یورپ میں امیگریشن اور اسلام ایک بار پھر سیاست کے مرکز میں، برطانیہ میں برقعے کی پابندی سے جرمنی کے انتہائی دائیں بازو تک نئی لہر

یورپ میں امیگریشن اور اسلام ایک بار پھر سیاست کے مرکز میں، برطانیہ میں برقعے کی پابندی سے جرمنی کے انتہائی دائیں بازو تک نئی لہر

یورپ اور برطانیہ میں ان دنوں اسلام، مسلم اقلیتوں، پناہ گزینوں اور امیگریشن کے سوالات ایک بار پھر سیاسی بحث کے مرکز میں ہیں،گزشتہ 24 گھنٹوں کی بڑی یورپی خبروں کو یکجا کیا جائے تو ایک وسیع تصویر سامنے آتی ہے،برطانیہ میں امیگریشن مخالف مظاہرے اور چہرہ ڈھانپنے پر پابندی کی بحث، آسٹریا میں کم عمر طالبات کے حجاب پر پابندی، جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی انتخابی پیش قدمی اور سویڈن میں تارکین وطن کو ملک چھوڑنے کے لیے مالی ترغیب، یہ سب ایک ہی بڑے یورپی رجحان کی مختلف شکلیں ہیں
برطانیہ میں تازہ ترین تنازعہ ریفارم یو کے کے سربراہ نائجل فریج کے اس مطالبے سے پیدا ہوا ہے کہ عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے پر ملک گیر پابندی عائد کی جائے، جس میں انہوں نے برقعے کو بھی شامل کیا،فریج کا مؤقف ہے کہ چہرہ چھپانے سے شہری اعتماد اور عوامی سلامتی متاثر ہوتی ہے،یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈوور اور پورٹسماؤتھ کی بندرگاہوں پر انتہائی دائیں بازو کے گروہوں نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آنے والے پناہ گزینوں کے خلاف احتجاج کیا،پولیس پر بھی تنقید ہوئی کہ اسے ان مظاہروں کے بارے میں پہلے سے موجود اطلاعات کے باوجود مناسب انٹیلی جنس تیاری نہیں تھی
ان مظاہروں میں ایک غیر معمولی پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ برطانوی لائف بوٹ ادارے آر این ایل آئی کے رضاکاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا، حالانکہ یہی رضاکار انگلش چینل میں خطرناک صورتحال میں پھنسے تارکین وطن کو بچانے کے لیے کارروائیاں کرتے رہے ہیں،برطانوی حکام نے پولیس اور قومی سلامتی کے اداروں سے دائیں بازو کے ایسے گروہوں کی سرگرمیوں پر بہتر نگرانی کا مطالبہ کیا ہے
برطانیہ سے باہر آسٹریا میں بھی اسلام اور ریاستی پالیسی کا تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے،نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ 14 سال سے کم عمر طالبات کے حجاب پر پابندی عملی طور پر نافذ ہونے لگی ہے،حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد لڑکیوں کی آزادی اور حقوق کا تحفظ ہے، جبکہ آسٹریا کی مرکزی مسلم تنظیم نے اسے امتیازی قرار دیتے ہوئے آئینی عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے،خلاف ورزی کی صورت میں پہلے اسکول میں کارروائی اور بعد ازاں 150 سے 800 یورو تک جرمانے کی گنجائش رکھی گئی ہے
اس معاملے کی خاص اہمیت اس لیے بھی ہے کہ آسٹریا کی آئینی عدالت پہلے ہی کم عمر بچوں کے حجاب پر ایک سابقہ پابندی کو مذہبی امتیاز کے اصول کے خلاف قرار دے چکی ہے،موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس بار قانون تیار کرتے وقت آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھا گیا ہے، لیکن مسلم تنظیمیں اور طلبہ گروہ اس سے متفق نہیں
جرمنی میں صورتحال اس سے بھی زیادہ سیاسی شکل اختیار کر رہی ہے؟ریاست سیکسنی انہالٹ کے حالیہ انتخابات میں اے ایف ڈی نے تقریباً 44 فیصد ووٹ حاصل کیے، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی سیاست کے لیے ایک غیر معمولی انتخابی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے،پارٹی کی مہم میں امیگریشن مخالف جذبات ایک اہم عنصر رہے ہیں،اس نتیجے نے جرمنی میں اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ مرکزی دھارے کی جماعتیں انتہائی دائیں بازو کے بڑھتے ہوئے اثر کو کس طرح روک سکتی ہیں
سویڈن نے بھی امیگریشن کے معاملے میں سخت راستہ اختیار کیا ہے،حکومت نے غیر یورپی تارکین وطن کو رضاکارانہ طور پر اپنے ملک واپس جانے کے لیے 350,000 سویڈش کرونا تک دینے کی اسکیم شروع کی، لیکن 2026 میں اب تک صرف 171 افراد نے یہ پیشکش قبول کی ہے،حکومت اسے ان لوگوں کے لیے نئی زندگی شروع کرنے کا موقع قرار دیتی ہے جو سویڈن میں آباد ہونے یا معاشرے میں مکمل طور پر ضم ہونے میں کامیاب نہیں ہوئے، جبکہ ناقدین کے نزدیک اس کی عملی افادیت محدود ہے
اسی دوران فرانس میں تارکین وطن کے غیر قانونی سفر کا انسانی المیہ دوبارہ عدالتوں کے سامنے آ گیا ہے،پیرس میں 14 مبینہ انسانی اسمگلروں کے خلاف مقدمہ شروع ہوا ہے، جن پر 2021 میں انگلش چینل عبور کرنے کی کوشش کے دوران ایک کشتی کے ڈوبنے سے ہونے والی ہلاکتوں میں کردار ادا کرنے کا الزام ہے،اس سانحے میں کم از کم 31 افراد ہلاک یا لاپتا ہوئے تھے، جن میں عراقی کرد اور افغان شہری بھی شامل تھے اور ایک 7 سالہ بچی بھی متاثرین میں شامل تھی،یہ انگلش چینل میں تارکین وطن کے سفر کا اس نوعیت کا بدترین سانحہ تھا
یوں یورپ کی موجودہ تصویر میں ایک دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے،ایک طرف حکومتیں غیر قانونی امیگریشن، انسانی اسمگلنگ اور قومی سلامتی کے خدشات کو بنیاد بنا کر سرحدی اور امیگریشن قوانین سخت کر رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف مسلم تنظیمیں اور انسانی حقوق کے گروہ خبردار کر رہے ہیں کہ امیگریشن کے خلاف سیاسی مہمات کہیں مذہبی شناخت اور مسلم شہریوں کے خلاف عمومی رویوں میں تبدیل نہ ہو جائیں
خاص طور پر برطانیہ میں بندرگاہوں پر احتجاج، برقعے پر پابندی کا مطالبہ اور یورپ کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے مذہبی لباس اور پناہ گزینوں کے معاملے کو ایک ہی سیاسی بحث میں جوڑنا اس وسیع تبدیلی کی علامت ہے،یہ بحث اب صرف ’’امیگریشن کتنی ہونی چاہیے‘‘ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں قومی شناخت، مذہبی آزادی، خواتین کے حقوق، سرحدی سلامتی اور یورپی معاشروں کے مستقبل جیسے سوالات بھی شامل ہو گئے ہیں

قومی خبریں سے مزید