا نہیں، بلکہ مواقع کا غیر مساوی ہو جانا ہے
امیر خاندان اب بھی دنیا کے مختلف ممالک میں تعلیم، کاروبار، سرمایہ کاری اور رہائش کے راستے تلاش کر سکتے ہیں،سرمایہ پاسپورٹوں کی پابندیوں سے کہیں زیادہ تیزی سے سرحدیں عبور کرتا ہے،لیکن غریب اور متوسط طبقے کا نوجوان، جس کے پاس صرف اس کی ڈگری، ہنر اور محنت ہے، اس کے لیے امیگریشن کی ہر نئی پابندی ایک حقیقی دیوار بن جاتی ہے
اس لیے پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، یمن اور دوسرے ترقی پذیر ممالک کے لیے اصل سوال واشنگٹن، لندن، ٹورنٹو یا سڈنی کے دروازے نہیں بلکہ اپنے گھر کے دروازے ہیں
اگر ریاستیں تعلیم کو جدید معیشت کی ضرورتوں کے مطابق نہیں ڈھالتیں، یونیورسٹیوں کو تحقیق سے نہیں جوڑتیں، نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا نہیں کرتیں، کاروبار کے لیے قابل اعتماد ماحول نہیں بناتیں، بدعنوانی اور ادارہ جاتی کمزوری پر قابو نہیں پاتیں اور مصنوعی ذہانت کو قومی ترقی کی حکمت عملی کا حصہ نہیں بناتیں تو آنے والے برسوں میں ہجرت کا مسئلہ صرف امیگریشن کا مسئلہ نہیں رہے گا
یہ نوجوانوں، روزگار، ریاستی استحکام اور سماجی امن کا مسئلہ بن سکتا ہے
اور شاید آنے والے دور کی سب سے بڑی عالمی ہجرت یہ نہیں ہوگی کہ لاکھوں لوگ کشتیوں، ہوائی جہازوں یا ویزوں کے ذریعے مغرب پہنچیں گے،اصل مقابلہ اس بات پر ہوگا کہ کون سا ملک اپنے نوجوان کو اتنی تعلیم، اتنا ہنر، اتنے مواقع اور اتنی عزت دے سکتا ہے کہ وہ دنیا سے جڑنے کے لیے اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور نہ ہو
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں مصنوعی ذہانت ایک خطرہ بھی ہے اور ایک موقع بھی، اگر امیر ممالک سرحدیں زیادہ بند کرتے ہیں تو غریب ممالک کے پاس پہلی مرتبہ ایسا ڈیجیٹل راستہ موجود ہے جس کے ذریعے ان کا ہنر سرحد کے بغیر عالمی معیشت تک پہنچ سکتا ہے، مگر اس راستے پر چلنے کے لیے پہلے اپنے ملک کے اندر تعلیم، انٹرنیٹ، بجلی، اداروں اور روزگار کی بنیادیں مضبوط کرنا ہوں گی، اعلیٰ تعلیمی ادارے بنانے ہونگے ، اور سب سے بڑھکر میرٹ قائم کرنا ہوگا جو ، قانون انصاف کی بنیاد ہے اور امن ترقی خوشحالی کی حتمی ضمانت





