سندھو دیش کے خلاف قرارداد روکنے پر پیپلز پارٹی پر سنگین الزام، حقیقت کیا ہے؟ سندھ اسمبلی میں اصل میں ہوا کیا؟
کراچی:کراچی میں سندھ کی سیاسی تاریخ کے ایک انتہائی حساس معاملے نے اچانک شدت اختیار کرلی ہے،سندھ اسمبلی میں ’’سندھو دیش‘‘ کے خلاف الگ قرارداد پیش کرنے کی کوشش ناکام بنائے جانے کے بعد پیپلز پارٹی پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ اس نے سندھو دیش کے خلاف قرارداد کی مخالفت کرکے دراصل علیحدگی پسند سوچ کی حمایت کی ہے
اصل میں گزشتہ ہفتے سندھ اسمبلی میں بحث کا آغاز سندھ کو تقسیم کرنے، نئے صوبے بنانے اور نئے انتظامی یونٹس قائم کرنے کی تجاویز کے تناظر میں ہوا،پیپلز پارٹی نے واضح طور پر سندھ کی موجودہ جغرافیائی وحدت کو برقرار رکھنے کا مؤقف اختیار کیا اور 3 ستمبر کو صوبائی اسمبلی نے ایسی قرارداد منظور کی جس میں سندھ کی تقسیم اور صوبے کے اندر نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے کی تمام تجاویز مسترد کردی گئیں
قرارداد پیپلز پارٹی کے رہنما نثار احمد کھوڑو نے پیش کی تھی،اس میں کہا گیا کہ سندھ ایک تاریخی اور ناقابل تقسیم وحدت ہے اور اس کے موجودہ جغرافیائی حدود میں کسی قسم کی تبدیلی قبول نہیں کی جائے گی،قرارداد کے وقت پیپلز پارٹی کے ارکان نے ’’سندھ دھرتی ماں‘‘ کے بینرز بھی اٹھا رکھے تھے
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی اسمبلی میں انتہائی واضح الفاظ میں کہا کہ سندھ کی جغرافیائی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،ان کا مؤقف تھا کہ سندھ کے مستقبل اور جغرافیائی حدود کے بارے میں فیصلہ سندھ کے منتخب نمائندے کریں گے
یہاں سے اصل تنازع شروع ہوتا ہے
ایم کیو ایم پاکستان کا مطالبہ تھا کہ قرارداد میں صرف سندھ کی تقسیم کی مخالفت نہ کی جائے بلکہ ’’سندھو دیش‘‘ سمیت تمام علیحدگی پسند تحریکوں کی بھی واضح اور دوٹوک مذمت کی جائے
سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے بحث کے دوران خود تجویز دی تھی کہ ایوان کو سندھ کی تقسیم کے ساتھ ساتھ ’’سندھو دیش‘‘ کے نعرے کو بھی مسترد کرنا چاہیے،یعنی ریکارڈ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ پیپلز پارٹی کے ایک اہم صوبائی وزیر نے خود سندھو دیش کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنے کی بات کی تھی
لیکن جب قرارداد پیش کرنے کا مرحلہ آیا تو ایم کیو ایم پاکستان اور جماعت اسلامی نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا،ان کا اعتراض یہ تھا کہ ان کی تجویز کردہ شقیں قرارداد میں شامل نہیں کی گئیں،اس کے بعد پیپلز پارٹی کی اکثریت نے اپنی قرارداد منظور کرلی تھی
ایم کیو ایم پاکستان کے رکن طٰہٰ احمد نے سندھ اسمبلی میں ’’سندھو دیش‘‘ کے خلاف الگ قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی، لیکن اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے انہیں قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہیں دی،اس پر ایم کیو ایم کے ارکان اسپیکر کی نشست کے سامنے جمع ہوگئے، نعرے لگائے اور شدید احتجاج کیا،بعد میں ’’سندھو دیش نامنظور‘‘ کے نعرے بھی اسمبلی میں گونجتے رہے
یہی وہ واقعہ ہے جس نے سیاسی تنازع کو جنم دیا
ایم کیو ایم کا مؤقف ہے کہ اگر پیپلز پارٹی واقعی سندھو دیش کے نظریے کے خلاف ہے تو پھر اسے سندھو دیش کے خلاف قرارداد پیش کرنے سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں تھی،اس کے نزدیک اسمبلی میں ایسی قرارداد کو روکنا سیاسی طور پر انتہائی مشکوک عمل ہے
دوسری طرف پیپلز پارٹی کا جواب بالکل مختلف ہے
صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے ایم کیو ایم پر الزام لگایا کہ وہ ایک ایسی قرارداد کو متنازعہ رنگ دے رہی ہے جو دراصل سندھ کی تاریخی اور جغرافیائی وحدت کے تحفظ اور وفاق کو مضبوط کرنے کے لیے منظور کی گئی،انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کی اجازت نہیں دے گی اور ’’سندھو دیش یا جناح پور‘‘ جیسے منصوبوں کے مقابلے میں ملک کا دفاع کرنا جانتی ہے
یہاں ایک اہم سیاسی تضاد بھی سامنے آتا ہے
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیپلز پارٹی پر ’’دوہری پالیسی‘‘ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے،ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں سرائیکی صوبے کے معاملے پر حمایت یا نرم رویہ رکھتی ہے، لیکن جب سندھ میں انتظامی یونٹس کی بات آتی ہے تو ’’سندھو دیش‘‘ کا حوالہ سامنے آجاتا ہے،خواجہ آصف نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی اس پالیسی کی تشریح وقت آنے پر کی جائے گی
یعنی موجودہ تنازع دراصل سندھو دیش کی حمایت یا مخالفت سے زیادہ پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے گرد گھوم رہا ہے
پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کو سختی سے مسترد کر رہی ہے،ایم کیو ایم پاکستان کہتی ہے کہ سندھ کو تقسیم کرنے کے بجائے انتظامی اصلاحات، بااختیار بلدیاتی نظام اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ضروری ہے،وفاقی حکومت کے بعض رہنما ملک میں نئے انتظامی یونٹس کو ناگزیر قرار دے رہے ہیں
اس پورے معاملے میں ایک اور اہم حقیقت یہ ہے کہ سندھ اسمبلی نے ماضی میں بھی سندھ کی تقسیم کے خلاف متعدد قراردادیں منظور کی ہیں،پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن کے مطابق سندھ اسمبلی 2012، 2014، 2019 اور اب 2026 میں بھی سندھ کی تقسیم کے خلاف اپنا مؤقف دہرا چکی ہے
البتہ یہ کہنا درست ہے کہ پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم پاکستان کو سندھو دیش کے خلاف الگ قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہیں دی، اور اسی فیصلے نے ایک شدید سیاسی تنازع کو جنم دیا،یہ اقدام سیاسی طور پر قابل بحث ضرور ہے اور اس پر پیپلز پارٹی سے سوال اٹھایا جاسکتا ہے، لیکن اسے براہ راست سندھو دیش کی حمایت کا ثبوت قرار دینا فی الحال صحافتی اور فیکٹ چیک کے معیار پر درست نہیں ہوگا
اصل سوال اب یہ بن گیا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی سندھو دیش کے نظریے کو مسترد کرتی ہے تو پھر ایم کیو ایم کی اس مخصوص قرارداد کو ایوان میں پیش کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ پیپلز پارٹی کے اپنے وزیر ناصر حسین شاہ پہلے ہی سندھو دیش کے نعرے کو مسترد کرنے کی تجویز دے چکے تھے،اس کے باوجود جب ایم کیو ایم نے اسی مقصد کے لیے الگ قرارداد پیش کرنا چاہی تو اسپیکر نے اسے روک دیا
چنانچہ موجودہ بحران کا سب سے درست خلاصہ یہ ہے
پیپلز پارٹی نے سندھو دیش کی حمایت کا اعلان نہیں کیا،اس نے سندھ کی تقسیم اور نئے صوبے کے قیام کے خلاف قرارداد منظور کرائی،لیکن اسی دوران ایم کیو ایم کو سندھو دیش کے خلاف الگ قرارداد پیش کرنے سے روک دیا گیا، جس نے پیپلز پارٹی کے سیاسی مؤقف پر سوالات اٹھا دیے اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کو بھی پیپلز پارٹی پر دوہری پالیسی کا الزام لگانے کا موقع فراہم کیا
یہ معاملہ اب محض سندھ اسمبلی کی ایک قرارداد نہیں رہا بلکہ پاکستان میں نئے صوبوں، انتظامی اختیارات کی تقسیم، سندھ کی جغرافیائی وحدت اور وفاقی سیاست کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش کا نیا مرکز بن گیا ہے





