مودی، پزشکیان ملاقات پر امریکہ کا سخت ردعمل، مارکو روبیو نے ایران کی مدد کرنے والے ممالک کو خبردار کردیا
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان بشکیک میں ہونے والی اہم ملاقات پر امریکہ نے محتاط مگر واضح ردعمل دیتے ہوئے ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک کو خبردار کیا ہے،امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ بھارت اور ایران اس وقت کسی تجارتی معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں، تاہم واشنگٹن ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے رابطوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے
روبیو کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر پزشکیان سے ملاقات کی،دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورت حال، جنگ کے خاتمے، امن و استحکام، تجارت اور آزادانہ بحری نقل و حرکت سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی،بھارتی حکومت کے مطابق مودی نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تمام تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا
ایرانی صدر نے اس ملاقات میں امریکہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن جنگ جاری رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کو ختم ہونا چاہیے،پزشکیان نے مودی سے کہا کہ بھارت کے خطے اور عالمی سطح پر وسیع سفارتی روابط ہیں، اس لیے وہ فریقین کو جنگ اور خونریزی سے دور رکھنے میں کردار ادا کرے
امریکی ردعمل کا سب سے اہم پہلو مارکو روبیو کی وہ وارننگ ہے جس میں انہوں نے کہا کہ کوئی ملک ایران کی مدد نہ کرے،واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ایران کو اقتصادی یا دیگر معاونت فراہم کرنا امریکہ کی عائد کردہ پابندیوں اور خطے میں جاری تنازع کے تناظر میں سنگین نتائج پیدا کرسکتا ہے
تاہم روبیو نے مودی اور پزشکیان کی ملاقات کو فوری طور پر کسی بڑے تجارتی یا اسٹریٹیجک معاہدے کی علامت قرار دینے سے گریز کیا،انہوں نے واضح کیا کہ انہیں ایسا نہیں لگتا کہ بھارت اور ایران فی الوقت کسی تجارتی معاہدے پر بات کر رہے ہیں
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بھارت کے لیے ایران کی اہمیت صرف سفارتی نہیں بلکہ اقتصادی اور جغرافیائی اعتبار سے بھی بڑھ گئی ہے،ایران بھارت کو وسطی ایشیا اور افغانستان تک زمینی و بحری رسائی کے لیے ایک اہم راستہ فراہم کرتا ہے، جبکہ موجودہ علاقائی جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے توانائی اور تجارت کے متبادل راستوں کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے
مودی اور پزشکیان کی ملاقات سے ایک اہم سفارتی پیغام بھی سامنے آیا ہے کہ بھارت امریکہ کے ساتھ اپنے گہرے تعلقات برقرار رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ اپنے دیرینہ اقتصادی اور علاقائی مفادات کو بھی مکمل طور پر ترک کرنے کے لیے تیار نہیں،دوسری جانب واشنگٹن کی جانب سے یہ کہنا کہ کسی ملک کو ایران کی مدد نہیں کرنی چاہیے اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ آنے والے دنوں میں ایران کے ساتھ بھارت سمیت دوسرے ممالک کے بڑھتے ہوئے روابط کو زیادہ قریب سے دیکھ سکتا ہے





