روس اور شمالی کوریا کے درمیان پہلی شاہراہ کھل گئی، بڑھتے اسٹریٹجک تعلقات کا نیا باب
روس اور شمالی کوریا نے اپنے درمیان پہلی باقاعدہ سڑک رابطے کے لیے نئے پل کا افتتاح کر دیا ہے تقریب میں دونوں جانب سے جھنڈوں سے سجے ٹرک نئے پل سے گزرے، جبکہ روسی وزیر اعظم میخائل میشوستین اور شمالی کوریا کے پریمیئر پاک تھائے سونگ نے ویڈیو رابطے کے ذریعے افتتاحی تقریب سے خطاب کیا
تقریباً 1 کلومیٹر طویل اور 2 لین پر مشتمل یہ پل دریائے تومین پر تعمیر کیا گیا ہے اور روس کے شہر خاسان کو شمالی کوریا کے علاقے تومن گانگ سے ملاتا ہے نئے راستے پر روزانہ تقریباً 300 گاڑیوں کی آمدورفت کی گنجائش ہوگی۔ اسے روسی فوجی اہلکار یاکوف نوویچینکو کے نام سے منسوب کیا گیا ہے
دونوں حکومتوں کے مطابق نیا زمینی رابطہ تجارت، سیاحت، مسافروں کی آمدورفت اور اقتصادی، سائنسی، تکنیکی اور ثقافتی تعاون میں اضافے کا ذریعہ بنے گا اس سے پہلے دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی زمینی رابطہ 1959 میں قائم ہونے والا ریلوے پل تھا جس کے باعث سڑک کے ذریعے براہ راست سامان کی ترسیل محدود تھی
نئے پل کی تعمیر کا معاہدہ 2024 میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے شمالی کوریا کے دورے کے دوران ہوا تھا، جبکہ تعمیراتی کام اپریل 2025 میں شروع کیا گیا پل روس کے مشرقی علاقوں کو شمالی کوریا کے اہم سرحدی اور بندرگاہی علاقوں سے بہتر انداز میں جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے
تاہم اس نئے رابطے کی اہمیت صرف تجارت تک محدود نہیں سمجھی جا رہی روس اور شمالی کوریا کے تعلقات یوکرین کی جنگ کے بعد نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں شمالی کوریا نے روس کی جنگی کوششوں کے لیے فوجی اور دیگر معاونت فراہم کی ہے، جبکہ روس اور پیانگ یانگ کے درمیان دفاعی اور تکنیکی تعاون بھی بڑھا ہے
نئے پل کے بارے میں بعض ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی زمینی آمدورفت سے تجارتی سامان کے ساتھ ایسی نقل و حمل بھی آسان ہو سکتی ہے جس کی مکمل نگرانی مشکل ہو، خصوصاً ایسے وقت میں جب شمالی کوریا پر بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں تاہم اس پل کے ذریعے کسی غیر قانونی یا پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والی سرگرمی کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا
روس کے لیے یہ رابطہ مشرقی سرحدی علاقوں میں تجارت اور رسد کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے، جبکہ شمالی کوریا کے لیے چین پر اپنے تجارتی انحصار کے علاوہ روس کے ساتھ اقتصادی تعلقات بڑھانے کا ایک نیا راستہ فراہم کرتا ہے موجودہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ ماسکو اور پیانگ یانگ کے درمیان تعلقات اب محض سیاسی حمایت تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کے لیے مستقل زمینی، اقتصادی اور اسٹریٹجک ڈھانچہ بھی تشکیل دیا جا رہا ہے





