چینی صدر شی جن پنگ مصر پہنچ گئے، ایران سے تعلقات پر امریکی پابندیوں کا خطرہ منڈلانے لگا
قاہرہ: چین کے صدر شی جن پنگ منگل کی شام مصر پہنچ گئے جہاں ان کے دورے کا آغاز ایسے وقت میں ہوا ہے جب چین اور مصر دونوں کو ایران کے ساتھ مالی اور تجارتی روابط کے باعث نئی امریکی پابندیوں کا خطرہ درپیش ہے،شی جن پنگ کا یہ ایک دہائی بعد مصر کا پہلا دورہ ہے اور دونوں ممالک اس سال سفارتی تعلقات کے 70 سال بھی مکمل کر رہے ہیں
یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کرچکی ہے اور واشنگٹن نے ایران کے مالی اور تجارتی معاونین کے خلاف پابندیوں کا دائرہ وسیع کرنے کی دھمکی دی ہے،امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کاروباری روابط رکھنے والے اداروں اور مالیاتی اداروں کو بھی امریکی پابندیوں کا سامنا ہوسکتا ہے،چین ایران کا ایک بڑا تیل خریدار ہے جبکہ مصر بھی ایران سے متعلق مالی معاملات کے باعث امریکی دباؤ کی زد میں آچکا ہے
شی جن پنگ کے دورۂ مصر کو صرف دو طرفہ تعلقات کا دورہ نہیں سمجھا جارہا بلکہ اسے مشرق وسطیٰ میں چین کے بڑھتے ہوئے سیاسی اور معاشی اثر و رسوخ کی علامت بھی قرار دیا جارہا ہے،چین نے حالیہ برسوں میں مصر میں بنیادی ڈھانچے، توانائی، صنعت اور دیگر شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت بھی تیزی سے بڑھی ہے
مصر چین کے لیے اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ وہ نہ صرف عرب دنیا کی ایک بڑی سیاسی طاقت ہے بلکہ نہر سویز کے ذریعے عالمی تجارت کے اہم ترین راستے پر واقع ہے،آبنائے ہرمز میں جاری بحران کے باعث نہر سویز اور بحیرہ احمر کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ چین اپنی توانائی اور تجارتی رسد کے راستوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مشرق وسطیٰ میں زیادہ فعال کردار چاہتا ہے
چین اور مصر دونوں فلسطینی ریاست کے قیام اور 2 ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ بیجنگ نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی میں بھی سفارتی کردار ادا کیا تھا،اس پس منظر میں قاہرہ چین کے لیے مشرق وسطیٰ میں ایک اہم سیاسی رابطہ کار اور علاقائی طاقت کے طور پر سامنے آتا ہے
شی جن پنگ کا دورہ ایسے وقت میں چین اور امریکہ کے درمیان ایک بڑے سفارتی امتحان کی حیثیت بھی رکھتا ہے،واشنگٹن ایک طرف اپنے اتحادی مصر کو ایران پر معاشی دباؤ میں شامل کرنا چاہتا ہے، جبکہ بیجنگ ایران کے ساتھ اپنے توانائی اور تجارتی روابط برقرار رکھتے ہوئے مصر جیسے امریکی اتحادی ممالک کے ساتھ بھی تعلقات مضبوط کررہا ہے
یوں شی جن پنگ کا قاہرہ کا دورہ مشرق وسطیٰ میں بدلتے ہوئے طاقت کے توازن کی ایک اہم علامت بن گیا ہے، جہاں امریکہ ایران پر دباؤ بڑھا رہا ہے، جبکہ چین جنگ اور پابندیوں کے ماحول میں اپنی معاشی رسائی، سفارتی اثر و رسوخ اور علاقائی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کی کوشش کررہا ہے





