عاقب جاوید نے انگلینڈ میں پاکستان کی ناقص کارکردگی کو ٹیم میں ہنگامی تبدیلیوں کی وجہ قرار دے دیا
کراچی: پاکستان کرکٹ ٹیم کے قومی سلیکٹر عاقب جاوید نے انگلینڈ کے خلاف سیریز کے دوران ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے 2 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی انگلینڈ کا مقابلہ کرنے میں ناکامی نے سلیکٹرز کو آخری ٹیسٹ سے قبل ٹیم کی تشکیل اور ’’ذہنیت‘‘ دونوں تبدیل کرنے پر مجبور کیا
پاکستان کرکٹ بورڈ نے سیریز کے دوران ریڈ بال کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد کو عہدے سے ہٹا کر وائٹ بال کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کو ذمہ داری سونپ دی، 7 کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیج دیا جبکہ بولنگ کوچ عمر گل کی جگہ آسٹریلوی کوچ ایشلے نوفکے کو مقرر کردیا،آخری ٹیسٹ سے صرف ایک میچ پہلے اتنی بڑی تبدیلیوں پر سابق کرکٹرز اور کوچز نے سخت سوالات اٹھائے ہیں
سلیکشن کمیٹی کے رکن مصباح الحق بھی ان تبدیلیوں کے بارے میں مبینہ طور پر اعتماد میں نہ لیے جانے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے
ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے عاقب جاوید نے تسلیم کیا کہ ابتدائی طور پر منتخب کیے گئے 17 رکنی اسکواڈ کی ذمہ داری سلیکٹرز پر عائد ہوتی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ دورۂ انگلینڈ کے دوران ٹیم انتظامیہ وہ فیصلے کرنے میں ناکام رہی جو خراب کارکردگی کے بعد ضروری تھے
عاقب جاوید کے مطابق سلیکٹرز کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ آخری ٹیسٹ کے لیے صرف کھلاڑیوں میں تبدیلی کافی نہیں ہوگی بلکہ ٹیم کے مجموعی انداز اور سوچ میں بھی تبدیلی لانا ضروری ہے
پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس اقدام نے تاہم ایک بنیادی سوال پیدا کردیا ہے کہ اگر سلیکٹرز کو ابتدائی 17 رکنی اسکواڈ پر اعتماد تھا تو سیریز کے درمیان میں اتنے بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی ضرورت کیوں پیش آئی،سابق کھلاڑیوں اور کوچز کا مؤقف ہے کہ ٹیسٹ سیریز کے دوران کوچنگ اسٹاف اور کھلاڑیوں میں اس طرح کی اکھاڑ پچھاڑ ٹیم کے اندر استحکام کے بجائے مزید بے یقینی پیدا کرسکتی ہے
عاقب جاوید نے اگرچہ تبدیلیوں کا دفاع کیا ہے، لیکن ان کے بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سلیکشن کمیٹی خود بھی انگلینڈ کے خلاف ابتدائی 2 ٹیسٹوں میں پاکستان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھی،اب آخری ٹیسٹ میں نئی ٹیم اور نئی حکمت عملی کی کامیابی ہی اس غیر معمولی فیصلے کے حق یا مخالفت میں سب سے بڑا عملی جواب ثابت ہوگی





