ڈیٹا سینٹرز اور ٹرمپ کا ’’بگ بیوٹی فل بل‘‘، ڈیموکریٹس نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی کمزوریاں پکڑ لیں
امریکی ڈیموکریٹس نے 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکنز کے خلاف 2 ایسے سیاسی محاذ تلاش کر لیے ہیں جن پر عوامی ناراضگی بڑھ رہی ہے،مصنوعی ذہانت کے لیے تیزی سے بنائے جانے والے بڑے ڈیٹا سینٹرز اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ’’ون بگ بیوٹی فل بل‘‘
ڈیٹا سینٹرز کے خلاف مختلف ریاستوں میں بجلی کے بڑھتے نرخ، پانی کے استعمال، زمین اور مقامی وسائل پر دباؤ کے باعث عوامی ردعمل بڑھ رہا ہے،ڈیموکریٹس اس غصے کا رخ ریپبلکنز کی طرف موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کی توسیع کی حمایت کرتے ہیں
دوسرا محاذ ٹرمپ کے بڑے ٹیکس و اخراجاتی قانون کا ہے،ڈیموکریٹس خاص طور پر اس میں شامل ’’آپرچونٹی زون‘‘ پروگرام کو نشانہ بنا رہے ہیں، جسے ریپبلکنز نے معاشی سرمایہ کاری اور روزگار بڑھانے کا ذریعہ قرار دیا تھا، مگر ناقدین اسے امیر سرمایہ کاروں کے لیے ٹیکس فوائد کا راستہ سمجھتے ہیں
یوں ڈیموکریٹس کوشش کر رہے ہیں کہ ڈیٹا سینٹرز سے پیدا ہونے والی مقامی پریشانیوں اور ٹرمپ کے بڑے قانون کے معاشی اثرات کو ریپبلکن امیدواروں کے خلاف ایک وسیع انتخابی پیغام میں تبدیل کیا جائے، خاص طور پر ان ریاستوں اور اضلاع میں جہاں چند نشستیں کانگریس کا توازن بدل سکتی ہیں





